***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 996    اسلام میں تعدد ازدواج کا حکم؟
مقام : حیدرآباد،انڈیا,
نام : عمران
سوال:    

ہمارے دین میں کتنے شادیوں کی اجازت ہے ؟


............................................................................
جواب:    

دین اسلام کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ،نکاح کی اجازت بھی کئی حکمتوں پر مبنی ہے،دنیا میں لوگوں کے احوال وکیفیات مختلف ہوتے ہیں ،نکاح کے سلسلہ میں شریعت نے ہر ایک کی قوت وصلاحیت کے مطابق دیا ہے ،ایک نکاح کی اجازت دی ،اگر زیادہ نکاح کرنا چاہے تو زیادہ سے زیادہ چار نکاح کرنے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ شوہر اپنی بیویوں کا حق عدل وانصاف اور مساواۃ وبرابری کے ساتھ اداکرے ،اگر برابری کے ساتھ حق ادانہ کرسکے تو ایک سے زائد نکاح تو حلال ہے مگر حق ادانہ کرنے والا گنہگار ہوگا۔ جیسا کہ حق تعالی کا ارشاد ہے : فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (نساء ۔آیت 3) ترجمہ:تو نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں اچھی معلوم ہوں دودو،تین تین،چار چار،پھر اگر ڈروکہ برابر نہ رکھ سکوگے تو ایک ہی کرلو۔ ایک سے زائد نکاح کرنے کی جو اجازت دی گئی ہے اسمیں کئی حکمتیں پنہاں ہیں اور اس حکم میں کئی معاشرتی مسائل کا حل ہے ۔ازدواجی زندگی میں بہت سے ایسے مسائل درپیش ہوتے ہیں کہ دوسری شادی کے سوا عقدۂ لا ینحل بن کر رہ جاتے ہیں۔ نکاح کے بہت سارے مقاصد میں ایک مقصد افزائش نسل ہوتا ہے،اگر بیوی فطری طور پر بچہ جننے سے قاصر ہو تو کیا مرد بھی ہمیشہ کیلئے نعمتِ اولاد سے محروم رہے؟یامرد اس عورت کو طلاق دے کر کسی اور سے نکاح کرلے ؟اس کے بعد اس بانج عورت کا پر سان حال کون ہوگا؟اسلام نے اس مسئلہ کا حل بتایا کہ پہلی بیوی کو نکاح میں رکھتے ہوئے ایک اور خاتون سے نکاح کرسکتا ہے ۔ اگر بیوی جسمانی طور پر بیمار رہتی ہو،اور یہ حالت سالہاسال جاری ہو ،اپنے تقاضے کی تکمیل نہیں کرسکتا،اس مسئلہ کا حل دوسری شادی ہے ۔ اعدادوشمار کے اعتبارسے دیکھا جائے تو مرد حضرات کی بہ نسبت عورتوں کی تعداد عام طورپر زیادہ ہوتی ہے،مرد جنگوں میں جاں بحق ہوتے ہیں ،ایسے کام جسمیں خطرات کی توقع زیادہ ہوتی ہے بالعموم مردہی کرتے ہیں،خواتین ان خطرات وحوادثات سے بہت کم دوچار ہوتی ہیں،ان وجوہ واسباب سے معاشرے میں مرد حضرات کی بہ نسبت خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے،اگرایک مرد صرف ایک عورت سے نکاح کرے تو معاشرے میں خواتین کی قابل لحاظ تعداد ایسی باقی رہ جائیگی جو بیوہ ہوچکی یا ان بیاہی ،اگر اس مسئلہ کا حل نہ نکالا جائے تو معاشرے کی خوشگوار فضاء ،مسموم اور اخلاقی گندگیوں سے آلو دہ ہو جائیگی ،اس مسئلہ کا واحد حل تعداد ازواج ہے ،ایک مرد کا ایک سے زائد عورتوں سے نکاح کرنا ہے۔اسی لئے اسلام میں ایک سے زائد چار تک نکاح کرنے کی اجازت ورخصت دی گئی ۔ اس کیلئے شرط یہ رکھی گئی کہ آدمی اپنی بیویوں کے درمیان مساوات کو ملحوظ رکھے ،نان نفقہ ،رہائش اور دیگر حقوق عدل وانصاف کے ساتھ اداکرے۔ بیویوں کے حقوق میں کمی وزیادتی کی صورت میں آدمی گنہگار ہوگا اور قیامت کے دن ماخوذ ہوگا۔جس شخص کو دوبیویوں کے درمیان لباس وپوشاک ،نان نفقہ ،سکونت رہائش یا وظیفۂ زوجیت ادانہ کرسکنے کا اندیشہ ہواُسے حق نہیں کہ وہ ایک سے زائد نکاح کرے ،اگر اس کے باوجود وہ دوسرا نکاح کرتا ہے تو گو نکاح ہوجائے گا لیکن اس کے ذمہ انصاف نہ کرنے اور زوجہ پر ظلم کرنے کا گناہ رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com