***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 960    شب براء ت اور مفسرین کی تصریحات
مقام : ,
نام :
سوال:    

میں شب براء ت کے بارے میں سوال کررہاہوں، سورۂ دخان میں برکت والی رات کا جوذکر ہے میں نے سنا کہ اس کے بارے میں الگ الگ تفسیریں ہیں ، اس سے جو شب براء ت مراد لی جاتی ہے مجھے اس کے بارے میں تفصیل بتلائے ، مہربانی ہوگی


............................................................................
جواب:    

شب براء ت کے فضائل متعدد احادیث شریفہ میں وارد ہیں اور سورۂ دخان کی تیسری آیت میں ارشاد الہی ہے : إِنَّا أَنْزَلْنٰہُ فِی لَیْلَۃٍ مُبَارَکَۃٍ ۔ ترجمہ :بے شک ہم نے اس (قرآن )کوایک برکت والی رات میں نازل کیا۔اس آیت کریمہ میں لیلۃ مبارکۃ سے کیا مراد ہے ؟مفسرین کرام نے اس کی دو تفسیریں کی ہیں ،ایک جماعت نے فرمایاکہ اس سے مراد شب قدر ہے ،مفسرین کی دوسری جماعت نے یہ تفسیر کی ہے کہ مبارک رات سے مراد پندرہ شعبان کی شب، شب براء ت ہے۔ علامہ شیخ احمد بن محمد صاوی رحمۃ اللہ علیہ(متوفی 1247؁ھ) نے حاشیۃ الصاوی علی الجلالین میں آیت مذکورہ کی تفسیر ’’او لیلۃ النصف من شعبان‘‘کے تحت لکھاہے : ھو قول عکرمۃ و طائفۃ ووجہ بامور منھا ان لیلۃ النصف من شعبان لھا اربعۃ اسماء: اللیلۃ المبارکۃ و لیلۃ البراء ۃ و لیلۃ الرحمۃ ولیلۃ الصک۔ ترجمہ :’’لیلۂ مبارکہ سے مراد پندرھویں شب ہے‘‘ یہ حضرت عکرمہ اورعلماء کی ایک جماعت کا قول ہے، اور یہ توجیہ چند امور کی وجہ سے قابل قبول ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ پندرھویں شعبان کے چار نام ہیں: (1) مبارک رات (2) براء ت والی رات (3) رحمت والی رات (4) انعام والی رات۔ (حاشیۃ الصاوی علی الجلالین، ج4 ص57۔تفسیر کبیر:سورۃ الدخان :1) علامہ سید محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1270؁ھ) نے تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے: وقال عکرمۃ وجماعۃ:’’ ھی لیلۃ النصف من شعبان و تسمی لیلۃ الرحمۃ واللیلۃ المبارکۃ ولیلۃ الصک ولیلۃ البراء ۃ‘‘۔ ترجمہ: حضرت عکرمہ اورعلماء کی ایک جماعت نے فرمایا :وہ پندرھویں شعبان کی رات ہے اور اس رات کو شب رحمت، شب مبارک، شب انعام اورشب آزادی کہا جاتا ہے۔ صاحب روح البیان علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1127؁ھ)نے لکھا ہے : المراد من اللیلۃ المبارکۃ لیلۃ النصف من شعبان۔ ترجمہ:’’ لیلۃ مبارکۃ ‘‘سے پندرہ شعبان کی رات(شب براء ت) مراد ہے۔ (روح البیان ج8، ص448) جیساکہ معلوم ہوااس سلسلہ میں مفسرین کرام نے دو طرح کے اقوال بیان فرمائے ہیں، ان دو اقوال کی تطبیق و جمع میں یہ کہا گیا کہ’’ لیلۃ مبارکۃ‘‘ کے بارے میں آیا ہے فِیہَا یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیم ترجمہ:اس میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ (سورۂ دخان :4) اس سے معلوم ہوا کہ اس مبارک رات میں فیصلے ہوتے ہیں۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ فیصلے شعبان کی پندرھویں شب میں ہوتے ہیں اور’’ لیلۃ القدر‘‘ میں متعلقہ فرشتوں کے حوالے کئے جاتے ہیں۔ پس لیلۃ مبارکۃ کی تفسیر لیلۃ القدر سے کی جائے تو فیصلہ نامہ جات ذمہ داروں کے حوالے کرنے کی رات ہوگی اور شب براء ت سے تفسیرکی جائے تو فیصلے کرنے کی رات مراد ہوگی۔ جیساکہ روایت ہے :عن ابن عباس ان اللہ یقضی الاقضیۃ فی لیلۃ نصف شعبان ویسلمھا الی اربابھا فی لیلۃ القدر۔ ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بے شک اللہ تعالی شب براء ت میں فیصلہ جات فرماتا ہے اورشب قدر میں ذمہ داروں کے حوالے فرماتا ہے۔ (حاشیۃ الجمل علی الجلالین۔ ج4، ص 100!معالم التنزیل ) ’’لیلہ مبارکہ‘‘ کی تفسیرشب براء ت سے کئے جانے پر نزول قرآن کے بارے میں جو سوال پیدا ہوتا ہے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ نے اس پر ایک پر مغز بحث فرمائی ہے: درینجاشبہ آن آنست کہ نزول قرآن درمدت بست وسہ سال ست وابتدئے نزول آن درماہ ربیع الاول سرسال چہلم از عمر شریف نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام ودرقرآن مجید نزول قرآنر امؤرخ فرمودہ اندبسہ وقت شہررمضان وشب قدر وشب مبارک کہ نزداکثر علماء عبارت ست ازشب برات پانزدہم شعبان۔ پس تطبیق درین امر واقعی این تعبیرات متخالفہ چگونہ درست آید آنچہ بعد از تنقیح معلوم شد آنست کہ نزول قرآن از لوح محفوظ در مقام بیت العزت کہ بقعہ ایست از آسمان دنیا محفوف ست بملائکہ ذی قدر درشب قد راست کہ در ماہ رمضان واقعست وتقدیر نزول آن وحکم فرمودن حافظان لوح راکہ نسخہ آنر انقل کردہ بآسمان دنیا رسانند درشب برات ہمانسال بودپس ہرسہ تعبیر درست افتادونزول حقیقی درشب قدر ازماہ رمضان واقعشد ونزول تقدیر ی پیش ازاں درشب برات ونزول قرآن برزبان پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم ابتدائے اندرماہ ربیع الاول سرسال چہلم ست واتمام نزول آن دربقیۃ العمرپس تعارضے نماند۔ ترجمہ:یہاںایک سوال ہے وہ یہ کہ قرآن کریم تیئیس(23) سال کی مدت میں مکمل نازل ہوا جس کی ابتداء ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی اس وقت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمرمبارک کا چالیسواں سال شروع ہواتھا، جبکہ خود قرآن کے اندرنزول کے تین متعین موقعوں کی طرف اشارے فرمائے گئے ہیں: ایک رمضان المبارک کا مہینہ ،دوسرے شب قدر جورمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہوتی ہے، تیسرے لیلۂ مبارکہ جواکثر علماء کے نزدیک پندرھویں شعبان ہے جس کو شب براء ت کہتے ہیں، تواس امر واقعی اور ان تین مختلف تعبیروں کے درمیان تطبیق کیسے ہوگی ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ روایات میں اچھی طرح تحقیق وتنقیح کے بعد جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن شریف کا نزول لوحِ محفوظ سے ’’ بیت العزت ‘‘ میں جو آسمان دنیاپر ایک مقام ہے جس کو اعلی مرتبے کے فرشتوں نے گھیررکھا ہے ، شب قدر میں ہو ا جورمضان المبارک میں ہوتی ہے، اور اسی سال اس سے قبل ’’بیت العزت ‘‘ میں نزول کی تقدیر اور اس کا حکم شب براء ت میں ہواتھا ، اب تینوں تعبیریں درست ہوگئی ،یعنی حقیقی نزول رمضان المبارک کے مہینے میں شب قدر کو ہوا ،تقدیر ی نزول اس سے پہلے شب براء ت میں ہوا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر اس کا نزول ربیع الاول کے مہینے میں شروع ہوا پھر وصال مبارک سے پہلے اس کا نزول مکمل ہوا ،اس توجیہ کے بعد اب کوئی تعارض نہیں رہا۔(تفسیر عزیزی پارہ عم سورۃ القدر ص 259) حضرت ابوالحسنات سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1384؁ھ) نے دو اقوال کے درمیان تطبیق بیان کرتے ہوئے لکھاہے: واقعہ یہ ہے کہ شب براء ت میںقرآن اتارنے کی تجویزہوئی اور شب قدر میں آسمان اوّل پر اتارا، پھر 23 سال تک تھوڑا تھوڑا کرکے دنیا میں اترتارہا ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com