AR 488 : حدیث زيارت 'علماء ومحدثین کی نظر میں

حدیث زيارت 'علماء ومحدثین کی نظر میں

     کتب حدیث وفقہ میں جہاں حج کے مناسک اور اس کے آداب کا ذکر ہے وہیں روضۂ اطہر کی حاضری اور اس کے آداب کا بھی ذکر موجود ہے، اورزائرین روضۂ اقدس کے حق میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفاعت خاصہ کا وعدہ بھی فرمایا‘چنانچہ سنن دارقطنی،شعب الإیمان للبیھقی،جامع الأحادیث،جمع الجوامع،مجمع الزوائد اور کنز العمال وغیرہ میں حدیث مبارک ہے:

     عَنِ ابْنِ عُمَرَ  قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہُ شَفَاعَتِیْ ۔

     ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے میرے روضۂ اطہر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوچکی ہے۔

     (سنن الدارقطنی: کتاب الحج، حدیث نمبر:2727۔صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الحج او المناسک ،باب زیارۃ قبر النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، حدیث نمبر۔3095۔شعب الإیمان للبیھقی، الخامس و العشرین من شعب الإیمان و ہو باب فی المناسک ، فضل الحج و العمرۃ حدیث نمبر:4159۔جامع الأحادیث، حرف المیم، حدیث نمبر: 22304۔جمع الجوامع، حرف المیم،  حدیث نمبر: 5035۔ مجمع الزوائد ،ج 4،ص 6،حدیث نمبر:5841۔کنز العمال ، زیارۃ قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم،حدیث نمبر: 42583۔المواہب اللدنیۃمع شرح الزرقانی،الفصل الثانی فی زیارۃ قبرہ الشریف ومسجدہ المنیف،ج12،ص179)

حدیث زیارت صحیح ومستند د‘محدثین کی صراحت

     اس حدیث شریف کو کئی ایک محدثین نے روایت کیا ،اس کے قابل استدلال ہونے سے متعلق ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:

     رواہ الدارقطنی وغیرہ وصححہ جماعۃ من الائمۃ۔

     ترجمہ:اس حدیث پاک کو امام دارقطنی اور دیگر محدثین نے روایت کیا اور ائمہ ومحدثین کی ایک جماعت نے اُسے صحیح قرار دیاہے۔

      (شرح الشفا لعلی القاری بھامش نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض ، ج3، ص511)

     اور علامہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں تفصیل بیان کی ہے:

زیارۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من أفضل الطاعات وأعظم القربات لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم من زار قبری وجبت لہ شفاعتی رواہ الدارقطنی وغیرہ وصححہ عبد الحق ولقولہ صلی اللہ علیہ وسلم من جاء نی زائرا لا تحملہ حاجۃ إلا زیارتی کان حقا علی أن أکون لہ شفیعا یوم القیامۃ رواہ الجماعۃ منہم الحافظ أبو علی بن السکن فی کتابہ المسمی بالسنن الصحاح فہذان إمامان صححا ہذین الحدیثین وقولہما أولی من قول من طعن فی ذلک .

        ترجمہ:حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مقدسہ افضل ترین اطاعت اور قربِ خداوندی کا عظیم ترین ذریعہ ہے ، اس کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک ہے : جس نے میرے روضۂ اطہر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوچکی ہے۔ امام دارقطنی اور دیگر محدثین نے اسے روایت کیا اور محدث عبد الحق نے اسے صحیح قرار دیا۔ اور یہ حدیث پاک بھی دلیل ہے ‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو میری زیارت کے لئے اس طرح آئے کہ بجز میری زیارت کے اس کا کوئی اور مقصد نہ ہوتوقیامت کے دن اس کی شفاعت میرے ذمۂ کرم پرہے ۔اس کی روایت محدثین کی ایک جماعت نے کی ہے ، ان میں محدث ابو علی بن سکن ہیں جنہوں نے اپنی کتاب ’’سنن صحاح ‘‘میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا، یہ دونوں حضرات فن حدیث میں امامت کا درجہ رکھتے ہیں جنہوں نے ان روایتوں کو صحیح کہا ہے اور ان کا کہنا اس شخص کے کہنے سے اولی وبہتر ہے جس نے اس میں طعن کیا۔

     (حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ‘ کتاب المناسک‘ باب فضل المدینۃ‘ حدیث نمبر 3103)

     علامہ شہاب الدین خفاجی نے نسیم الریاض شرح شفامیں اس کی مزید تفصیل بیان کی ہے:

      رواہ ابن خزیمۃ والبزاروالطبرانی والذھبی وحسنہ ولہ طرق وشواہد تعضدہ والطعن فی رواتہ مردود کمابینہ السبکی واطال فیہ۔

        ترجمہ:اس حدیث مبارک کو امام ابن خزیمہ‘ امام بزار‘ امام طبرانی‘ علامہ ذہبی نے روایت کیا اور علامہ ذہبی نے اُسے حسن قرار دیا‘ اس روایت کی کئی سندیں اور متعدد شواہد ہیں جو اِس روایت کی تائید کررہی ہیں ، اس حدیث پاک کے روایوں پر طعن ناقابل قبول ہے جیساکہ امام سبکی نے تفصیل کے ساتھ بیان کردیاہے ۔

      (نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض ، ج3، ص511)

     اس روایت کو نقل کرنے کے بعد شارح بخاری امام قسطلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا:

       ورواہ عبد الحق فی احکامہ الوسطی وفی الصغری وسکت عنہ،وسکوتہ عن الحدیث فیھما دلیل علی صحتہ۔

     ترجمہ:اس روایت کو امام عبد الحق نے اپنی کتاب"احکام وسطی"اور "احکام صغری"میں بیان کیا اور اس کی سند پر کچھ کلام نہ کیا،اور ان دونوں کتابوں میں ان کا سند پر کلام نہ کرنا اس حدیث شریف کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔

     (المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،الفصل الثانی فی زیارۃ قبرہ الشریف ومسجدہ المنیف،ج12،ص179)

     بیان کردہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس روایت کو بعض محدثین نے سندحسن سے اور ایک جماعت نے صحیح سند سے بیان کیاہے ۔

از:مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

www.ziaislamic.com



submit

  AR: 495   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
..........................................
  AR: 494   
رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ
..........................................
  AR: 493   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
  AR: 492   
رمضان کے تین عشرے اور ان کی خصوصیات
..........................................
  AR: 491   
حسن اخلاق کی تعلیم اور اسلام
..........................................
  AR: 490   
حسد کی تباہ کاریاں اور اس کے نقصانات
..........................................
  AR: 489   
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآَوَى کی نفیس تفسیر
..........................................
  AR: 488   
حدیث زيارت 'علماء ومحدثین کی نظر میں
..........................................
  AR: 487   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حج
..........................................
  AR: 486   
حج کے اقسام:
..........................................
  AR: 485   
حج ایک عظیم فریضہ،استطاعت کے باوجود ترک کرنے پر سخت وعید
..........................................
  AR: 484   
حج ایک اسلامی فریضہ
..........................................
  AR: 483   
کامیاب کون؟
..........................................
  AR: 482   
عمر رفتہ کا ہر لمحہ قابل قدر
..........................................
  AR: 480   
ارشادات وفرمودات‘حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ
..........................................
  AR: 479   
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
..........................................
  AR: 478   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
  AR: 477   
"روزہ" حقیقت اور مقصدیت
..........................................
  AR: 476   
قرآن کریم کی تلاوت کے آداب
..........................................
  AR: 475   
دعاء اور اس کی قسمیں
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved