***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 898    انگلیاں چٹخانے کا حکم
مقام : india,
نام : عبد الجبار
سوال:     بعض لوگ باربار انگلیاں چٹخاتے رہتے ہیں او ربعض حضرات نماز کے بعد دعاء کرتے وقت انگلیاں چٹخاتے ہیں ، میں اس بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں انگلیاں چٹخانے کا شریعت میں کیا حکم ہے ؟

............................................................................
جواب:     جواعمال نماز سے تعلق رکھنے والے ہیں جیسے کوئی شخص باوضوہوکر مسجد جارہا ہے ، نماز کا انتظار کرتے ہوئے مسجد میں بیٹھا ہوا ہے ،نماز کے بعد دعاء کررہا ہے یا دعاء کے بعد جائے نماز پربیٹھا ہوا ہے ان اعمال کو نماز کے توابع اور متعلقات کہتے ہیں ،جب تک آدمی ان اعمال میں مصروف رہتا ہے گویا وہ نماز ہی کے حکم میں ہے چنانچہ سنن ابوداؤد شریف ج1کتاب الصلوۃ باب ماجاء فی الہدی فی المشی الی الصلوۃ 1 ، ص 83 میں حدیث پاک ہے
حدثنی ابو ثمامۃ الحناط ان کعب بن عجرۃ ادرکہ وہو یرید المسجد ادرک احدہما صاحبہ قال فوجدنی وانا مشبک بیدی فنہا نی عن ذلک وقال ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اذا توضأ احدکم فاحسن وضوء ہ ثم خرج عامدا الی المسجد فلا یشبکن یدیہ فانہ فی صلوۃ۔
ترجمہ : حضرت ابوثمامہ حناط رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ملاقات کی جبکہ وہ مسجدکی جانب جارہے تھے ،ایک صاحب نے دوسرے سے ملاقات کی ،حضرت ابوثمامہ کہتے ہیں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اس حال میں پایا کہ میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر جال بنایا ہوا تھا تو انہوں نے مجھے اس سے منع کیا او رفرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی وضو کرے اوراچھی طرح وضوکرے پھر ارادہ کرکے مسجد کی طرف نکلے تو وہ ہر گز اپنے ہاتھوں سے جال نہ بنائے کیونکہ وہ نماز میں ہے۔
اس حدیث شریف کی روسے نماز کے متعلقہ اعمال نماز کا ایک حصہ ہیں اورحضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں انگلیاں چٹخانے سے منع فرمایا ہے ،سنن ابن ماجہ شریف ابواب اقامۃ الصلوۃ ، باب مایکرہ فی الصلوۃ ص 68 میں حد یث مبارک ہے (حدیث نمبر 955)
عن علی ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تفقع اصابعک وانت فی الصلوۃ۔
ترجمہ: سیدنا علی کرم اللہ وجھہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم انگلیاں مت چٹخاؤ جب تم نماز میں رہو۔
لہذا دعاء کرتے وقت انگلیاں نہیں چٹخانا چاہئیے ، بندہ جب اللہ تعالی کی جناب میں دعاء کررہا ہو تو عاجز ی وانکساری ،تضرع وزاری کی کیفیت ہونی چاہئیے۔
اگر بیرون نماز آرام حاصل کرنے کے لئے یا کسی او رغرض سے انگلیاں چٹخائی جائیں تو کوئی حرج نہیں، بلاکسی وجہ محض کھیل کے طور پر چٹخائی جارہی ہیں تو مکروہ تنزیہی ہے ، مسلمان کی شان یہ ہے کہ ایسا عمل نہ کرے جس کی کوئی غرض نہ ہو ،جامع ترمذی شریف ابواب الزھد میں حدیث پاک ہے (حدیث نمبر:2239)
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ۔
ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین مسلمان وہ ہے جو لایعنی عمل کو چھوڑدے ۔
درمختار ج 1ص475 پر مکروہات نماز میں ہے
(وفرقعۃ الاصابع) وتشبیکھا ولو منتظرا لصلوۃ اوماشیا الیہا للنھی ولا یکرہ خارجہا لحاجۃ۔
رد المحتار ج 1ص 475 میں ہے
المراد بخارجہا مالیس من توابعہا لان السعی الیہا والجلوس فی لاجلہا فی حکمہا ۔ ۔ ۔  واراد بالحاجۃ نحواراحۃ الاصابع فلولدون حاجۃ بل علی سبیل العبث کرہ تنزیہا والکراہۃ فی الفرقعۃ خارجہا منصوص علیہا۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com