***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > نبوت و رسالت کا بیان

Share |
سرخی : f 855    میلاد النبی ﷺکی خوشی منانے کی دلیل؟
مقام : انڈیا,
نام : محمد عارف
سوال:     میں ایک حدیث شریف سنا ہوں کہ ابولہب کو کسی نے خواب میں دیکھا کہ وہ دوزخ کے عذاب میں ہے اور ہر پیر کے دن اس کی انگلیوں سے پانی نکلتا ہے ،یہ پانی اس لئے نکلتا ہے کہ اس نے اپنی باندی ثویبہ کو آزاد کیا تھا ۔ عام طور پر اس روایت کو دلیل بنا کر کہا جاتا ہے کہ میلاد شریف کی خوشی منانا درست ہے ۔ اس سلسلہ میں سوال یہ ہیکہ کیا یہ حدیث شریف صحیح ہے؟اور حدیث شریف کی کس کتاب میں ہے؟ جب اس روایت سے میلاد شریف کے موقع پر خوشی منانے کے لئے استدلال کیا جاتا ہے تو کیا سلف صالحین میں سے کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر خوشی کے جائز ہونے پر اس حدیث شریف سے استدلال کیا ہے؟

............................................................................
جواب:     آپ نے جس حدیث شریف کا ذکر کیا وہ صحیح ہے ،صحیح بخاری شریف میں یہ روایت مذکور ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک ساری کائنات کے حق میں نعمت کبری ہے،اس نعمت عظمی پر فرحت ومسرت کا اظہار کرنا   ، تقاضۂ فطرت ہے ، جو شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر خوشی کا اظہار کرتا ہے اللہ تعالی اسے اجرعظیم وثواب جزیل عطافرماتاہے۔  
صحیح بخاری شریف دیگر کئی کتب حدیث میں الفاظ کے قدرے اختلاف کے ساتھ روایت مذکور ہے روایتوں میں اختصار ہے اور بعض میں تفصیل ہے ،صحیح بخاری شریف ج2، ص764 کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
قال عروۃ و ثویبۃ مولاۃ لابی لھب کان ابولھب اعتقھا فارضعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فلما مات ابولھب اریہ بعض اھلہ بشرحیبۃ قال لہ ماذا لقیت قال ابولہب لم الق بعدکم غیرانی سقیت فی ھذہ بعتاقتی ثویبۃ۔
ترجمہ : حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ثویبہ ابولہب کی باندی ہے، ابو لہب نے انہیں آزاد کیا تھا اور وہ حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلائیں، جب ابولہب مرگیا تو اس کے خاندان والوں میں کسی نے خواب میں اسے بدترین حالت میں دیکھا   ، اس سے کہا : تو نے کیا پایا ؟  ابو لہب نے کہا : میں نے تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعد کچھ آرام نہیں پایا    ، سوائے یہ کہ ثویبہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے اس انگلی سے سیراب کیا جاتا ہوں ۔(صحیح بخاری   ، کتاب النکاح ،باب وامہاتکم اللاتی ارضعنکم ،ج2، ص764 )
اس روایت کی شرح کرتے ہوئے شارحین صحیح بخاری شریف علامہ بدرالدین عینی حنفی اور حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی وغیرہ رحمھم اللہ تعالی اپنی اپنی شرح میں دیگر کتب حدیث کے حوالہ سے تفصیلی روایت تحریر فرماتے ہیں، ہم یہاں حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی شرح فتح الباری ج14 ص45 سے عبارت نقل کرتے ہیں:
وذکرالسھیلی ان العباس رضی اللہ تعالی عنہ قال لمامات ابولھب رایتہ فی منامی بعد حول فی شرحال، فقال مالقیت بعدکم راحۃ الا ان العذاب یخفف عنی کل یوم اثنین، قال وذلک ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولدیوم الاثنین وکانت ثویبۃ بشرت ابالھب بمولدہ فاعتقھا ۔
ترجمہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب ابولہب مر گیا تو میں نے ایک سال کے بعد خواب میں اسے بدترین حالت میں دیکھا تو اس نے کہا : میںتم سے جداہونے کے بعد اب تک راحت نہیں پایا   ، البتہ ہر پیر کے دن مجھ سے عذاب ہلکا کیا جاتاہے ۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں وہ اس لئے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن تولد ہوئے اور ثویبہ نے ابو لھب کو آپ کی ولادت باسعادت کی خوشخبری دی تو اس نے انہیں آزاد کردیا۔ (فتح الباری ، کتاب النکاح ،باب وامہاتکم اللاتی ارضعنکم، ج11،ص381)
یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ ذیل میں مذکور کتب احادیث میں بھی وارد ہے: سنن کبری، للبیہقی،کتاب النکاح ،حدیث نمبر14297۔ مصنف عبدالرزاق کتاب المناسک ج7۔حدیث نمبر13955۔ کنزالعمال   ، کتاب الرضاع من قسم الافعال ،حدیث نمبر35490۔
سلف صالحین و علماء امت میں حافظ شمس الدین ابن الجزری اور حافظ شمس الدین بن ناصر الدین دمشقی رحمھما اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے موقع پر خوشی منانے اور فرحت و مسرت کا اظہار کرنے پر اس روایت سے استدلال کیاہے   ، حافظ شمس الدین بن ناصرالدین دمشقی اپنی کتاب ’’مورد الصادی فی مولد الھادی   ،   ، میں تحریر فرماتے ہیں:
قدصح ان ابا لھب یخفف عنہ عذاب النار فی مثل یوم الاثنین باعتاقہ ثویبۃ مسرورا بمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثم انشد:
ترجمہ : یہ صحیح روایت ہیکہ ابو لہب نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک پر خوش ہو کر ثویبہ کو آزاد کیا ، اس کے سبب ابو لہب سے پیر کے دن دوزخ کے عذاب میں تخفیف کی جاتی ہے پھر انہوں نے اشعار پڑھے    ، اس کا ترجمہ یہ ہے:
جب یہ (ابولہب) کافر ہے جس کی مذمت میں ’’ سورہ تبت یدا  ’’  نازل ہوئی اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والا ہے تاہم احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد پر خوش ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ہر پیر کے دن اس سے عذاب میں تخفیف کی جاتی ہے تو اُس بندہ کے حق میں کس قدر اجر و ثواب کا گمان کیا جائے جو عمر بھر احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی منایا اور حالت ایمان میں انتقال کیا۔
ونیز اس کا ذکر شرح المواہب للزرقانی ، ج1،ص261،اورسبل الہدی والرشاد، ج1 ،ص367 میں موجود ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
10-02-2011
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com