***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 805    نماز عصر کے بعد سونا کیسا ہے ؟
مقام : ,
نام : عبداللہ
سوال:    

کیا عصر کی نماز کے بعدسے مغرب تک سوسکتے ہیں؟کیا ایسی کوئی حدیث پاک ہے کہ جسمیں عصر کے بعد سونے کی ممانعت ہو؟


............................................................................
جواب:    

جواب: دن میں جو فرشتے بندوں کے پاس رہتے ہیں وہ نمازعصر میں رخصت ہوتے ہیں اور رات کے فرشتے بھی نماز عصر میں آجاتے ہیں ، پھر نماز فجر میں رات کے فرشتے رخصت ہوتے ہیں اور دن کے فرشتے آجاتے ہیں ، اس طرح نماز فجر اورنمازعصر کے بعد دن ورات کے فرشتوں کا اجتماع ہوا کرتا ہے ، جیساکہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے ؛ عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: يتعاقبون فيكم ملائكة بالليل وملائكة بالنهار ويجتمعون في صلاة الفجر وصلاة العصر ثم يعرج الذين باتوا فيكم فيسألهم وهو أعلم بهم كيف تركتم عبادي ؟ فيقولون تركناهم وهم يصلون وأتيناهم وهم يصلون ترجمہ ؛ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ تم میں کچھ فرشتے رات میں اور کچھ فرشتے دن میں باری باری آتے رہتے ہیں ، اور نماز فجر ونماز عصر میں اکٹھے ہوتے ہیں ، پھر جن فرشتوں نے تمہارے پاس رات گزاری وہ اوپر چڑھتے ہیں تو ان کا رب اُن سے دریافت کرتا ہے جبکہ وہ بہتر جاننے والا ہے ؛ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا تو وہ کہتے ہیں ہم نے اُنہیں اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اُن کے پاس گئے جبکہ وہ نماز میں مشغول تھے ۔ ﴿صحیح بخاری شریف ، کتاب مواقیت الصلوة ، باب فضل صلوة العصر، حدیث نمبر؛ 530﴾ نماز عصر کے بعد سوناشرعاً ممنوع وناجائز تو نہیں لیکن یہ وقت فرشتوں کی آمد کی وجہ سے مبارک ہوتا ہے ، لہذا نماز عصر کے بعد آرام کرنا ،مناسب نہیں ۔ نمازعصر کے بعد سونے کی ممانعت والی کوئی روایت ہماری ناقص نظر سے نہیں گزری۔ واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com