AR 489 : أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآَوَى کی نفیس تفسیر

أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآَوَى  کی نفیس تفسیر

قرآن کریم اللہ تعالی کا مقدس کلام ہے جواعجازی شان کا حامل ہے ، فصاحت و بلاغت کے منتہائے کمال پر ہے ، جس کی آیات بینات وکلمات طیبات میں سے ہر ایک میں علوم و معارف ، اسرار و حقائق کے بحر بیکراں موجزن ہیں۔

 لفظ  " یتیم " کی تفسیر کے ضمن میں جو معروف و مشہور معنی ذکر کیا جاتا ہے وہ اپنی جگہ درست ہے لیکن یہ لفظ وہی ایک معنی میں منحصر نہیں ہے بلکہ مفسرین کرام نے اس کے دیگر معانی بھی بیان فرمائے ہیں ۔

امام مجاہدرضی اللہ عنہ جنہوں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما و دیگر صحابہ کرام کی وساطت سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  سے علم و معرفت کا خصوصی فیض پایا ہے ، جلیل القدر تابعی‘ علوم قرآن کے متبحر عالم ، محدث و امام ہیں ، فرماتے ہیں :

وعن مجاهد: هو من قول العرب: درة يتيمة، إذا لم يكن لها مثل.

فمجاز الآية: ألم يجدك واحدا في شرفك لا نظير لك، فآواك الله ۔

(تفسیر قرطبی ج 20ص 96- تفسیر ثعلبی ،زیر آیت سورۂ والضحی،6)

لفظ یتیم عرب کے محاورہ " درة يتيمة " سے ماخوذ ہے ، جس کے معنی ہے وہ نایاب موتی جو قدروقیمت میں بے مثال ہو ۔

پس آیت کریمہ کے معنی یہ ہوں گے کہ " اے حبیب ! کیا اس نے آپ کو شرف و فضیلت میں یکتا و بے مثال نہیں پایا کہ آپ جیسی شان والا کوئی نہیں تو اللہ نے آپ کو اپنے آغوش کرم میں رکھا "۔

علامہ سید محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ   نے تفسیر روح المعانی ، ج: 16، ص : 290 ، میں اس معنی کو ذکر کرکے اسی کو اولی و انسب قرار دیا۔ جیساکہ آپ فرماتے ہیں ۔ والأولى عليه أن يقال ألم يجدك واحداً عديم النظير في الخليقة لم يحو مثلك صدف إلا مكان فآواك إليه وجعلك في حق اصطفائه-

ترجمہ : بہتر و اولی یہ ہے کہ اس کی یوں تفسیر کی جائے : کیا اس نے آپ کو تمام کائنات میں یکتا و بے مثال نہیں پایا کہ کائنات کے صدف نے آپ جیسی شان والا درلاثانی دیکھا ہی نہیں ، تو اس نے آپ کو اپنے آغوش کرم میں رکھا اور قرب خاص و مقام محبوبیت کے لئے آپ کومنتخب فرمالیا۔

علامہ اسمعیل حقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ   نے تفسیر روح البیان ، ج : 10 ،میں صاحب کشاف کے حوالہ سے اس تفسیر کو انوکھی و بے مثال تفسیر قرار دیا چنانچہ آپ فرماتے ہیں ۔

 وفى الكشاف ومن بديع التفاسير أنه من قولهم درة يتيمة وان المعنى الم يجدك واحدا فى قريش عديم النظير اى فى العز والشرف فآواك فى دار اعدآئك فكنت بين القوم معصوما محروسا .

غرضکہ آیت مذکورہ بالا میں وارد لفظ " یتیم " کا ترجمہ یکتا و بے مثال اپنی جگہ حق و درست ترجمہ ہے جیسا کہ ائمہ تفسیر کی تصریحات سے واضح ہوچکا۔

اس کی تائید احادیث صحیحہ سے بھی ہوتی ہے ، حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کے سراپائے مبارک کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔

 نَاعِتُهُ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلاَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ. صلى الله عليه وسلم ۔

 آپ کی نعت و توصیف ، مدحت و ثناء کرنے والا بالآخر یہ کہتا ہے کہ میں نے آپ جیسا نہ پہلے کبھی دیکھا نہ بعد میں –

(جامع ترمذی،ابواب المناقب، باب ما جاء فى صفة النبى صلى الله عليه وسلم، حدیث نمبر:3999-

شمائل ترمذی ص 1، حدیث نمبر:6-

مصنف ابن ابی شیبہ،ج:7،ص:445-

مسند احمد بن حنبل، مسند على بن أبى طالب، ج 1ص 187/188، حدیث نمبر: 757۔

صحیح ابن حبان ج 6 ص 58۔

دلائل النبوة للبيهقي، باب جامع صفة رسول الله صلى الله عليه وسلم، حدیث نمبر:230-

شعب الإيمان للبيهقي،فصل في خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم وخلقه، حدیث نمبر: 1399-

جامع الاحادیث للسیوطی، مسند على بن أبى طالب، حدیث نمبر: 34345-

       كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، كتاب الشمائل من قسم الأفعال ، باب فى حليتہ صلى الله عليه و سلم، حدیث نمبر:  18568-)

از: مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر-

www.ziaislamic.com

 




submit

  AR: 515   
زجاجۃ المصابیح حنفی دلائل کا عظیم حدیثی انسائکلوپیڈیا
..........................................
  AR: 514   
قرآن کریم کے ہم پر حقوق
..........................................
  AR: 513   
استغفار تمام پریشانیوں کا حل
..........................................
  AR: 512   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 511   
تحفظ شریعت ملت کی اولین ذمہ داری
..........................................
  AR: 510   
اسلام حقوق انسانی کامحافظ
..........................................
  AR: 509   
تعلیمات حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ
..........................................
  AR: 508   
حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ عظمت و جلالت
..........................................
  AR: 507   
حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت اور مقبولیت
..........................................
  AR: 506   
قرآن کریم تمام علوم کا سرچشمہ
..........................................
  AR: 505   
امام حسین رشدوہدایت کے مینار اور حق صداقت کے معیار
..........................................
  AR: 504   
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت و استقامت
..........................................
  AR: 503   
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
..........................................
  AR: 502   
راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت
..........................................
  AR: 501   
لیلۃ الجائزۃ (انعام والی رات)
..........................................
  AR: 500   
اعتکاف احکام ومسائل
..........................................
  AR: 499   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
..........................................
  AR: 498   
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت وعظمت پرمشتمل پچیس 25 احادیث شریفہ
..........................................
  AR: 497   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 496   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved