AR 497 : روزہ فوائد وثمرات

روزہ فوائد وثمرات

جو شخص ماہ رمضان کے آنے پر خوش ہوتا ہے اس کے بدن پر دوزخ کی آگ حرام کردی جاتی ہے،اس مہینہ میں روزہ داروں کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں،روزی کشادہ ہوتی ہے ،کھانا ،پینا ،سونا سب کچھ عبادت میں داخل ہوتا ہے،تھوڑے عمل پر بہت ثواب ملتا ہے، فرشتے  روزہ داروں کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں ،شیاطین قید ہوجاتے ہیں،رحمت کے دریا بہائے جاتے ہیں،جنت کے دروازے کھلتے اور دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں،سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ خوش اور راضی ہوتا ہے۔

 روزہ وہ چیز ہے جو دل کے آئینہ کو نور سے روشن کردیتا ہے،نفس کی بنجر اور ہوا وہوس کی پر خار زمین کو بیداری اور کمخوری سے گلزار بنادیتا ہے،روزہ ایسی فرحت دینے والی ہوا ہے جو مردہ دل اور افسردہ روح کو ابدی زندگی بخشتی ہے،یہ ایسا فراش ہے کہ ریاضت کی جھاڑو سے دل اور روح کے وسیع جنگل کو معصیت کے خس وخاشاک سے پاک کردیتا ہے۔

       جب بندہ خواہشات کے دروازے بند کرلیتا ہے تو دل کے دروازے کھل جاتے ہیں،جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم عمر بھر بھوکے رہے،آپ لوگ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کیسے چاہنے والے ہیں کہ ایک مہینہ بھی روزہ رکھ کر ان کی مشابہت پیدا نہيں کرسکتے ،کیا محبت کرنے والے ایسےہی ہوتے ہیں؟

       روزہ  کا اقل ترین فائدہ یہ ہے کہ دو رمضانوں کے درمیان جو گناہ ہوتے ہیں وہ معاف ہوجاتے ہیں،بے روزہ اشخاص یہ سمجھتے ہیں کہ روزہ دار تمام دن بھوکے پیاسے مرتے ہیں ،ان کا خیال غلط ہے،وہ روٹی پانی کوہی غذا سمجھے ہوئے ہیں،حالانکہ ایک اورروحانی غذا بھی ہے جو روزہ داروں کو کھلائی جاتی ہے ،یہ وہ غذا ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جب آپ چھ چھ دن کا روزہ رکھتے تھے کھلائی جاتی تھی،بجائے روزہ کے ایک روز فاقہ کرکے دیکھئے ؛ضعف ہوگا ،بے چینی ہوگی ،صبر نہ ہوگا۔

       برخلاف اس کے روزہ میں ضعف ہوگا نہ بھوک لگے گی اور نہ بے چینی وبے صبری ہوگی،تو پھر فاقہ میں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟معلوم ہوا کہ فاقہ میں روحانی غذا نہیں پہنچتی ،افطار کے قریب روحانی غذا روک دی جاتی ہے،اس لئے جسمانی غذا کی ضرورت ہوتی ہے-

       رمضان شریف بھی کیا لطف کا زمانہ ہے!دن کو روحانی غذا اور رات کو جسمانی غذا –

       روزہ دار جس وقت افطار کرتے ہیں تو ان پر خدائے تعالی کی رحمت نازل ہوتی ہے-

      حدیث شریف:

       فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ روزہ داروں کے لئے دو وقت خوشی ہے:ایک تو افطار کے وقت،دوسرے دیدار الہی کے وقت-

       افطار کے وقت روزہ دار کی خوشی کو دیکھو اور بے روزہ دار کے دل سے پوچھو کہ اسے کس قدر پشیمانی وندامت ہوتی ہے-

       قیامت کے دن سب سے بڑھ کر دیدار الہی کی خوشی ہوگی،دیدار کی نعمت جس کوملے گی اس کے مقابلہ میں سارا جہاں بلکہ کون ومکاں ہیچ ہوں گے-

       روزہ دار دیدار کا لطف اٹھاتے ہوں گے،اور بے روزہ دار اس نعمت سے محروم ہوں گے-

       ہائے!اس وقت ان کے دل پر جو خجالت وشرمندگی ہوگی کوئی زبان سے اس کو بیان نہيں کرسکتا-

       روزہ انسان کی ذہنی ،روحانی،اخلاقی اور خیالی ترقی کا ذریعہ ہے،بغیر اس کے حقیقی تقوی تک رسائی ناممکن ہے-

       روزہ ایک بھٹی ہے جو طیب کو خبیث سے جدا  کرتی اور کھوٹے کو کھرے سے الگ کردیتی ہے-

       حدیث شریف میں روزہ کی ایک حکمت یہ بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ جو اپنے پیٹ کو بھوکا'رکھتا ہے اس کا مادۂ غور وفکر بڑھ جاتا ہے،طبیعت میں رسائی ،قلب میں رقت اور نرمی پیدا ہوتی ہے-

       اگر معدہ کی اس طرح روک تھام نہ ہوتو کثرت خواب وخور سے قساوت  قلبی وکور باطنی پیدا ہوجاتی ہے-

       روزہ سرکاری جائداد ہے اور عبادتيں تو قیامت میں حق داروں کو دلادی جائیں گی ،مگر روزہ کسی کو نہيں دیا جائے گا-

      حدیث شریف:

       فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے:میر ی امت کی شناخت روزہ ہے-

اس لئے  کہ جب بندہ خواہشات  کے دروازے بند کرلیتا ہے تو دل کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوسرے عالم کی  سیر کرتا ہے،جس طرح  سیاح ایک شہر سے دوسرے شہر کی سیر کرتا ہے اس طرح روزہ دار جنت میں داخل ہوگا تو حکم ہوگا جس طرف چاہے جائے،جہاں چاہے رہے،روزہ کبھی اس محل میں تو کبھی اس محل میں سیر کرتا پھرے گا،یہ لطف کا زمانہ تیس (30) دن میں ہم کوخدائے تعالی کا مقرب بنا کر ختم ہوجاتا ہے-

       خدائے تعالی سے قرب بڑھنا اور اس کے نزدیک بیٹھنا چاہتے ہو تو نفل روزے بھی رکھو-

       حضرات!جب روزہ  اللہ تعالی کو ایسا پیارا ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس  کی اس قدر تعریف فرمارہے ہیں پھر بھی کوئی روزہ نہ رکھے تو اس سے بڑھ کر کوئی بدنصیب نہيں ہے!-

       نفس امارہ نے اس کو اپنا غلام بنالیا ہے ،ذرا بھی اس کو اپنے مالک  کا خیال نہيں ہے،تف ہے ایسی زندگی پر کہ گائے بیل اور جانوروں کی طرح سوائے پیٹ پالنے کے اور کچھ نہیں ہوسکتا،ایسا شخص آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی ذلیل وخوار رہتا ہے-

ماہ رمضان کے تین دہے'اور ان کی حکمت!

       رمضان ایسا مبارک مہینہ ہے کہ جس کا پہلا دہا رحمت ہے،دوسرا دہا مغفرت  اور تیسرے دہے میں دوزخ سے نجات ملتی ہے-

       پہلا دہا رحمت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بغیر اللہ تعالی کی توفیق کے کوئی عمل نہیں ہوسکتا،روزہ رکھنے ،تراویح پڑھنے،قرآن شریف سننے اور پڑھنے کی توفیق نہ دیتا تو ہم کیا کرتے؟

       اللہ تعالی کی یہ رحمت ہے کہ شروع رمضان ہی سے ان عبادتوں کی توفیق عطا فرمائی ،اس لئے یہ دہا "رحمت "ہے-

       اللہ تعالی فرماتا ہےکہ نیکیوں سے برائیاں معاف ہوجاتی ہیں،تو جب پہلے دہے میں توفیق ہونے کی وجہ سے نیکیاں شرو ع ہوئیں اور ان کی وجہ سے گناہ معاف ہوگئے تو دوسرا دہا مغفرت کا ہوا-

       گناہ معاف ہونا ہی دوزخ سے بچاتا ہے،اس لئے تیسرا دہا دوزخ سے نجات کا ہوا-

اس سے دوباتیں معلوم ہو ئیں،ایک تو یہ کہ جن کوروزے اور تراویح نصیب نہيں ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے کوئی ایسا برا کام  ہوا ہے اس لئے خدائے تعالی انہیں چاہتا کہ وہ روزے رکھیں،تراویح پڑھیں،جس کی وجہ سے ان کی مغفرت ہوجائے،دوزخ سے نجات مل جائے-

       صاحبو!یہ بہت خوفناک بات ہے !توبہ کرنا چاہئے،پھر جن لوگوں نے روزے رکھے ،تراویح پڑھی ،قرآن مجید سنااور تلاوت کی وہ اپنے اعمال پر ناز نہ کریں اور اسے کچھ اپنا کمال نہ سمجھیں،جب تک کوئی بات من جانب اللہ دل میں نہيں ڈالی جاتی  آدمی کچھ نہيں کرسکتا،اور یہ خدائے تعالی کے اختیار میں ہے،جب تک ادھر سے مدد نہ ہو کچھ نہيں ہوسکتا،اس لئے فخر نہ کریں-

       ہاں !اس بات پر خوش ہونا چاہئے کہ اللہ تعالی نے ہماری مدد فرمائی،توفیق دی  کہ ہم نے روزہ رکھا،تراویح پڑھی،قران شریف سنا اور پڑھا-

      

(اخذ واستفادہ:مواعظ حسنہ،از صفوۃ المحدثین،زبدۃ العارفین،خاتمۃ المحققین،ابو الحسنات حضرت  سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن   رحمۃ اللہ تعالی علیہ، جلد اول،ص:188/191)-

www.ziaislamic.com




submit

  AR: 503   
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
..........................................
  AR: 502   
راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت
..........................................
  AR: 501   
لیلۃ الجائزۃ (انعام والی رات)
..........................................
  AR: 500   
اعتکاف احکام ومسائل
..........................................
  AR: 499   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
..........................................
  AR: 498   
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت وعظمت پرمشتمل پچیس 25 احادیث شریفہ
..........................................
  AR: 497   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 496   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 495   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
..........................................
  AR: 494   
رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ
..........................................
  AR: 493   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
  AR: 492   
رمضان کے تین عشرے اور ان کی خصوصیات
..........................................
  AR: 491   
حسن اخلاق کی تعلیم اور اسلام
..........................................
  AR: 490   
حسد کی تباہ کاریاں اور اس کے نقصانات
..........................................
  AR: 489   
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآَوَى کی نفیس تفسیر
..........................................
  AR: 488   
حدیث زيارت 'علماء ومحدثین کی نظر میں
..........................................
  AR: 487   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حج
..........................................
  AR: 486   
حج کے اقسام:
..........................................
  AR: 485   
حج ایک عظیم فریضہ،استطاعت کے باوجود ترک کرنے پر سخت وعید
..........................................
  AR: 484   
حج ایک اسلامی فریضہ
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved