***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > غصب کا بیان

Share |
سرخی : f 70    دھوکہ دھی کے ذریعہ ملازمت حاصل کرنا
مقام : hyd,
نام : mohd fazil
سوال:     السلام علیکم مفتی صاحب قبلہ! دھوکہ دھی کے ذریعہ ملازمت حاصل کرناھے
............................................................................
جواب:     جھوٹ اور دھوکہ دھی خواہ عام حالات میں ہوں یا ملازمت کے حصول کے وقت ہرحال میں حرام ہے- حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا :
من غشنا فليس منا-
ترجمہ :  جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں-
(صحیح مسلم ،كتاب الإيمان ،باب قول النبي صلى الله عليه وسلم من غشنا فليس منا، حدیث نمبر:146)
دھوکہ دھی کے ذریعہ ملازمت حاصل کرنا شرعاً ناجائزوحرام ہےالبتہ اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ حلال ہے –
جس طرح زمین غصب کرکے مغصوبہ  زمین مین نماز ادا کی جائے تو نماز ادا ہوجائے گی لیکن غصب کا گناہ رہےگا-اسی طرح دھوکہ دھی کے ذریعہ ملازمت حاصل کرنا گناہ ہے اور محنت پر  حاصل ہونے والی تنخواہ حلال ہے-
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com