***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 68    بنک میں ڈپازٹ (فکسڈ )کرنا
مقام : ریاض,
نام : ابراہیم
سوال:     حضرت میں ایک معمولی آدمی ہوں ،سعودیہ میں سیلس مین کا جاب کرتا ہوں ،میری شادی ہوچکی ہے ،کیا میں کچھ پیسے بنک میں ڈپازٹ (فکسڈ ) کرواسکتا ہوں،کیا یہ جائز ہے ؟ مہربانی فرما کر جواب جلد روانہ فرمائیں
............................................................................
جواب:     :اللہ تعالی نے بیع کو حلال فرمایا اور سود کوحرام قراردیا ،ارشاد مقدس ہے
:واحل اللہ البیع وحرم الربوا۔
(سورۃ البقرۃ ۔275)۔
بنک میں ڈپازٹ کروانے سے متعلق اسلامی مملکت اور غیر اسلامی مملکت کے اعتبار سے احکام مختلف ہیں ،چونکہ غیر اسلامی مملکت میں بیوع فاسدہ جائز ہیں اور کسی غیر مسلم کے ساتھ معاملہ کرنے پر بغیر دھوکہ دہی کے زائد رقم حاصل ہو جائے تو یہ سود نہیں کہلاتی بلکہ جائزومباح ہے –
اسلامی مملکت میں غیر مسلم کے ساتھ معاملہ کرنے پر زائد رقم حاصل ہو تو وہ سود کہلاتی ہے جو ناجائز وحرام ہے چنانچہ غیر اسلامی مملکت میں غیر مسلم مالیاتی ادارے اور غیر مسلم بنک میں رقم ڈپازٹ کروانے پر جو زائد رقم حاصل ہوتی ہے وہ ازروئے شرع شریف سود کی تعریف میں داخل نہیں ، لہذا اس کو استعمال کیا جاسکتا ہے ، البتہ اسلامی مملکت میں موجود مالیاتی ادارے اور بنک خواہ مسلمانوں کے ہوں یا غیر مسلموں کے اس میں رقم ڈپازٹ کروانے پر جو زائد رقم ملتی ہے وہ سود کہلاتی ہے جو ناجائز وحرام ہے ، چنانچہ اس رقم کو صدقہ کرنا واجب ہے ، اپنے استعمال میں نہیں لاسکتے-
جیساکہ علامہ برہان الدین فرغانی رحمۃ اللہ علیہ نے  ہدایہ شریف ج3 ،ص86، میں  حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک نقل فرمایا
: ولنا قولہ علیہ السلام ''لاربوا بین المسلم والحربی فی دارالحرب '' ولان مالھم مبا ح فی دارھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا اذالم یکن فیہ غدر بخلاف المستامن منھم لان مالھ صار محظورا بعقد الامان۔

واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com