***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 81    حرمین شریفین کے آداب سے متعلق ایک ضروری ہدایت
مقام : نیوآغاپورہ،  حیدرآباد،  انڈیا,
نام : محمدفاروق
سوال:     حج وعمرہ کے وقت دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ مسجد نبوی شریف سے نکلتے وقت اپنی چپل وغیرہ اس طرح زمین پر ڈالتے ہیں کہ اس کی وجہ سے کافی آوازہوتی ہے،  کیا یہ طریقہ درست ہے؟ کسی بھی مسجد میں چپل وغیرہ پٹخنا خاص کر مسجد نبوی شریف میں اس طرح کا عمل کیسا ہے؟ اور یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض زائرین مسجد نبوی  میں اپنے کسی شناسائی کو دیکھتے ہیں تواسے دورسے آوازدیتے ہیں ،  اس بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں تشفی بخش جواب تحریر فرمائیں تو موجب تشکر ہوگا ؟  
............................................................................
جواب:     کسی بھی کام کواطمنان وآہستگی اوروقاروشائستگي کے ساتھ کرناچاہئے،  عجلت وبے وقاری طبیعت سلیمہ کے لئے پسند نہیں،  حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام امور کو اطمنان ووقار کے ساتہ انجام دیتے چنانچہ صحیح مسلم شریف ج1،کتاب الجنائز، فصل فی التسلیم علی اھل القبور والدعاءوالاستغفارلہم ،ص313 ،میں طویل روایت کا ایک جزملاحظہ ہو: ۔۔۔۔  فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا -/font> >
ترجمہ :ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں ،حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے اپنی چادرمبارک لی،  اطمنان سے نعلین مبارک پہنی،  آہستہ دروازہ کھول کر باہر تشریف لے گئے پھر آہستہ سے دروازہ بند کیا-
(صحیح مسلم شریف ،ج1، کتاب الجنائز، فصل فی التسلیم علی اھل القبور والدعاءوالاستغفارلہم ص313،حدیث نمبر:974 )
کسی موقع پر چپل وغیرہ پٹخنا یا زمین پر اس طرح سے زور سے رکھنا کہ جس سے آواز آئے ناپسندیدہ ہے،  اور مساجد سے نکلتے وقت یہ عمل حد درجہ ناپسندیدہ ہے،  مسجد میں داخل ہوتے وقت،   نکلتے وقت اور اندرون مسجد اس کے آداب کو ملحوظ رکھاجائے ایسی کوئی آواز نہ کی جائے جس سے نمازیوں اورذکروتلاوت کرنے والوں کوخلل ہو،  لہذاچپل وغیرہ رکھتے وقت آہستگی ووقار کو پیش نظر رکھنا چاھئیے ، یہ عام مساجد کے احکام ہیں اور بالخصوص مسجد نبوی شریف علی صاحبہ افضل الصلوۃ والسلام اور مسجد حرام شریف کے آداب تو دیگر مساجد کے بالمقابل زائد ہیں اس لئے حجاج کرام وزائرین حضرات کو چپل پہنتے وقت اور رکھتے وقت  ان مقامات مقدسہ کی قربت کا لحاظ کرتے ہوئے اس طرح کی غفلت ولاپرواہی سے مکمل طور پر احتیاط برتنی چاہئیے کہ کہیں یہ عمل سوئے ادبی قرار پاکر دنیا وآخرت میں خسارہ کاباعث نہ بن جائے-
اب رہا مسجد نبوی شریف میں کسی کو دورسے بآوازبلند پکارنا  تو یہ سخت ممنوع اور خلاف ادب ہے،  یہ وہ مقدس مسجد شریف ہے جہاں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ اطہر ہے،  پیکرادب ہوکر حاضر ہونا چاہئیے،  یہ وہ بارگاہ عالی جاہ ہے جہاں آوازبلند کر نے سے منع کیا گیا اور آوازبلند کرنے کا حکم یہ ہیکہ تمام اعمال وعبادتیں ضائع وبرباد ہوجاتی ہیں اورآدمی کواس کا شعور واحساس بہی نہیں رہتا جیساکہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے آداب کی تعلیم میں اللہ تعالی کاارشادہے:   يَا يُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ -/font> >
ترجمہ: اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبی( اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کی آواز پر بلند مت کرواور آپ کی خدمت میں اس طرح گفتگومت کروجس طرح تم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہو ورنہ تمہارے اعمال ضائع واکارت ہو جائیں گے اور تمہیں اس کی خبر نہ ہوگی (سورۃ الحجرات-2)
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد بھی یہی حکم ہیکہ مسجد نبوی شریف میں آواز بلند نہ کی جائے چنانچہ صحیح بخاری شریف، ج1،کتاب الصلوۃ، باب رفع الصوت فی المسجد، ص67،میں حدیث مبارک ہے:عن السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كُنْتُ قَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِي رَجُلٌ فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا قَالَ مَنْ أَنْتُمَا أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا قَالَا مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ قَالَ لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ لَأَوْجَعْتُكُمَا تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -/font> >  
ترجمہ:حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں مسجد نبوی میں کھڑاہواتھا توایک صاحب نے میری طرف کنکری پھینک کر متوجہ کیا، میں نے دیکھا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں، آپ نے اشارہ دیا کہ ان دوآدمیوں کو میرے پاس لے آؤ! تو میں ان دونوں کو لے  کرآپ کے پاس پہنچا، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا:تم کس علاقہ کے باشندے ہو؟ ان دونوں نے عرض کیا : ہم طائف کے باشندے ہیں، آپ نے فرمایا:اگر تم اس شہر کے رہنے والے ہوتے تو میں ضرور تمہیں سزا دیتا، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلندکرتے ہو ؟-
(صحیح بخاری شریف، ج1،کتاب الصلوۃ، باب رفع الصوت فی المسجد، ص67،حدیث نمبر:470)
سیدی شیخ الاسلام امام محمد انواراللہ فاروقی بانی جامعہ نظامیہ رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث شریف کی شرح کر تے ہوئے رقمطرازہیں:اس خبرسے ظاہر ہے کہ مسجدشریف میں کوئی آواز بلند نہیں کرسکتا تھا اور اگر کرتا تو مستحق تعزیرسمجھا جاتا تھا، باوجود یہ سائب بن یزید چنداں دور نہ تھے، مگر اسی ادب سے عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو پکارا نہیں بلکہ کنکری پھینک کر اپنی طرف متوجہ کیا ، یہ تمام آداب اسی وجہ سے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیات ابدی وہاں تشریف رکھتے ہیں کیونکہ اگر لحاظ صرف مسجد کا ہوتاتو''  فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ''کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی، /font> >   دوسرا قرینہ یہ ہیکہ اس تعزیر کو اہل بلد کے لئے خاص فرمایا جن کو مسجد شریف کے آداب بخوبی معلوم تھے ، اگر صرف مسجد ہی کا لحاظ  ہوتا تواہل طائف بھی معذور نہ رکھے جاتے کیونکہ آخر وہاں بھی مسجدیں تھیں-
علامہ ابوالفضل قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ، شفاء شریف میں بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے آداب بتفصیل بیان کرنے کے بعد،الباب الثالث فی تعظیم امرہ ووجوب توقیرہ وبرہ، ص 251،پررقم طرازہیں:   واعلم أن حرمة النبي صلى الله عليه وسلم بعد موته وتوقيره وتعظيمه لازم كما كان حال حياته ۔۔۔۔ قال أبو إبراهيم التجيبى واجب على كل مؤمن متى ذكره أو ذكر عنده أن يخضع ويخشع ويتوقر ويسكن من حركته ويأخذ في هيبته وإجلاله بما كان يأخذ به نفسه لو كان بين يديه ويتأدب بما أدبنا الله به، قال القاضى أبو الفضل وهذه كانت سيرة سلفنا الصالح وأئمتنا الماضين رضى الله عنهم-/font> >
ترجمہ:یہ بات ذہن نشین کرلو کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیھ وسلم کی بارگاہ میں باادب رہنا عظمت بجالاناجس طرح قبل وصال شریف لازم تھا وصال فرمانے کے بعد بھی لازم وضروری ہے۔۔۔۔۔۔ ہرایمان والے پرواجب ہیکہ جب آپ کا ذکرمبارک کرے یا سنے تو حد درجہ خشوع وخضوع کا اظہار کرے ،اپنے افعال وحرکات میں مؤدب رہے، آپ کی عظمت وبزرگی کو ملحوظ خاطر رکھے اور اللہ تعالی کے حکم اورتعلیم کے مطابق ادب بجالائے کیونکہ وہ خدمت اقدس میں حاظر ہے- علامہ ابوالفضل قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے سلف صالحین اور بزرگ ائمہ کا یہی طریقہ رہا-
( الشفاءبتعريف حقوق المصطفى ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ ووجوب توقیرہ وبرہ ص 251)
مدینہ منورہ میں زائرینِ روضۂ اطہر کو ان آداب کا لحاظ رکھنا چاہئیے ، کسی کو مسجد نبوی شریف میں بلند آوا‍‌ز سے نہ پکاریں اوراپنے تمام حرکات وسکنات میں سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہیں ہونی چاہئے جس میں بے ادبی کا ادنی شائبہ بھی ہو-
واللہ اعلم بالصواب   -
سید ضیاء الدین ،
  نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر –www.ziaislamic.com
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com