AR 482 : عمر رفتہ کا ہر لمحہ قابل قدر

عمر رفتہ کا ہر لمحہ قابل قدر

حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کےلئے اپنے مبارک ارشادات ومقدس فرمودات میں وقت کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے اسے نعمت قرار دیاہے، چنانچہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صلی الله عليه وسلم: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا کَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ، الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ  . 

ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: دونعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ اس سے غفلت میں رہتے ہیں: (1)تندرستی اور(2) فرصت۔

     (صحیح البخاری ،کتاب الرقاق، باب ما جاء فی الرقاق وأن لا عیش إلا عیش الآخرۃ . حدیث نمبر6412۔ زجاجۃ المصابیح ،ج4،کتاب الرقاق ،ص148)

     جن دونعمتوں کی جانب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کومتوجہ فرمایا ہے وہ اوقات زندگی سے عبارت ہیں۔

     نیزایک روایت کے مطابق حضورپاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ حالات کوغنیمت جاننے اور ان کی قدردانی کرنے کی تاکیدفرمائی ہے:

وَفِيمَا رَوَی عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الاَوْدِیُّ ، مُرْسَلا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله عليه وسلم لِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُهُ: اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ : شَبَابَکَ قَبْلَ هَرَمِکَ ، وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ ، وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ ، وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ ، وَحَيَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ ۔

ترجمہ:حضرت عمرو بن میمون اودی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :تم پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو! اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ، اپنی تندرستی کو بیماری سے پہلے ، اپنی تونگری کو محتاجی سے پہلے ، اپنی فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔

     ( الاداب للبیہقی‘ باب من قصر الأمل وبادر بالعمل قبل بلوغ الأجل‘ حدیث نمبر809۔ مشکوۃ المصابیح‘ ص443)

     سال گزشتہ کے آغاز کے وقت کتنے لوگ ہماری معیت میں تھے جو' اب ہمارے ساتھ موجود نہیں ہیں،موت کے پنجہ نے انہیں آدبوچا، اللہ تعالی کا صدشکرہے کہ اس نے ہمیں مہلت عطافرمائی ،ہمیں چاہئیے کہ اس فرصت کوغنیمت جانیں ،زندگی کے ان لمحات کے قدرشناس بنیں، عالم شباب کواطاعت الہی میں صرف کریں اس سے پہلے کہ ضعف وکمزوری لاحق ہوجائے ،حالت صحت وتندرستی میں دین کے وہ کام کرلیں جومرض وبیماری کی کیفیت میں صحیح طورپرانجام نہیں دئے جاسکتے۔

     زندگی کے لمحات بیش بہا ،نہایت قیمتی اور قابل قدر ہیں،اپنی عمر رواں کے بقیہ لمحات کو غنیمت جانیں،انہیں لایعنی افعال،بے فائدہ اعمال میں ہرگز صرف نہ کریں،بلکہ انہیں اللہ تعالی کی فرمانبرداری اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کی تابعداری میں گزاریں،انسان کو اپنی حیات مستعار کے لمحات وساعات کی اس وقت قدر ہوگی جب وہ اس عالم سے کوچ کررہا ہوتاہے،لیکن اس وقت کا افسوس کرنا بے فائدہ ثابت ہوگا،ارشاد الہی ہے:

حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ  لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا-

ترجمہ:اور یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو وہ اس وقت کہتا ہے:اے میرے رب!مجھے دنیا میں واپس بھیج دے،تاکہ میں جس (دنیا)کو چھوڑکرآیا ہوں اس میں پھر جاکر نیک کا م کروں،ہرگز ایسا نہيں ہوگا،یہ تو اس کی ایک بات ہے جسے وہ کہتا جارہا ہے-(سورۃ المؤمنون"99/100)

طاعت الہی سے غافل رہکر جن اوقات کو لایعنی امور میں ضائع کیا جاتا ہے،جہنم میں جانے کے بعد بھی بندہ اس پر افسوس کرتاہے،سورۃ المؤمنون میں ہے:

رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ  قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ -

ترجمہ:وہ لوگ کہینگے:اے ہمارے رب!ہم کو اس جہنم سے نکال دے،اگر ہم دوبارہ (ایسا عمل)کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں،ارشاد ہوگا:ذلت ورسوائی کے ساتھ اسی جہنم میں پڑے رہواور مجھ سے بات مت کرو-(سورۃ المؤمنون:108)

 

     زندگی کا ایک ایک لمحہ اس قدر بیش بہا،گراں قیمت اور قابل قدر ہے کہ اہل جنت کوجنت میں داخل ہونے کے بعد بھی لمحات حیات کے بے فائدہ گزرجانے پرحسرت ہوگی-

مسند امام احمد اور کنزالعمال شریف ،کتاب السلام وفضائلہ،حق المجالس والجلوس میں حدیث پاک ہے:

       عَنْ أَبِیْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِیِّ صلی الله عليه وسلم قَالَ  مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَداً لاَ يَذْکُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ إِلاَّ کَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَابِ .

ترجمہ:کوئی قوم ایسی محفل نہیں سجاتی جس میں وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتی اور حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں درودشریف نہیں پڑھتی مگر یہ کہ وہ محفل قیامت کے دن ثواب کی کمی وجہ سے ان کےلئے حسرت کاسبب ہوتی ہے اگرچہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں ۔

     (مسند الامام احمد ، حدیث نمبر10225۔ کنزالعمال ،کتاب السلام وفضائلہ،حق المجالس والجلوس،حدیث نمبر25454)

     از:مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

 www.ziaislamic.com

 

 




submit

  AR: 502   
راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت
..........................................
  AR: 501   
لیلۃ الجائزۃ (انعام والی رات)
..........................................
  AR: 500   
اعتکاف احکام ومسائل
..........................................
  AR: 499   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
..........................................
  AR: 498   
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت وعظمت پرمشتمل پچیس 25 احادیث شریفہ
..........................................
  AR: 497   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 496   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 495   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
..........................................
  AR: 494   
رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ
..........................................
  AR: 493   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
  AR: 492   
رمضان کے تین عشرے اور ان کی خصوصیات
..........................................
  AR: 491   
حسن اخلاق کی تعلیم اور اسلام
..........................................
  AR: 490   
حسد کی تباہ کاریاں اور اس کے نقصانات
..........................................
  AR: 489   
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآَوَى کی نفیس تفسیر
..........................................
  AR: 488   
حدیث زيارت 'علماء ومحدثین کی نظر میں
..........................................
  AR: 487   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حج
..........................................
  AR: 486   
حج کے اقسام:
..........................................
  AR: 485   
حج ایک عظیم فریضہ،استطاعت کے باوجود ترک کرنے پر سخت وعید
..........................................
  AR: 484   
حج ایک اسلامی فریضہ
..........................................
  AR: 483   
کامیاب کون؟
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved