***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 908    جوانی میں سفید بال نمودار ہوں تو کالی مہندی لگانے کا حکم!
مقام : جالنہ،انڈیا,
نام : محمد متین الدین
سوال:     میرے ایک دوست کے سرکے کچھ بال سفید ہوگئے ہیں ، وہ نوجوان ہیں ، اس لئے وہ کالاخضاب لگاناچاہتے ہیں ، میں اس سلسلہ میں پوچھنا چاہتاہوں کہ جوانی میں جو بے وقت سر کے بال سفید ہوجاتے ہیں تو کیا شریعت میں ایسی کوئی گنجائش ملتی ہے کہ اس کو کالی مہندی لگائی جائے؟
............................................................................
جواب:     سیاہ خضاب لگانا ‘سخت گناہ ہے خواہ جوانی میں ہو یا بڑھاپے میں،احادیث شریفہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں، سنن ابوداؤد شریف ،کتاب الترجل ، باب ماجاء فی خضاب السواد (حدیث نمبر:4214)میں حدیث شریف ہے :عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکون قوم یخضبون فی آخر الزمان بالسواد کحواصل الحمام لا یریحون رائحۃ الجنۃ .
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ ہوںگے جو کبوتر کے سینہ کے مانند سیاہ خضاب لگائیں گے وہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہ پائیں گے۔  
صحیح مسلم شریف ، کتاب اللباس والزینۃ،باب فی صبغ الشعر وتغییر الشیب(حدیث نمبر:5631)میں ہے :عن جابر بن عبد اللہ قال أتی بأبی قحافۃ یوم فتح مکۃ ورأسہ ولحیتہ کالثغامۃ بیاضا فقال رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم-  غیروا ہذا بشیء واجتنبوا السواد .ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بابرکت میں لایا گیا ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ کی طرح نہایت سفید تھے جو سفید پھولوں والا ایک قسم کا درخت ہے تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اس سفیدی کو کسی اور چیز سے بدلو اور سیاہ خضاب سے پرہیز کرو۔  
اس حدیث شریف میں سیاہ خضاب لگانے کی ممانعت اور اس سے احتراز و اجتناب کرنے کا واضح حکم ہے۔ بناء بریں اس سے بالکل احتراز کیا جائے اس کا استعمال جائز نہیں ہے، سیاہ خضاب کے سوا دوسرے رنگ کا خضاب جیسے سرخ خضاب اور خالص مہندی کا خضاب جائز ہے۔  
چنانچہ حدیث شریف میں اس کی وضاحت ملتی ہے۔ سنن ابوداؤد شریف ،کتاب الترجل ، باب فی الخضاب (حدیث نمبر:4207)میں ہے :إن أحسن ما غیر بہ ہذا الشیب الحناء والکتم۔ ترجمہ:بہترین خضاب مہندی اور نیل ہے۔  
فتاویٰ عالمگیری کتاب الکراہیۃ میں ہے :أن الخضاب حسن لکن بالحناء والکتم والوسمۃ وأراد بہ اللحیۃ وشعر الرأس ۔ترجمہ:داڑھی اور سر کے بال میں خضاب کرنا اچھا ہے لیکن مہندی کتم اور نیل کے پتے سے خضاب کیا جائے۔  
البتہ غازی و مجاہد کیلئے سیاہ رنگ کا خضاب استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ ردالمحتار جلد5 کتاب الحظر والاباحۃ میں ہے: ( قولہ ویکرہ بالسواد ) أی لغیر الحرب .قال فی الذخیرۃ : أما الخضاب بالسواد للغزو ، لیکون أہیب فی عین العدو فہو محمود بالاتفاق۔
واللہ اعلم بالصواب ۔
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com