***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 999    جماعتِ ثانیہ کا حکم
مقام : انڈیا,
نام : محمد رفیع الدین
سوال:    

مسجد میں فرض نماز ہونے کے بعد دوسری جماعت بناسکتے ہیں یا نہیں ؟


............................................................................
جواب:    

باجماعت نماز سنت مؤکدہ ہے اور احادیث شریف میں جہاں اس کی بڑی اہمیت وفضیلت بتائی گئی وہیں نماز باجماعت کے آداب وتقاضے بھی بیان کئے گئے ،جس مسجد میں امام مقرر ہواور اوقات جماعت معین ہوں تووہاں دوبارہ باجماعت نماز پڑھنا فقہ حنفی کی رو سے مکروہ ہے کیونکہ متعدد جماعتوں کی وجہ سے جماعت اولی میں لوگوں کی تعداد کم ہوجائیگی اور لوگ اپنی مرضی کے مطابق جماعت بنائینگے ، جس کے نتیجہ میں جماعت اولیٰ کی اہمیت باقی نہ رہے گی۔ احادیث شریفہ سے چونکہ جماعت کی غیرمعمولی اہمیت واضح ہوتی ہے ، اس سے مسلمانوں کی جمعیت ظاہر ہوتی ہے ، آپسی ربط وضبط بڑھتاہے ، اسی لئے فقہاء کرام نے احادیث شریفہ کی روشنی میں دوسری جماعت کو ازروئے شریعت مکروہ قرار دیاہے ۔ جماعت کی اہمیت صحیح بخاری کی حدیث پاک سے عیاں ہوتی ہے :عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَیُحْطَبَ ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَۃِ فَیُؤَذَّنَ لَہَا ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَیَؤُمَّ النَّاسَ ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَی رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوتَہُمْ ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُہُمْ أَنَّہُ یَجِدُ عَرْقًا سَمِینًا أَوْ مِرْمَاتَیْنِ حَسَنَتَیْنِ لَشَہِدَ الْعِشَاءَ۔ ترجمہ :اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے یقیناً میں نے ارادہ کیا ہے کہ لکڑیوں کے لئے حکم دوں ، لکڑیاں جمع کی جائیں ، پھر نماز کا حکم دوں ، اس کے لئے اذان کہی جائے ، پھر کسی شخص کو حکم دوں ، وہ امامت کرے ، پھر چند لوگوں کے پاس جاؤ اور ان پر اُن کے گھروں کو جلاڈالوں،اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ، اگر ان میں سے کوئی جانتاکہ وہ ایک موٹی ہڈی پائے گا یا دوکُھروں کے درمیان والا گوشت پائے گا تو وہ ضرور نمازِعشاء میں شریک ہوتا۔ (صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب وجوب صلاۃ الجماعۃ ،حدیث نمبر:644) اگر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری جماعت کی گنجائش مرحمت فرماتے تو جماعت میں شرکت نہ کرنے والوں کے لئے اس قدر شدید وعیدبیان نہ فرماتے ۔ ایک مرتبہ جب نماز ہوچکی تھی تو حضورپاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مسجد میں جماعت ثانیہ قائم نہیں فرمائی ‘ جیساکہ امام طبرانی کی معجم اوسط میں حدیث پاک ہے : عن عبد الرحمن بن أبی بکرۃ ، عن أبیہ : أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أقبل من نواحی المدینۃ یرید الصلاۃ ، فوجد الناس قد صلوا ، فمال إلی منزلہ ، فجمع أھلہ ، فصلی بھم۔ ترجمہ : سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم مدینہ طیبہ کے گردونواح (میں تشریف لے گئے ، وہاں ) سے نماز کے لئے تشریف لائے تو ملاحظہ فرمایاکہ لوگ نماز سے فارغ ہوچکے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اپنے کاشانۂ اقدس تشریف لے گئے ، اپنے گھر والوں کو جمع فرمایا اور باجماعت نماز ادا فرمائی ۔ (المجعم الاوسط للطبرانی ، حدیث نمبر:4757) اگر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم مسجد میں دوسری جماعت قائم کرنے میں کوئی حرج محسوس نہ فرماتے تواس موقع پر مسجد میں جماعت ثانیہ ضرور قائم فرماتے۔ صحابہ وتابعین کے آثار سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے :عَنْ إِبْرَاہِیمَ، أَنَّ عَلْقَمَۃَ، وَالأَسْوَدَ"أَقْبَلا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ إِلَی الْمَسْجِدِ "فَاسْتَقْبَلَہُمُ النَّاسُ قَدْ صَلَّوا، فَرَجَعَ بِہِمَا إِلَی الْبَیْتِ فَجَعَلَ أَحَدَہُمَا عَنْ یَمِینِہِ، وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِہِ، ثُمَّ صَلَّی بِھِمَا". ترجمہ : حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علقمہ وحضرت اسود رضی اللہ عنہما سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد تشریف لائے تو لوگ نماز سے فارغ ہوکر آرہے تھے ، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت علقمہ وحضرت اسود رضی اللہ عنہما کے ساتھ گھر واپس ہوئے، اُن میں سے ایک صاحب کو اپنے دائیں جانب کیا ، دوسرے صاحب کو بائیں جانب کیا پھر باجماعت نماز ادا فرمائی ۔ (المعجم الکبیرللطبرانی ،حدیث نمبر:9275) جامع ترمذی وسنن ابوداؤد میں روایت ہے : عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم- فَقَالَ أَیُّکُمْ یَتَّجِرُ عَلَی ہَذَا . فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّی مَعَہُ. قَالَ وَفِی الْبَابِ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ وَأَبِی مُوسَی وَالْحَکَمِ بْنِ عُمَیْرٍ. قَالَ أَبُو عِیسَی وَحَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ حَدِیثٌ حَسَنٌ. ترجمہ : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : ایک صاحب ایسے وقت حاضر ہوئے جبکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نماز ادا فرماچکے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں سے کون ہے جو ان کے ساتھ اجر حاصل کرے ، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے اُن کے ساتھ نماز ادا کی ۔ اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اہل علم کے دو اقوال ذکر فرمائے ، دوسرا قول یہ بیان کیا : وَقَالَ آخَرُونَ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ یُصَلُّونَ فُرَادَی. وَبِہِ یَقُولُ سُفْیَانُ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَمَالِکٌ وَالشَّافِعِیُّ یَخْتَارُونَ الصَّلاَۃَ فُرَادَی۔ ترجمہ: دیگر اہل علم نے کہا کہ جس مسجد میں باجماعت نماز اداکی جاچکی ہے اُس میں دوسری جماعت قائم کرنے کے بجائے علٰحدہ علٰحدہ نماز ادا کرنی چاہئے، حضرت سفیان ثوری ، حضرت عبداللہ بن مبارک ، امام مالک اور امام شافعی رحمھم اللہ تعالی اسی بات کے قائل ہیں، وہ انفرادی طورپر نماز کی ادائیگی کو اختیار کرتے ہیں ۔ (جامع ترمذی ،کتاب الصلوٰۃ،باب ما جاء فی الجماعۃ فی مسجد قد صلی فیہ مرۃ.حدیث نمبر:220) مذکورہ روایت سے بظاہر جماعت ثانیہ کی تائید معلوم ہوتی ہے ، لیکن جماعت ثانیہ کے لئے اس روایت سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ‘ اس لئے کہ جو صاحب نے دوسری جماعت میں شرکت کی ، اُنہوں نے نفل نماز ادا کی کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی امامت میں نماز ادا کی جاچکی تھی ‘ جیساکہ حدیث پاک کے اس ابتدائی حصہ سے معلوم ہوتاہے :’’ایک صاحب ایسے وقت حاضر ہوئے جبکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نماز ادا فرماچکے تھے ‘‘ ۔ جیسا کہ علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ولنا انہ علیہ الصلوۃ والسلام کان خرج لیصلح بین قوم فعاد الی المسجد وقد صلی اہل المسجد فرجع الی منزلہ فجمع اہلہ وصلی ولوجاز ذلک لما اختار الصلوۃ فی بیتہ علی الجماعۃ فی المسجد ولان فی الاطلاق ہذا تقلیل الجماعۃ معنی فانہم لا یجتمعون اذا علموا انہم لا تفوتہم ۔ ۔ ۔ ومقتضی ہذا الاستدلال کراہۃ التکرار فی مسجد المحلۃ ولوبدون اذان ویؤیدہ مافی الظہیرۃ لو دخل جماعۃ المسجد بعد ماصلی فیہ اھل یصلون وحدانا (الدرالمختار علی ھامش رد المحتار ،باب الامامۃ ) البتہ جو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتاہو،اتفاقا اس سے جماعت فوت ہوجائے اور جماعت ثانیہ کریں تو مکروہ نہیں ہے- اگر مسجد کسی شاہ راہ پر یا آبادی سے دورواقع ہوتو اس میں جماعت ثانی کرلینا درست ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے :اوکان مسجد طریق جاز اجماعا۔(الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار ،باب الامامۃ )۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com