***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 718    ماہ شوال کے روزوں کی فضیلت اور حکم
مقام : گنٹور,
نام : محمدوجیہ الدین
سوال:    

میں شوال کے روزوں کی فضیلت معلوم کرنا چاہتا ہوں دوسری بات یہ ہے کہ شوال کے روزے عید کے بعد مسلسل چھ دن رکھے جاتے ہیں لیکن ایک صاحب نے بتایا کہ نفل روزے مسلسل نہیں رہنا چاہئے۔برائے مہربانی اس بارے میں جواب عنایت فرمائیں کہ شوال کے روزے ایک ساتھ چھ دن رہیں یا الگ الگ؟صحیح طریقہ کیا ہے؟


............................................................................
جواب:    

رمضان المبارک کے ساتھ شوال المکرم کے چھ روزوں کا اہتمام کرنے والوں کے لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت عطا فرمائی ہے کہ انہیں سال تمام روزہ رہنے کا اجر وثواب حاصل ہوتا ہے ۔صحیح مسلم شریف ج 1 ص 369 میں حدیث پاک ہے: عَنْ أَبِى أَيُّوبَ الأَنْصَارِىِّ رضى الله عنه أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ ". ترجمہ:حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ زمانہ بھر روزے رہنے کے برابر ہے۔ نفل روزوں کے سلسلہ میں فقہائے کرام نے بیان کیا ہے کہ ایک دن کے وقفہ سے نفل روزے رہنا افضل ہےماہ شوال کے چھ روزے علٰحدہ علٰحدہ رکھنے کا طریقہ یہ بتلایا گیاکہ ہر ہفتہ میں دوروزے رکھے جائیں ۔علاوہ ازیں اگر کوئی مسلسل چھ روزے رکھناچاہے تو اس میں کوئی کراہت بھی نہیں ہے۔ درمختار ج 2 ص136 میں ہے ( وَنُدِبَ تَفْرِيقُ صَوْمِ السِّتِّ مِنْ شَوَّالٍ ) وَلَا يُكْرَهُ التَّتَابُعُ عَلَى الْمُخْتَارِ نفل روزوں سے متعلق فتاوی عالمگیری ج 1 ص 201 میں ہے والا فضل ان یصوم یوماویفطر یوما۔ نیز ستہ شوال کے متعلق فتاوی عالمگیری ج 1 کے اسی صفحہ پر ہے وتستحب الستۃ متفرقۃ کل اسبوع یوما ن۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com