AR 451 : تصوف اور احسان2

        حلاوۃ الایمان: لباس صوف کے استعمال سے حلاوتِ ایمان کا حصول ارشادِنبوی ہے۔ حلاوۃ (شیرینی) مطلب یہ ہے کہ طاعات میں لذت پائےٗ دینی مشقتوں کو برداشت کرےٗ اطاعتِ الٰہی اور ترکِ مخالفت سے بندہ اللہ و رسول سے محبت رکھےٗ اور فانی دنیا پر دینی مشقتوں کو ترجیح دےٗ اور یہ کیفیت یعنی حلاوتِ ایمانٗ محسوس بھی ہے اور معنوی بھیٗ چنانچہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو کفر کی جانب لوٹنے پر جبر کرتے ہوئے اقسام کی سزائیں اور اذیتیں دی گئیں تو آپ نے احد احد یعنی اللہ ایک ہے ایک ہے کہا۔ اس طرح آپ نے عذاب کی تلخی کے ساتھ ایمان کی شیرینی کو ملا دیا۔ آپ کے انتقال کے وقت اہلِ خانہ نے واکرباہ۔ ہائے بیقراری کہا۔

اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا  واطرباہ فرمایا یعنی واہ مسرت و شادمانی کہ کل میرے احباب (حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنھم) سے ملاقات ہوگی۔ اس طرح موت کی تلخی کے ساتھ ملاقات احبا کی شیرینی کو ملا دیا۔ یہی ایمان کی حلاوت ہے کہ امراضٗ غفلت و خواہشات سے محفوظ قلب ایمان کے مزے سے لذت اندوز ہوتا ہے جس طرح کہ نفس شہد وغیرہ کی شیرینی سے لذت پاتا ہے۔ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی وضاحت فرمائی؛ ثلاث من کن فیہ وجد حلاوۃ الایمان۔من کان اللہ ورسولہ احب الیہ بما سواھما ومن احب عبد الایحبہ الا اللہ ومن یکرہ ان یعود فی الکفر بعد اذ انقذہ اللہ کما یکرہ ان یلقی فی النار۔

تین چیزیں جس شخص میں ہوں وہ ایمان کی حلاوت کو پا لیا جس کے پاس اللہ و رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں اور جو کسی بندہ کو محض اللہ کے لئے محبوب رکھے (ذاتی کوئی منفعت نہ ہو) اور جو کفر سے بچا لئے جانے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کو اس طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند سمجھتا ہے۔ (بخاری شریف)

لباسِ صوف کے اختیار سے یہ حلاوت جو نعمت عظمیٰ ہے حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ اس لباس کا اختیار خود اس امر کی دلیل ہے کہ صوفی۔ فانی دنیا سے روگردان اور حق تعالیٰ کی جانب یکسوئی کے ساتھ متوجہ ہے اور یہ اس کے حب الٰہی کی کھلی نشانی ہے۔ چنانچہ متأخرین صوفیا نے موٹی چادر اور موٹے ازار کو سیاہ یا گیرو سے رنگ کر استعمال فرمایا کہ لباس کو بار بار دھونے اور بدلنے کی نوبت کم آئے۔ اس ظاہری سادہ لباس کے ساتھ کا باطن بھی متقدمین کی طرح پاک صاف رہا کرتا تھا اوریہی صوفی کی امتیازی شان اور خصوصی نشانی ہے۔ شیخ ابو علی رودباری کا قول ہے:الصوفی من لبس الصوف علی الصفا۔ واذاق الھوی طعم الجفا ولزم طریق المصطفیٰ وکانت الدنیا منہ علی القفا۔

صوفی وہ ہے جو قلب کی صفائی و پاکیزگی کے ساتھ لباس صوف اختیار کرےٗ اور خواہشاتِ نفس کو سختی اور تکلیف کا مزہ چکھائے اور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو لازم کرلے اور دنیا کو پسِ پشت ڈال دے۔

درستگی و پاکیزگی قلب کے بغیر صوف یا اس کا متبادل موٹا لباس استعمال کیا جائے تو صوفیا کے نزدیک ایسا لباس چوپایوں کا ہے۔ صاحب کشف المحجوب فرماتے ہیں:الصفا من اللہ انعام و اکرام والصوف لباس الانعام۔

صفائی قلب و تزکیہ نفس اللہ کا انعام و اکرام ہے اور صوف انعام (چوپایوں) کا لباس ہے۔

موجودہ دور  :  موجودہ دور میں بموجب پیشن گوئی ’’لتتبعن سنن من کان قبلکم شبرا لشبر‘‘ تم ضرور اپنے پیش رو (یہود و نصاریٰ) کے قدم بہ قدم چلو گے۔

’’فخلف من بعدھم خلف اضاعوا الصلاۃ واتبعوا الشھوات‘‘ان صالحین کے بعد برے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے جاتے رہے۔ اسلاف نے زرق برق لباس کو چھوڑ کر خواہشِ نفس کے خلاف جو صوف کالباس اختیار فرمایا تھا اخلاف نے اس کو اور اس کے متبادل لباس کو محض خواہشِ نفس کے مطابق اختیار کروٗ اور اصل عمل کو ترک کر دیاٗ اخلاف کی اس روش کو دیکھ کر بعض بزرگوں نے متنبہ کیا کہ ’’در عمل کوشٗ ہر کہ خواہی پوش‘‘ یعنی اصل عمل ہےٗ لباس نہیں۔ صرف درویش صورت بنانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر سادہ لوح ظاہری نسبت کو دیکھ کر ان کی جانب راغب ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ درویش صفت کے بغیر درویش صورت سے متنفر ہیں۔ حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی کی تصویر کھینچی ہے:

دلقت بچہ کار آید و تسبیح و مرقع حاجت بکلاہ برکی داشتنت نیست

خود راز عملھائے نکوہیدہ بری دار درویش صفت باش و کلاہ تتری دار

مگران نصائح کے باوجودٗ بمضمون ’’لا یبقی من الاسلام الا اسمہ ولا یبقی من القرآن الا اسمہ‘‘ اس وقت اسلام کا نام اور قرآن کا رسم رہ گیا ہے (انا للہ وانا الیہ راجعون) البتہ ہر زمانے میں تا قیام ساعت ایک جماعت حق پر قائم و دائم رہے گی۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے سچ فرمایا کہ ’’لن یصلح اخر ھذہ الامۃ الا ما صلح بہ الاول‘‘ یعنی پچھلی امت کی اصلاح و درستگی بھی اسی طریقے سے ہوگی جس طریقے سے اگلی امت کی اصلاح ہوئی ہے۔ الحاصل صوفیا ظاہر وباطن ہر دو کے جامع ہوتے ہیں اور اپنے مجاہدہ و ریاضت کی وجہ سے ’’مقامِ احسان‘‘ پر فائز ہوتے ہیں جو مقام مشاہدہ و مراقبہ ہے جس کی وضاحت حدیث جبرئیل میں ہے۔

حدیث جبرئیل : مسلم شریف میں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ ایک بارہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بابرکت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا جس کا لباس نہایت سفیدٗ صاف ستھرا اور بال نہایت سیاہ تھےٗ سفر کا اس پر کوئی اثر نہ تھا اور ہم میں سے کوئی شخص اس کو پہچانتا بھی نہیں تھاٗ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زانو سے زانو ملاکر بیٹھ گیا اور دونوں زانو پر ہاتھ رکھ کر کہا: ائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے خبر دیجئے کہ اسلام کیا چیز ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دوکہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ نماز پڑھوٗ زکواۃ دوٗ رمضان کے روزے رکھوٗ اور قدرت ہو تو حج کرو‘‘ کہا آپ سچ کہتے ہیں۔ ہم کو تعجب ہوا کہ سوال بھی کرتا ہے (جو لا علمی کی دلیل ہے) اور خود ہی تصدیق بھی کرتاہے (جو علم ہونے کی دلیل ہے) پھر کہا یہ بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’خدائے تعالیٰ کی ذاتٗ ملائکہٗ اس کی کتابوںٗ پیغمبروں پر ایمان لانا اور خیر و شر کو اللہ ہی کی طرف سے سمجھنا ایمان ہے‘‘ کہا آپ سچ کہتے ہیں۔ پھر کہا یہ بتائیے کہ احسان کیا چیزہے؟ فرمایا ’’اللہ جل شانہ کی اس طرح عبادت کرنا کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم نہیں دیکھتے تو وہ تو دیکھ رہا ہے‘‘ کہا آپ سچ کہتے ہیں۔ پھر اس نے قیامت کے حالات دریافت کئے۔ جب وہ شخص چلا گیا تو حضرت نے پوچھا ائے عمر (رضی اللہ عنہ) تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے؟ میں نے کہا اللہ و رسول داناتر ہیں۔ فرمایا وہ جبرئیل تھے تم کو دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے‘‘۔

حدیث مذکور میں احسان کو ’’انتہائی مرتبہ‘‘ بیان کیا گیا ہے جس کا حصول اسلام و ایمان پر موقف ہے۔ اسلام و ایمان کے بغیر احسان کا مرتبہ حاصل ہی نہیں ہوسکتا۔

اسلام  :  اسلامٗ ظاہر احکام کے بجا لانے کا نام ہےٗ زبان سے توحید و رسالت کا اقرارٗ اعضا سے نمازٗ زکواۃٗ روزہ اور حج کی ادائی ہے۔ ان احکامِ ظاہری کے بجالانے میں جس کا دل تنگ ہو تو اس کو ہدایت کا راستہ ہی نہیں ملتا چنانچہ ارشاد ہے:فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام۔ ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقا حرجا کانما یصعد فی السماء۔

جس کی ہدایت کا اللہ ارادہ کرتا ہے تو اس کے سینہ کو کھول دیتا ہے اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے تو اس کے سینہ کو تنگ کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔

اس نص قطعی سے ثابت ہے کہ جس پر عبادت ظاہر آسان نہ ہو تو یہ سمجھا جائے گاکہ خدائے تعالیٰ اس کو گمراہی میں چھوڑ دینا چاہتا ہے اور جس کو اللہ گمراہی میں چھوڑ دے تو ممکن نہیں کہ اس کو ہدایت اور تقرب الٰہی حاصل ہوسکےٗلہٰذا کوئی تصوف کا نام لے کر اور صوفی کہلاکر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ احکام ظاہری کے بجالانے کی ضرورت نہیں اس کے بغیر ہی وہ انتہائی درجہ پر فائز ہے۔ تصوف تو ان ہر سہ مراتب پر کامل عمل پیرائی کا نام ہےٗ پس جو عبادت مفروضہ سے محروم ہے وہ درجہ احسان کے قریب بھی نہیں آسکتا کیونکہ احسان میں عبادت کی ادائی یکسوئی خضوع و خشوع کے ساتھ ہے۔ حدیثِ جبرئیل سے دین میں ابتدائی درجہ اسلام ہے جس کے بغیر کوئی شخص مسلم ہی نہیں کہلا سکتا۔ احسان تو اس کا انتہائی مرتبہ ہے ابتدائی درجہ کا وجود دوسرے دونوں درجوں میںضروریات سے ہےٗ کیونکہ ایمان کے درجہ میں ذات الٰہیٗ پیغمبروں اور کتابوں پر ایمان لانا ہے۔ اور ان پر اسی طرح ایمان لانا ضروری ہے جو قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ ان کے بغیر خود کوئی شخص کسی بات پر ایمان لائے تو اس کا اعتبار نہیں۔ یعنی دین کے جملہ مدارج میں خدا و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری ضروریات سے ہے ان میں سے کسی کا بھی انکار ایمان کے منافی ہے۔

احسان  : احسان کیا چیزہے کے جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حالتوں کی جانب اشارہ فرمایا: مشاہدہ حقٗ و مراقبہ حق۔ پہلی حالت بلند تر ہے کہ اس میں عابد پر مشاہدہ کا غلبہ ہوتا ہے حتی کہ وہ گویا اپنی آنکھ سے حق کو دیکھتا ہےٗ کانک تراہ کی دوسری حالت میں اس امر کا استحضار ہے کہ حق اس پر مطلع ہے اس کے ہر عمل کو دیکھ رہا ہےٗفانہ یراکان دونوں حالتوں کا ثمرہ اللہ کی معرفت اور اس سے خشیت ہےٗ چنانچہ عمارہ بن قعقاع نے اپنی روایت میں ’ان تخشی اللہ کانک تراہٗسے تعبیر کی ہے۔ مقصودِ کلامٗ عبادات میں اخلاص پیدا کرنے کی ترغیب ہے اور اس پر اکسانا ہے کہ کمال خشوع و خضوع کے ساتھ عبد اپنے رب کا مراقبہ کرے۔ اہلِ حقائق نے صالحین کی صحبت اختیار کرنے پر زور دیا ہے تاکہ ان کے احترام اور ان سے حیا کرتے ہوئے کسی نقص سے ملتبس نہ ہوں تو پھر ایسی ذات کی جناب میں حاضری جو بندے کے ظاہر وباطنٗ سرّ و علانیہ پر مطلع ہےٗ کسی اور جانب توجہ کیونکر ہوسکے گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا خلاصۂ مطلب یہ ہوا کہ ادائے عبادت کے وقت ان تمام مذکورہ آداب و خشوعٗ خضوعٗ یکسوئی کا پورا پورا لحاظ رکھا جائے اس لئے کہ وہ بہر حالت ہمیشہ تجھ کو دیکھ رہا ہےٗاور تیرے ہر عمل سے باخبر ہے۔ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: اوتیت جوامع الکلم مجھے جامع کلمات دئے گئے ہیںٗ یعنی ہر کلمے میں معانی کا سمندر ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: ان لم تکن تراہ فانہ یراک بھی منجملہ جوامع کلمات کے ہے۔ اس میں مقام شہادۃ و مقام مراقبہ دونوں موجود ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ بندے کے لئے اس کی عبادت میں تین مقام ہیں۔

مقام اوّل : یہ ہے جملہ ارکان و شرائط کی ادائی کے ساتھ اس طریقہ پر عبادت ادا کرے کہ وظیفۂ تکلیف ساقط ہوجائے۔

مقام دوّم  : حسبِ صراحت مذکور ادائے عبادت کے ساتھ بحرِ مکاشفہ میں اس طرح مستغرق ہوجائے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ یہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام عالی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: جعلت قرۃ عینی فی الصلاۃ۔ میرے آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ کیونکہ طاعت سے لذت اور عبادت سے راحت ملتی ہے اور انوار کشف کے احاطہ و غلبہ کی وجہ سے غیر کی جانب توجہ و التفات کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں اور یہ گوشہ ہائے قلبِ محبوب سے لبریز ہونے کا ثمرہ ہےٗ اور اس کا نتیجہ احوال معلوم سے فراموشی اور سوم سے بے خودی ہے۔

مقام ثالث  : ارشاد نبوی : ان لم تکن تراہٗ مقام مکاشفہ سے مقام مراقبہ کی جانب نزول ہے یعنی اگر تو اہلِ رویت معنویہ کی طرح عبادت نہیں کرسکتا تو اس طرح عبادت کر کہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ یہ ہر سہ مقاماتٗ احسان کے مقامات ہیں مگر پہلا مقام صحت عبادت کی شرط ہے۔ بقیہ دو مقام خواص کے ہیں جن تک بہت سے لوگوں کی رسائی دشوار ہے۔ صوفیا علی حسب مراتبٗ کسی نہ کسی مرتبہ پر فائر رہتے ہیںٗ دوسروں کو بھی اسی کی تاکید کرتے ہیں تمہیدات عین القضاۃ میں ہے:

نماز اعظم العبادات است زنہار تا بعادت نگزاری وسر اعظم در نمازٗ خضوع درتن خشوع در قلب بر محائے والذین ھم فی صلاتھم خاشعون نماز بے خشوع و خضوع چوں قالب بے روح است و رستگاری مومنان در نماز یا خشوع است۔ قال اللہ تعالیٰ قد افلح المومنون الذین ھم فی صلاتھم خاشعون۔

نماز بزرگ ترین عبادت ہے۔ہر گز نماز کو بطور عادت ادا نہ کرو نماز کا سر اعظم جسم میں خشوع (ڈھیلاپن) اور قلب میں خشوع (عاجزی و شکستگی) ہے۔ مضمون :والذین ھم فی صلاتھم خاشعون خشوع و خضوع کے بغیر نمازٗ بے جان ڈھانچہ ہےٗ مسلمانوں کی نجات نماز میں خشوع سے ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وہ مومن نجات پاگئے جو اپنی نمازوں میں فروتن رہتے ہیں۔

سلطان ابراہیم ادہم کا قول ہے:ہر کہ دل خود را در نماز حاضر نیابد یقین داندکہ در ہدایت براوبستہ اند (رسالہ کشف المحجوب)

جو شخص نماز میں اپنے دل کو حاضر نہ پائے اس کو یقین رکھنا چاہئے کہ راہ ہدایت اس پر بند کر دیا گیا ہے۔

وہ لوگ جو ادعائے تصوف کے ساتھ نماز و روزہ کو غیراہم سمجھتے ہیں اور اپنے مریدین و معتقدین کو بھی یہ باور کراتے ہیں کہ یہ اعمال علمائے ظاہر کے لئے ہیں۔ غور کریں کہ وہ گمراہی کی کس وادی میں اتر گئے ہیں اور شیطان ان پر کس طرح مسلط ہوگیا ہے اعاذنا اللہ منہ۔

وحدۃ الوجود : جن لوگوں کے پاس عبادات خصوص نماز کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کا زیادہ تر مشغلہ وحدۃ الوجود پر بحث و گفتگو ہے۔ حالانکہ یہ مسئلہ عوام میں گفتگو کئے جانے کا ہے ہی نہیں۔ عرفا و صلحائے امت نے عوام کے سامنے اس مسئلہ پر گفتگو سے سخت ممانعت کی ہے کہ یہ ان کے فہم و ادراک سے بالا تر ہے۔ اس پر ایک سر سری اور واضح عام فہم عبارت میں روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ قرآنِ حکیم میں ہے: ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیئا مذکورا۔ انسان پر زمانہ کا ایک ایسا وقت بھی تھا کہ وہ اس میں شئی مذکور نہ تھا۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : کان اللہ ولم یکن معہ شی۔اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے ساتھ کوئی شئے نہ تھی۔ یعنی تمام کائنات معدوم تھیٗ جب حق تعالیٰ کا ارادہ اپنی معرفت کا ہوا تو اشیاء پر اپنے وجود کا پرتو ڈالا جس کی وجہ سے اشیاء محسوس ہوئیں۔ وجودٗ حق تعالیٰ کی صفت ہےٗ اسی طرح علم بھی اس کی ایک صفت ہے اور اسی صفت علم میں جملہ اشیاء موجود ہونے سے پہلے ثابت تھے۔ اسی لئے ان اشیاء کو ’’اعیان ثابتہ‘‘ لکھا جاتا ہے۔ ان پر وجود کی تجلی ہوئی تو وہ وجود میں آئے اور موجودات کہلائے ان تمام موجودات کا وجود ایک ہےٗ البتہ ہر موجود میں دو چیزیں پائی جائیں گی ایک وجود جو شیٔ کا نہیں موجد کا ہے دوسری اس کی عین ثابتٗ لہٰذا کثرت اعیان ثابتہ میں ہے وجود میں نہیں۔ تو اب معلوم ہوا کہ تمام موجودات کا وجود ایک ہی ہے اور اسی کا نام وحدۃ الوجود ہے۔ اس کو مختلف عبارتوں سے تعبیر کیا گیاہے۔

مراتب توحید  : امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے کیمیائے سعادت میں تحریر فرمایا ہے کہ:اعلم ان التوحید علی اربع مراتب الاولی ان یقول لا الہ الا اللہ باللسان وقلبہ غافل عندہ او منکرلہ۔ کتوحید المنافق۔ الثانیۃ ان یصدق بمعنی اللفظ قلبہ کما یصدق بہ عموم المسلمین۔ وھو اعتقادہ۔ والثالثۃ ان یشاھد ذلک بطریق الکشف بواسطۃ نور الحق وھو مقام المقربین و ھو ان یری اشیاء کثیرۃ لکن یراھا صادرۃ من الوحدۃ۔ والرابع۔ ان لا یری فی الوجود الاوحدہ وھو مشاھدۃ الصدیقین۔

توحید کے چار درجے ہیں۔ پہلے درجے میں صرف زبان سے لا الہ الا اللہ کہتے ہیں جیسے منافق کی توحیدٗ کہ دل توحید کا منکر ہے۔ دوسرا درجہ توحید کا وہ ہے جس میں زبان سے اقرار کے سوا دل سے بھی تصدیق کرےٗ عام مسلمانوں کا یہی اعتقاد ہے اور شرع میں اس کا اعتبار ہے۔ تیسرا درجہ توحید کا یہ ہے کہ اعتقاد کے علاوہ مکاشفہ سے بھی توحید کا مقام واسطۂ  نور حق مشاہدہ کرے۔ یہ مقربین کا مقام ہے اس مقام پر ظاہر میں بہت اشیاء نظر آتے ہیں لیکن وہ وحدت سے صادر دیکھتا ہے۔ چوتھا درجہ توحید کا یہ ہے کہ بجز ایک ذات کے جس کا وجود حقیقی ہے کچھ اور نہ دیکھے۔ یہ صدیقین کا مشاہدہ ہے کیونکہ جس کی بصر بصیرت حق میں ہو اس کی نظر عکسی اور ظلی وجود پر نہیں پڑتی۔

خلاصۂ کلام یہ کہ وجود حقیقی ایک ہے اس کے سوا جو کچھ ہے وہ عدم ہے (کل شئی ھالک الاوجھہ) مگر اس حقیقت تک رسائی کے لئے دو امر ضروری ہیں۔ ایک تصفیۂ قلب کہ دل کو ماسویٰ اللہ سے تعلق نہ رہے اور طالب عاشق ‘ذکرِ الٰہی میں ایسا مصروف ہو کہ خود کو بھول جائے اور دوام حضور حاصل ہو۔ دوسراٗ تزکیہ نفس یعنی اخلاق رذیلہ اور عاداتِ قبیحہ سے نفس پاک ہوجائے اور یہ ہر دوام تصفیۂ و تزکیہ ریاضت شاقہ اور مجاہدہ کاملہ پر موقوف ہیں جن سے مشاہدہ حاصل ہوتا ہےٗ اور اس میں لازم شرع شریف کی کمال اتباع ہے۔ اللہ جل شانہ نے جن و انس کی تخلیق کا اصل مقصد معرفت الہ قرار دیا ہے۔

مقصد تخلیق جن و انس  :  وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ میں نے جن و انس کو عبادت ہی کے لئے پیدا کیا ہے او ریہ عبادت حسبِ تعلیم جبرئیل علیہ السلام احسان کے ساتھ ادا ہونا چاہئےٗ اسی لئے خیر امت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نیلیعبدون کی تفسیر ’لیعرفون‘ سے کی ہے یعنی عبادت اس طرح سے ادا کی جائے کہ معرفتِ رب حاصل ہو۔ عارفین حق نہ صرف عبادات مفروضہ کو نہایت اہتما م سے ادا کرتے ہیں بلکہ مستحبات ‘خصوصًا نمازِ تہجد کی پابندی فرماتے ہیں اور نوافل سے اتنا قرب حاصل ہوتا ہے کہ بموجب حدیثِقرب ، اللہ بندہ کا دست و پا اور چشم و گوش ہو جاتا ہے۔ واللہ یھدی من یشآء الی صراط مستقیم۔

 

از:جامع معقول ومنقول حضرت مولانا مفتی محمد عبدالحمید رحمۃ اللہ علیہ

سابق شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ ورکن تاسیس مسلم پرسنل لاء بورڈ




submit

  AR: 516   
زجاجۃ المصابیح انمول علمی تحفہ اورعظیم تحقیقی سرمایہ
..........................................
  AR: 515   
زجاجۃ المصابیح حنفی دلائل کا عظیم حدیثی انسائکلوپیڈیا
..........................................
  AR: 514   
قرآن کریم کے ہم پر حقوق
..........................................
  AR: 513   
استغفار تمام پریشانیوں کا حل
..........................................
  AR: 512   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 511   
تحفظ شریعت ملت کی اولین ذمہ داری
..........................................
  AR: 510   
اسلام حقوق انسانی کامحافظ
..........................................
  AR: 509   
تعلیمات حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ
..........................................
  AR: 508   
حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ عظمت و جلالت
..........................................
  AR: 507   
حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت اور مقبولیت
..........................................
  AR: 506   
قرآن کریم تمام علوم کا سرچشمہ
..........................................
  AR: 505   
امام حسین رشدوہدایت کے مینار اور حق صداقت کے معیار
..........................................
  AR: 504   
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت و استقامت
..........................................
  AR: 503   
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
..........................................
  AR: 502   
راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت
..........................................
  AR: 501   
لیلۃ الجائزۃ (انعام والی رات)
..........................................
  AR: 500   
اعتکاف احکام ومسائل
..........................................
  AR: 499   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
..........................................
  AR: 498   
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت وعظمت پرمشتمل پچیس 25 احادیث شریفہ
..........................................
  AR: 497   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved