AR 502 : راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت

راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت

 

مصیبت زدہ،تنگدست وبے سہارا اور نادار افراد کی جانب دست  تعاون دراز کرنا  ہمارا انسانی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ 

ارشاد حق تعالی ہے:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى۔

ترجمہ: تم نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو-(سورۃ المائد‏ۃ:2)

صدقات و خیرات سے مخلوق خدا کی ضرورتیں پوری  ہوتی اور محتاجوں کے فاقے رفع ہوتے ہیں‘ اس لئے یہ بھی دین کا ایک ستون ہے‘ اور اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے کو اپنی محبت کا معیار اور آزمائش قرار دیا ہے۔

حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد  فرماتے ہیں کہ پوشیدہ صدقہ خدائے تعالیٰ کے غضب کو فرو کرتا ہے اور ظاہراً صدقہ دوزخ کی آگ کے لئے سپر کا کام دے گا‘ صدقہ بری موت سے بچاتا اور بلا کو ٹالتا‘ اور عمر زیادہ کرتا ہے اور فرمایا: صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔

 الصدقة في السر تطفئ غضب الرب-

مستدرک علی الصحیحین،حدیث نمبر: 6491-

 

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ –

(جامع ترمذی،باب ما جاء فى فضل الصدقة. حدیث نمبر:666)

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے سخاوت کی عزت پائی اور جس نے بخل کیا ذلت اٹھائی-

 حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

 جس آدمی میں یہ وصف ہو کہ مانگنے والوں کو دیا کرے وہ سخی نہیں ہے‘ بلکہ سخی وہ ہے جو حقوقِ خدائے تعالیٰ نے اہلِ طاعت کے لئے مقرر فرمائے ہیں ان کو بلاطلب پہنچادے-

 اور نفس میں شہرت کی خواہش نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامل ثواب عنایت ہونے کا یقین ہو۔

ایک بزرگ فرماتے ہیں:

 تم مستحق کو بھی دو اور غیر مستحق کو بھی‘ تاکہ اللہ تعالیٰ تم کو وہ عطا فرمائے  جس کے تم مستحق ہو اوروہ بھی عطا فرمائے جس کے تم مستحق نہ ہو۔

حضرت ربیع بن خثیم رحمۃ اللہ علیہ کسی سائل کو روٹی کا ٹکڑا یا کوئی ٹوٹی ہوئی چیز یا مستعملہ کپڑا نہ دیتے اور فرماتے مجھے شرم آتی ہے کہ میرا اعمال نامہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو اور اس میں ردی اشیاء ہوں جو میں نے ان کی راہ میں دی ہیں۔

حکایت:

سیدۃ النساء حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں‘ حضرت سیدنا علی  رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارا دل کیا چاہتا ہے؟ بی بی نے کہا: انار۔ آپ زاہدوں کے سردار‘ بھلا آپ کے پاس کہاں کا پیسہ! کسی سے قرض لے کر انار خریدا‘ گھر آنے لگے تو ایک فقیر نے کہا: یا علی رضی اللہ عنہ! میں بہت بیمار ہوں اور میرا دل انار چاہتا ہے! تھوڑی دیر آپ نے سوچا کہ اگر انار اس فقیر کو دیتا ہو ں تو سیدہ کے لئے نہ رہے گا اور اگر نہ دوں تو اپنے پاس انار رکھ کر سائل کو محروم کیسے کروں؟ آخر فیصلہ فرمایا کہ کچھ بھی ہو‘ خدائے تعالیٰ کے نام پر انار دے دیا جائے‘ آپ نے اسی وقت انار توڑ کر فقیر کو کھلادیا‘ فقیر کو صحت ہوگئی‘ گھر آکر دیکھتے ہیں کہ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی صحت یاب ہوچکی ہیں‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ ندامت کے ساتھ ان سے یہ واقعہ بیان فرمانے لگے‘ حضرت سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جس وقت آپ نے وہاں فقیر کو انار کھلایا اسی وقت میرے دل سے انار کی خواہش نکل گئی‘ ایسا معلوم ہوا جیسا کہ میں نے انار کھالیا ہے‘ اتنے میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ ایک ڈھکا ہوا طبق لے کر آئے‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ کہا کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت جنت سے بھیجا ہے‘ دیکھا تو اس میں نو (9) انار ہیں‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ میرے نہیں ہیں‘ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیسے معلوم ہوا؟

 فرمایا کہ خداوند تعالیٰ نے دنیا میں ایک کا بدلہ دس (10) رکھا ہے‘ یہ نو (9) کیسے ہیں؟

 حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ہنس کر ایک انار جیب سے نکالا اور طبق میں رکھ دیا اور عرض کی کہ آزمائش کے لئے چھپا رکھا تھا۔

حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

 جو شخص تندرستی میں ایک درہم راہِ خدا میں دے اس سے بہتر ہے کہ بیماری میں سو درہم دے‘ اور زندگی میں اپنے ہاتھ سے ایک درہم دینا بہترہے‘ مرنے کے بعد اس کے نام پر ہزار درہم دینے سے-

 حکایت :

حضرت ابو سہیل رحمۃ اللہ علیہ صدقہ و خیرات وغیرہ کسی شخص کے ہاتھ میں نہ دیتے بلکہ زمین پر رکھ دیتے اور محتاج خود اٹھالیتا-

آپ سے مریدوں نے اس کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میں مناسب خیال نہیں کرتا کہ یہ چیزیں کسی مسلمان کے ہاتھ میں دی جائیں اس حال میں کہ میرا ہاتھ اونچا رہے اور اس مسلمان کا ہاتھ نیچا ہو۔

حکایت:

حضرت محمد بن علیان نسوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 سخی کی سخاوت اس وقت صاف ہوتی ہے جب کہ وہ اپنی عطاء کو حقیر سمجھے اور لینے والے کو اپنے سے بہتر جانے اور اس کا احسان مانے۔

از مواعظ حسنہ

حضرت محدث دکن علیہ الرحمۃ والرضوان

www.ziaislamic.com

 




submit

  AR: 503   
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
..........................................
  AR: 502   
راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت
..........................................
  AR: 501   
لیلۃ الجائزۃ (انعام والی رات)
..........................................
  AR: 500   
اعتکاف احکام ومسائل
..........................................
  AR: 499   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
..........................................
  AR: 498   
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت وعظمت پرمشتمل پچیس 25 احادیث شریفہ
..........................................
  AR: 497   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 496   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 495   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
..........................................
  AR: 494   
رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ
..........................................
  AR: 493   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
  AR: 492   
رمضان کے تین عشرے اور ان کی خصوصیات
..........................................
  AR: 491   
حسن اخلاق کی تعلیم اور اسلام
..........................................
  AR: 490   
حسد کی تباہ کاریاں اور اس کے نقصانات
..........................................
  AR: 489   
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآَوَى کی نفیس تفسیر
..........................................
  AR: 488   
حدیث زيارت 'علماء ومحدثین کی نظر میں
..........................................
  AR: 487   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حج
..........................................
  AR: 486   
حج کے اقسام:
..........................................
  AR: 485   
حج ایک عظیم فریضہ،استطاعت کے باوجود ترک کرنے پر سخت وعید
..........................................
  AR: 484   
حج ایک اسلامی فریضہ
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved