***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 958    شب براء ت بیداری وعبادت کا ثبوت
مقام : حیدرآباد,
نام : محمدعلیم
سوال:    

مفتی صاحب سے میراسوال یہ ہیکہ ہمارے گھر میں جب کبھی شب براء ت آتی ہے تمام لوگ عبادت میں مصروف ہوجاتے ہیں اور دوسرے دن روزہ بھی رکھتے ہیں ، کیا یہ حدیث سے ثابت ہے یا پُرانے بزرگوں کا طریقہ چلتاہوا آرہاہے ؟اسکی کوئی اصل ہے یا نہیں ؟برائے کرم اس کا جواب ضرور عنایت فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

شب براء ت میں اذکار و وظائف، عبادات و تلاوت وغیرہ میں مشغول رہنا احادیث شریفہ سے ثابت ہے ‘چنانچہ سنن ابن ماجہ شریف میں حدیث پاک ہے:عَنْ عَلِیٍِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا کَانَتْ لَیْلَۃُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَیْلَہَا وَصُومُوا یَوْمَہَا. فَإِنَّ اللَّہَ یَنْزِلُ فِیہَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَی سَمَاءِ الدُّنْیَا فَیَقُولُ اَلاَ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِی فَاَغْفِرَ لَہُ اَلاَ مُسْتَرْزِقٌ فَاَرْزُقَہُ اَلاَ مُبْتَلًی فَاُعَافِیَہُ اَلاَ کَذَا اَلاَ کَذَا حَتَّی یَطْلُعَ الْفَجْرُ . ترجمہ : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں شب ہو تو اس کی رات میں قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات سورج ڈوبتے ہی آسمان دنیا کی طرف نزول اجلال فرماتاہے اورارشاد فرماتاہے کیا کوئی مغفرت کا طلبگار ہے کہ میں اس کو بخشدوں! کیا کوئی رزق چاہنے والا ہے کہ میں اس کو رزق عطا کروں! کیا کوئی مصیبت کا مارا ہوا ہے کہ میں اس کو عافیت دوں! کیا کوئی ایساہے! کیاکوئی ایسا ہے! یہاں تک کہ فجر طلوع ہو۔ (سنن ابن ماجہ شریف حدیث نمبر: 1451 ۔ شعب الایمان للبیہقی حدیث نمبر: 3664۔ کنزالعمال حدیث نمبر: 35177۔ تفسیر درمنثور ،سورۃ الدخان،آیت ۔4) اس روایت سے پندرھویں شب قیام وعبادت کرنے اور دن میں روزہ رکھنے کاسنت ہونا معلوم ہوتا ہے اور حدیث شریف میں مذکور اللہ تعالیٰ کے نزول اجلال فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی صفت رحمت کی عام تجلی فرماتا ہے یا اس کی شان کے شایاں صفات جلالی سے صفات جمالی کا ظہور تام مراد ہے۔ جیسا کہ حضرت ملا علی قاری رحمہ اللہ الباری فرماتے ہیں:إن اللہ تعالی ینزل ای من الصفات الجلالیۃ إلی النعوت الجمالیۃ زیادۃ ظہور فی ہذا التجلی إذ قد ورد فی الحدیث القدسی سبقت رحمتی غضبی وفی روایۃ غلبت۔ (مرقاۃ المفاتیح،باب قیام شھر رمضان) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com