***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 791    ایام قربانی میں قربانی کرنا بھول جائے تو کیا کریں ؟
مقام : انڈیا,
نام : علیم
سوال:    

حضرت مفتی صاحب میر ایک سوال ہے کہ میرے بھائی پر قربانی واجب تھی لیکن انہوں نے کچھ مصروفیات کی وجہہ سے قربانی نہیں دے سکے یعنی انہوں نے یہ سمجھاکہ میرے چھوٹے بھائی نے میری طرف سے قربانی دے دی لیکن انہوں قربانی صرف اپنی ہی طرف سے دی ۔ اب ان کے لئے کیا حکم ہے جبکہ قربانی کا وقت بھی گزر چکا ۔


............................................................................
جواب:    

کسی شخص پر قربانی واجب ہونے کے باوجود ایام قربانی میں اس نے قربانی نہیں کی‘ قربانی کا جانور نہیں خریدا‘ اوراسی طرح ایام قربانی گزر گئے تو چونکہ یہ واجب قربانی ہے اس لئے اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوگی بلکہ اس کے لئے قربانی کے جانور کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں درمختار برحاشیہ ردالمحتار ج5 ،کتاب الأضحیۃ ص 226 میں صراحت ہے: ۔ ۔ ۔ (و) تصدق (بقیمتھا غنی شراھا اولا) ۔ ۔ ۔ فالمراد بالقیمۃ قیمۃ شاۃ تجزی فیھا۔ ترجمہ: مالدار شخص نے قربانی نہیں کی اور ایام قربانی گزر گئے تو وہ قربانی میں دی جانے والی ایک بکری کی قیمت صدقہ کرے۔ لہٰذاجس نے اپنے مشاغل کی وجہ یا کسی اور سبب سے صاحب استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی وہ ایک جانور کی قیمت صدقہ کردیں اور اپنی شرعی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائیں۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ،  شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔ 

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com