AR 477 : "روزہ" حقیقت اور مقصدیت

                "روزہ" حقیقت اور مقصدیت

روزہ کو عربی میں ’’صوم‘‘کہے ہیں،اور’’ صوم‘‘ کے معنی شریعت میں نیت کے ساتھ‘ اپنے نفس کو کھانے، پینے اور جماع سے‘ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک روکنے کے ہیں۔

 روزہ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ مدینہ منورہ میں ہجرت کے ڈیڑھ برس بعد رمضان کے روزے فرض ہوئے۔

 اللہ تعالی نے کئی عظیم فائدوں کی وجہ سے روزہ کو فرض کیا ہے۔ منجملہ ان فوائد کے ایک تو نفس امارہ کی اصلاح ہے؛ کیوں کہ جب روزہ کی وجہ سے نفس کو بھوکا رکھا جاتا ہے تو تمام اعضاء جسمانی سیر رہتے ہیں۔ ہر عضو اپنی اپنی خواہشات سے رک جاتا ہے اور اللہ تعالی کی اطاعت پر مائل ہوجاتا ہے۔ مثلاً :آنکھ دیکھنے کے گناہ سے، زبان بولنے کے گناہ سے اور کان سننے کے گناہ سے اور فرج(شرمگاہ) شہوت کے گناہ سے محفوظ رہتے ہیں، جس سے دل کی صفائی حاصل ہوتی ہے۔

 اس کے برخلاف جب نفس ‘روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے کھا پی کر سیر رہتا ہے تو سارے اعضاء بھوکے ہوجاتے ہیں، اور گناہ کے کاموں پر مائل ہوجاتے ہیں، جس سے دل سیاہ ہونے لگتا ہے۔

روزہ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ روزہ رکھنے سے روزہ دار میں غرباء پر شفقت اور مہربانی کرنے کی صفت پیدا ہوتی ہے، اس لئے کہ روزہ دار‘ روزہ کی حالت میں بھوک کی جو تکلیف محسوس کرتا ہے تو اس کا یہ احساس روزہ نہ رکھنے کی حالت میں عام دنوں میں بھی باقی رہتا ہے، اس احساس کی وجہ سے وہ غریبوں سے اچھا سلوک کرتا ہے، جس کا اجر اس کو اللہ تعالی کے پاس مل جاتا ہے۔

روزہ کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ روزہ دار کو روزہ کی وجہ سے فقراء کے حال سے موافقت پیدا ہوجاتی ہے۔ فقراء تو اکثر بھوکے ہی رہتے ہیں اور بھوک کی تکلیف برداشت کرتے ہیں اور روزہ دار‘ روزہ رکھ کر بھوک کی تکلیف کو برداشت کرکے فقراء کے حال سے مشابہت پیدا کرلیتا ہے ،اور اس سے اللہ تعالی کے پاس اس کا درجہ بلند ہوتا ہے، چنانچہ حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک شخص سخت سردی کے موسم میں حاضر ہوا، اس نے دیکھا کہ آپ کے جسم پر کپڑے نہیں ہیں اور سردی سے کانپ رہے ہیں، اُس نے دریافت کیا کہ آپ نے ایسی سردی میں اپنے کپڑے کیوں اتار دیئے ہیں، تو حضرت بشر رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا: بھائی! فقراء بہت ہیں اور میں ان کو کپڑے نہیں دے سکتا ہوں، تو اس لئے میں کپڑے اتار کر سردی کو برداشت کررہا ہوں تاکہ ان کی اس تکلیف میں شریک ہوجاؤں۔

ملخص از:نور المصابیح (ترجمہ زجاجۃ المصابیح،مؤلفہ حضرت ابو الحسنات سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ)،جلد:پنجم،کتاب الصوم

www.ziaislamic.com




submit

  AR: 495   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
..........................................
  AR: 494   
رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ
..........................................
  AR: 493   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
  AR: 492   
رمضان کے تین عشرے اور ان کی خصوصیات
..........................................
  AR: 491   
حسن اخلاق کی تعلیم اور اسلام
..........................................
  AR: 490   
حسد کی تباہ کاریاں اور اس کے نقصانات
..........................................
  AR: 489   
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآَوَى کی نفیس تفسیر
..........................................
  AR: 488   
حدیث زيارت 'علماء ومحدثین کی نظر میں
..........................................
  AR: 487   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حج
..........................................
  AR: 486   
حج کے اقسام:
..........................................
  AR: 485   
حج ایک عظیم فریضہ،استطاعت کے باوجود ترک کرنے پر سخت وعید
..........................................
  AR: 484   
حج ایک اسلامی فریضہ
..........................................
  AR: 483   
کامیاب کون؟
..........................................
  AR: 482   
عمر رفتہ کا ہر لمحہ قابل قدر
..........................................
  AR: 480   
ارشادات وفرمودات‘حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ
..........................................
  AR: 479   
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
..........................................
  AR: 478   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
  AR: 477   
"روزہ" حقیقت اور مقصدیت
..........................................
  AR: 476   
قرآن کریم کی تلاوت کے آداب
..........................................
  AR: 475   
دعاء اور اس کی قسمیں
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved