***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 961    فضیلت شب براء ت دس صحابہ کرام سے منقول
مقام : لندن,
نام : محمد حسن
سوال:    

میرے ایک بچپن کے دوست ہیں ، اُن سے میری اسلامی چیزوں پر گفتگو ہوتی رہتی ہے ، اس بار کی گفتگو میں وہ کہہ رہے تھے کہ شب براء ت کی فضیلت والی حدیث کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ وہ حدیث کی کتابوں میں نہیں ہے ، اس وقت سے میں یہ جاننا چاہتاہوںکہ واقعۃًحدیث کی کتابوں میں ہے یا نہیں ؟ مفتی صاحب ! اگر یہ حدیث ہے توآپ حوالوں کے ساتھ شب براء ت کی فضیلت کی حدیث لکھ کر اس کی تفصیل بتلادیں کہ کونسی کتابوں میں ہے ، تو بہت مہربانی ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

شب براء ت کی فضیلت کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت جامع ترمذی میں اس طرح منقول ہے :عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَیْلَۃً فَخَرَجْتُ فَإِذَا ہُوَ بِالْبَقِیعِ فَقَالَ أَکُنْتِ تَخَافِینَ أَنْ یَحِیفَ اللَّہُ عَلَیْکِ وَرَسُولُہ‘ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی ظَنَنْتُ أَنَّکَ أَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ ۔فَقَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَنْزِلُ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ . ترجمہ: ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ‘ اُنہوں نے فرمایا میں ایک رات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پائی ،میں نکلی اور دیکھاکہ آپ بقیع میں تشریف فرما ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اندیشہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تم پر زیادتی کریں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے خیال کیا کہ آپ کسی اور زوجۂ مطہرہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شب براء ت کو آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف ابواب الصوم ،باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان ج۱ ص۱۵۶،حدیث نمبر:۷۴۴) جامع ترمذی شریف میں وارد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کردہ حدیث پاک متعدد صحابۂ کرام سے کئی ایک ذخائر حدیث ‘سنن وجوامع‘معاجم ومسانید میں مختلف اسانید کے ساتھ مذکور ہے‘ چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے لکھا ہے کہ یہ روایت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی منقول ہے-(جامع ترمذی،ابواب الصوم،باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان،حدیث نمبر 744) فضیلت شب براء ت سے متعلق دس صحابہ کرام سے روایتیں منقول ہیں ، یہاں بطور اختصارمحض صحابہ کرام کے نام ، روایت کرنے والے محدثین کے نام اور کتب حدیث کے نام ذکر کئے جارہے ہیں : (1)یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جامع ترمذی کے علاوہ سنن ابن ماجہ،مسند امام احمد‘مصنف ابن ابی شیبہ‘بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث‘امام ابن بطۃ (متوفی 387ھ)کی الابانۃ الکبری ‘امام بیہقی کی شعب الایمان‘مسند عبد بن حمید‘امام بغوی کی شرح السنۃ اور مسند اسحق بن راھویہ میں موجود ہے ۔ (سنن ابن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا،باب ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان ،حدیث نمبر 1452۔ بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث للھیثمی،حدیث نمبر :335اخبار مکۃ للفاکھانی،ذکر عمل اہل مکۃ لیلۃ النصف من شعبان واجتھادھم فیھا لفضلھا،حدیث نمبر: 1774۔ الابانۃ الکبری لابن بطۃ ،باب ذکر مناظرات الممتحنین بین ایدی الملوک۔ ۔ ۔ ، حدیث نمبر: 2566۔ شعب الایمان للبیہقی، ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان،حدیث نمبر 3824 ، 3665۔ مسند عبد بن حمید،مسند الصدیقۃ عائشۃ رضی اللہ تعالی عنہا،حدیث نمبر: 1514۔ شرح السنۃ للبغوی، کتاب الصلاۃ،باب فی لیلۃ النصف من شعبان ۔ مسند اسحق بن راھویہ،مایروی عن عروۃ عن عائشۃ ،حدیث نمبر850!1700) (2)مذکورہ روایت حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے امام بغوی کی شرح سنۃ، امام فاکہانی (متوفی 353ھ)کی اخبار مکۃ ،امام ابن بطہ (متوفی 387ھ)کی الابانۃ الکبری،امام بیہقی کی شعب الایمان اورمسندالبزار میں موجودہے۔ (شرح السنۃ ،کتاب الصلاۃ،باب فی لیلۃ النصف من شعبان-اخبار مکۃ للفاکھانی، ذکر عمل اہل مکۃ لیلۃ النصف من شعبان واجتھادھم فیھا لفضلھا،حدیث نمبر :1774۔ الابانۃ الکبری لابن بطۃ ،باب ذکرمناظرات الممتحنین بین ایدی الملوک۔ ۔ ۔ ،حدیث نمبر 2565۔شعب الایمان للبیہقی،ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان،حدیث نمبر3668۔مسند البزار،مسند ابی بکر الصدیق ،حدیث نمبر 80) (3) یہ روایت حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے سنن ابن ماجہ میں مذکورہے-(سنن ابن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا،باب ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان ،حدیث نمبر 1453) (4)یہ روایت حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے امام بیہقی کی شعب الایمان میںبھی منقول ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی، ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان،حدیث نمبر3676) (5) حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے مسند امام احمداورامام ہیثمی کی غایۃ المقصد فی زوائد المسند میں ہے-(مسند امام احمد،مسند عبد اللہ بن عمرو،حدیث نمبر 6801۔غایۃ المقصد فی زوائد المسند،کتاب الادب،باب ماجاء فی الھجران) (6) نیزیہ روایت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے امام طبرانی کی معجم کبیر ،حلیۃ الاولیاء ، امام بیہقی کی شعب الایمان اورصحیح ابن حبان میں موجود ہے-(معجم کبیر طبرانی،معاذ بن جبل الانصاری،حدیث نمبر378۔حلیۃ الاولیاء ،مکحول الشامی- شعب الایمان للبیہقی، ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان،حدیث نمبر3678 6352-۔صحیح ابن حبان،کتاب الحظر والاباحۃ،باب ماجاء فی التباغض والتحاسد،حدیث نمبر 5757) (7) حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالی عنہ سے امام طبرانی کی معجم کبیراورامام بیہقی کی شعب الایمان،السنن الصغری میں مروی ہے-(المعجم الکبیر للطبرانی،باب اللام الف،حدیث نمبر593۔شعب الایمان للبیہقی،ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبا ن ،حدیث نمبر3673۔ السنن الصغری للبیہقی،کتاب الصیام،باب الصوم فی شعبان،حدیث نمبر 1458 ) (8) حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مسند بزار،امام طبرانی کی معجم اوسط،صحیح ابن حبان میں وارد ہے-(مسند البزار،مسند عوف بن مالک الاشجعی،حدیث نمبر 2754۔المعجم الاوسط للطبرانی،باب المیم من اسمہ محمد،حدیث نمبر 6967 ۔صحیح ابن حبان،کتاب الحظر والاباحۃ،باب ماجاء فی التباغض والتحاسد،حدیث نمبر5665) (9) یہ روایت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے امام بیہقی کی شعب الایمان میں ہے۔(شعب الایمان للبیہقی،ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان،حدیث نمبر3837) (10) اور حضرت علی کرم اللہ وجھہ ورضی اللہ عنہ کی روایت سنن ابن ماجہ اورامام بیہقی کی شعب الایمان،میں ہے۔(سنن ابن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا،باب ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان ،حدیث نمبر1451۔ شعب الایمان للبیہقی، ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان،حدیث نمبر3664) اس کے علاوہ حضرات تابعین مثلاً کثیر بن مرۃ حضرمی،یحیی بن ابو کثیروغیرہ سے مرسل روایتیں مذکورہ کتبِحدیث میں موجود ہیں- یہ صرف ان محدثین کی کتابوں کے حوالجات ہیں جنہوں نے اپنی روایت کردہ احادیث مبارکہ اسانید کے ساتھ جمع فرمائی ہیں،بعد ازاں تنقیح وتہذیب کرنے والے متعدد محدثین نے اسے اپنی کتابوں میں درج کیا‘ چنانچہ پندرھویں شعبان کی فضیلت کی یہ راویتیں مجمع الزوائد ومنبع الفوائد،کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال،جامع الاحادیث،جمع الجوامع،جامع الاصول من احادیث الرسول،الترغیب والترھیب،مشکوۃ المصابیح،زجاجۃ المصابیح اور دیگر کتب حدیث میں منقول ہیں۔واللہ اعلم بالصواب

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com