***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 910    بینڈباجہ کی تجارت
مقام : نظام آباد,
نام : عبدالطیف قادری
سوال:    

بینڈ باجہ کی تجارت جائزہے یا نہیں ؟


............................................................................
جواب:    

گانے بجانے سے متعلق مختلف احادیث شریفہ وارد ہیں، امام بیہقی کی شعب الایمان میں حدیث پاک منقول ہے :عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء الزرع‘‘ ترجمہ:سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گانا بجانا دل میں نفاق کو اُگاتا ہے جس طرح پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔(شعب الایمان للبیھقی ، حدیث نمبر:4889) گانے بجانے والے کے کندھوں پر شیاطین رقص کرتے ہیں جیسا کہ تفسیرات احمدیہ ص 400میں حدیث پاک ہے :وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما من رجل یرفع صوتہ بالغناء الا بعث اللہ علیہ شیطانین احدہما علی ہذا المنکب والاخر علی ہذا المنکب ولا یزالان یضربان بارجلہما حتی یکون ہو الذی یسکت‘‘ ترجمہ:حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی شخص گانے کے ذریعہ اپنی آواز کو بلند کرے اللہ تعالی اس پر دو شیطانوں کو مسلط فرمادیتا ہے، ان میں سے ایک اس کاندھے پر اور دوسرا اس کاندھے پر ہوتا ہے اور دونوں مسلسل ناچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یہ شخص ہی خاموش ہوجائے۔ در مختار، ج5، کتاب الحظر والإباحۃ، ص542، میں ہے ’’ان الملاہی کلہا حرام‘‘ ترجمہ: تمام قسم کے لہو ولعب حرام ہیں۔ بینڈ باجہ( Band)بجائے خودمعصیت ہے اور اس کا استعمال بھی گانے بجانے میں کیاجاتا ہے اس لئے اسکی تجارت مکروہ تحریمی اور سخت گنا ہ ومعصیت کا موجب ہے ۔ جیساکہ درمختار ،کتاب الجہاد ،باب البغاۃ ،ج 3ص343میں ہے :قلت افاد کلامہم ان ماقامت المعصیۃبعینہ یکرہ بیعہ تحریما والافتنزیہا نہر۔نیزرد المحتار ،کتاب الجہاد ،باب البغاۃ ،ج3ص342میں ہے :ونظیرہ کراہۃ بیع المعازف لان المعصیۃ تقام بہا عینہا۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com