***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 990    ’’علی‘‘ نام رکھنا
مقام : ہبلی،انڈیا,
نام : محمد حسن الدین
سوال:    

السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جتنے بھی نام ہیں‘ اللہ تعالیٰ کی صفت بیان کرتے ہیں اور جب ہم انسان رکھتے ہیں تو ساتھ عبد یا اللہ لگاتے ہیں‘ جیسے عبداللہ‘ عبدالرحمن وغیرہ تو پھر جو نام ’’علی‘‘ ہے یہ بھی اللہ کے ناموں میں سے ہے تو اس کے ساتھ عبد کیوں نہیں لگاتے؟


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ! اسم جلالہ ’’اللہ‘‘ ذاتی نام ہے‘ اس کے علاوہ اسماء الہی عظمت والی صفات کی جانب اشارہ کرتے ہیں‘ عبد کا معنی بندہ‘ بندگی کرنے والا ہے‘ اس لئے اسم ذات ’’اللہ‘‘ کی جانب نسبت سے عبداللہ‘ صفات کی طرف نسبت سے عبدالرحمن ‘ عبدالرحیم وغیرہ رکھے جاتے ہیں۔ اسماء الٰہی دو قسم کے ہیں۔ (1) ایسے نام جسے اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی اور کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا ہے جیسے رحمن‘ صمد وغیرہ۔ (2) ایسے نام جسے ذات الٰہی کے علاوہ دوسروں کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے رحیم‘ علیم ،رء وف ،ولی وغیرہ۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ دوسری قسم کے نام اگر ذات خداوندی کے لئے کہے جائیں تو حقیقی معنی میں اور کمال درجہ کی صفت مراد ہوگی جیسے علی یعنی بذات خود بلندی رکھنے والا‘ علیم یعنی بذات خود جاننے والا اور یہی نام اگر بندوں کے لئے رکھے جائیں تو یہ صفت عطائی مراد ہوگی جیسے علی کا معنی عطاء الہی سے بلندی رکھنے والا‘ علیم اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا علم رکھنے والا۔ لہٰذا دوسری قسم کے نام علی‘ علیم ‘ رحیم وغیرہ اضافت کے بغیر رکھے جاسکتے ہیں‘ چنانچہ اللہ تعالی کے صفتی ناموں میں سمیع اور بصیر شامل ہیں اور اس نے یہی صفات بندوں کے لئے بھی بیان فرمائے، ارشاد الہی ہے: فَجَعَلْنَاہُ سَمِیعًا بَصِیرًا۔ ترجمہ: تو ہم نے اسے سننے والا دیکھنے والا بنایا۔ (سورۃ الدھر۔2) آپ نے سوال میں نام ’’علی‘‘ جو ذکر کیا ہے‘ وہ دوسری قسم میں داخل ہے‘ اللہ تعالی کا یہ نام صفتی ہے اور اس کی ہرصفت حقیقی معنی میں اور کامل طورپرہوتی ہے ، لہٰذا کسی کا نام ’’عبدالعلی‘‘ رکھنا درست ہے اور یہی نام بندوں کے لئے رکھاجائے تو اس کا معنی اللہ تعالی کی عطاوعنایت سے بلندی رکھنے والاہے اسی لئے ’’علی‘‘ نام رکھنا بھی جائز ودرست ہے‘ جیسا کہ احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ نام خلیفۂ سوم حضرت علی کرم اللہ وجھہ کا نام مبارک ہے۔ رد المحتار ج1ص296 میں ہے: وجاز التسمیۃ بعلی ورشید من الأسماء المشترکۃ ویراد فی حقنا غیر ما یراد فی حق اللہ تعالی- واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com