AR 503 : واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
������ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنْ، وَعَلٰی آلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاہِرِیْنْ، وَاَصْحَابِہِ الْاَکْرَمِیْنَ اَجْمَعِیْنْ،وَعَلٰی مَنْ اَحَبَّہُمْ وَتَبِعَہُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنْ۔�
������ اَمَّا بَعْدُ! فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَاء�عِندَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ۔صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمْ
 برادران اسلام!دس(10)محرم الحرام کو سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت عظمی ہوئی ،اسی مناسبت سے شہدا ء کرام کی حیات اور واقعۂ شہادت کا پرسوز بیان حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر دل پذیر سے نقل کیا جاتا ہے۔ اس میں ذکر کئے جانے والے مضامین کے ماخذومصدرکے لئے اہل علم’’التاریخ الکامل لابن الاثیر،المنتظم لابن الجوزی،اسد الغابہ لابن الاثیر،البدایۃ والنہایۃ لابن الکثیر،الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبد البر وغیر ہ کتب وسیر وتاریخ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
������ حضرات! شہداء کرام کی حیات سے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے:وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَاء� عِندَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ۔
اور (اے پیغمبر) جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے گئے ہیں اُن کو مرا ہوا خیال نہ کرنا (یہ مرے نہیں ) بلکہ پروردگار کے پاس جیتے (جاگتے موجود ہیں) (اُس کے خوانِ کرم سے) اُن کو روزی ملتی ہے۔
(پ 4‘ اٰل عمران‘ 16/17)
اور ایک جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے:
وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبیْلِ اللّہِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَاء� وَلَکِن لاَّ تَشْعُرُونَ۔مسلمانو! تم اپنی حالت پر قیاس کرکے کہیں ہمارے جان نثاروں کو مردہ کہنے لگو گے وہ مرے نہیں‘ وہ تو زندہ ہیں۔ (پ 2‘ سورۂ بقرہ‘ ع18)
������ راہ خدا میں جان و مال نثار کرنے والے اور اپنی ہستی کو ہمارے واسطے خاک میں ملانے والے کیا یہ ان کے برابر ہوجائیں گے جو خواہشات نفسانی میں آلودہ اور لت پت ہیں اور فانی زندگی میں جی رہے ہیں ،ہرگز ہرگز برابر نہیں ہوسکتے ،اس لئے تم ان کو زبان سے مردہ مت کہو۔
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ أَمْوَاتاً۔اور دل سے بھی اُن کو مردہ مت خیال کرو‘ غرض زبان اور دل سے ہر طرح اُن کا ادب کرو۔
������ اُن کی زندگی بھی کچھ فرضی نہیں‘ مبالغہ نہیں‘ واقعی وہ زندہ ہیں‘ زندگی کے سارے آثار مرتب ہیں‘ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:�
یُرْزَقُونَ۔ فَرِحِیْنَ بِمَآ اٰتَاہُمُ اللّہُ مِن فَضْلِہِ ۔ اپنے خدا کے پاس اُس کے فضل سے کھاتے پیتے اور خوشیاں مناتے ہیں۔ (پ 4‘ ع 17‘ سورۂ اٰل عمران)
������ یعنی عمدہ ہیئت میں ہر قسم کی لذت و آرام حاصل کررہے ہیں، جہاں چاہے گل گشت کرتے ہیں ، سبز پرندوں کے خول میں رہ کر ایسی ہی سیر کرتے ہیں جیسا کہ ہم آج کل ہوائی جہاز میں سیر کیا کرتے ہیں،اپنے اعمال سابقہ کی بہار لوٹ رہے ہیں اُن کے اعمال گل و ریاحین اور حور جنت بن کر اُن کے سامنے ہیں وہ اس سے لذت لے رہے ہیں۔
������ عالم قدس میں ترقی کررہے ہیں خدائے تعالیٰ کے قرب کے درجے بڑھ رہے ہیں‘ یہ اُن کی آخرت کی زندگی ہے۔
شہداء کی دنیوی حیات
������ �دنیا میں بھی تو وہ اس اعتبار سے زندہ ہیں کہ جس چشمہ خیر کو انہوں نے دنیا میں جان دے کر بہایا تھا وہ کبھی بند نہ ہوگا،جس درخت پر ثمر کو انہوں نے اپنے خون سے سینچ سینچ کر پرورش کیا تھا اس کے پھل اور پھول کبھی منقطع نہ ہوں گے۔
������ اللہ کی راہ میں جان تو کیا ایک قطرۂ خون بہانے والوں کی جو قدر و منزلت ہے وہ دیکھئے‘ اللہ تعالیٰ سب سے کلام پردہ کی آڑ میں کرتا ہے مگر شہداء جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان قربان کردیتے ہیں اُن سے بے پردہ کلام کرتا ہے۔
������ مسندا مام احمد میں حدیث پاک ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم� لَمَّا أُصِیبَ إِخْوَانُکُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْوَاحَہُمْ فِی أَجَوَافِ طَیْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْہَارَ الْجَنَّۃِ تَأْکُلُ مِنْ ثِمَارِہَا وَتَأْوِی إِلَی قَنَادِیلَ مِنْ ذَہَبٍ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طِیبَ مَشْربِہِمْ وَمَأْکَلِہِمْ وَحُسْنَ مُنْقَلَبِہِمْ قَالُوا یَا لَیْتَ إِخْوَانَنَا یَعْلَمُونَ بِمَا صَنَعَ اللَّہُ لَنَا لِئَلاَّ یَزْہَدُوا فِی الْجِہَادِ وَلاَ یَنْکُلُوا عَنِ الْحَرْبِ. فَقَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أُبَلِّغُہُمْ عَنْکُمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَؤُلاَءِ الآیَاتِ عَلَی رَسُولِہِ (وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَاء ٌ )
�حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :جب تمہارے بھائی جنگ احد میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی روحوں کو پرندوں کے جوف یعنی پیٹ میں (اس طرح رکھا جس طرح دنیا میں سواری میں سوار رہتا ہے یا ہوائی جہاز میں مسافر رہتا ہے) وہ جنت کی نہروں پر اڑتے پھرتے ہیں‘ جنت کے میوے کھاتے ہیں اور عرش کے سایہ میں سنہری قندیلوں میں بسیرا کرتے ہیں‘ پس جب ان کو کھانے پینے اور سونے کا لطف حاصل ہوا تو کہنے لگے :ہمارے بھائیوں کو ہماری یہ اطلاع کون پہنچائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں‘ رزق دئیے جاتے ہیں تاکہ وہ ہمارے بھائی جہاد میں بے رغبتی اور لڑائی میں سستی سے کام نہ لیں‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اُن کو تمہاری اطلاع میں دوں گا‘ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَاء� عِندَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُون۔ ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کے راستہ میں مارے گئے ہیں اُن کو مرا ہوا خیال نہ کرنا ، بلکہ وہ پروردگار کے پاس جیتے (جاگتے موجود ہیں) (اُس کے خوانِ کرم سے) اُن کو روزی ملتی ہے۔
������ دین کی حمایت میں جنہوں نے اپنا مال‘ اپنی جان قربان کی اُن سب کے سردار سیدنا علی ‘ سیدنا حضرت امام حسن اور سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں۔
������ اُس وقت کی بات ہے کہ ادھر حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کو دین اسلام کے تباہ ہونے کا رنج تھا تو ادھر ظالموں کو یہ خیال تھا کہ جب تک دنیا میں امام حسن رضی اللہ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ رہیں گے ہم دین اسلام تباہ نہیں کرسکتے‘ ان حضرات کے دنیا سے جانے کے بعد ہی ہم اس دین کی خرابی جیسے چاہے ویسے کرسکیں گے‘ اس لئے ان حضرات کی شہادت کے درپے تھے۔
������ برادران اسلام!شہداء کرام کی حیات سے متعلق آیت مبارکہ کے ضمن میں ضروری وضاحت کے بعد واقعات شہادت بیان کئے جارہے ہیں:
������ سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ کے کربلاتشریف لے جانے سے قبل حاکم مدینہ منورہ کے نام یزیدکا حکم پر حکم آنے لگا کہ جہاں تک ہوسکے جلد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے بیعت لی جائے ،اگر وہ میری بیعت سے انکار کریں تو ان کا سر کاٹ کر جلد میرے پاس روانہ کردو ،میں تجھکوبہت سرفرازکروں گا۔
������ حاکم مدینہ منورہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو بلاکر عرض کیا کہ آپ کے قتل کے متعلق احکام چلے آرہے ہیں ،حیران ہوں کہ کیا کروں ،کچھ تدبیر سوجھتی نہیں ،حضرت امام رضی اللہ عنہ نے فرمایا :یزید بدعتی شارب خمر ہے، اس کے ہاتھ پر کس طرح بیعت کروں ؟عام مسلمانوں سے رائے لی جائے ،جو سب کی رائے ہوگی اس سے مجھ کوگریزنہیں ۔پھر یزید کا تاکیدی حکم آیا کہ بیعت یا قتل دونوں میں سے ایک فوراً ہونا چاہئے، حاکم مدینہ منورہ نیک نفس تھا ،اس نے حضرت امام رضی اللہ عنہ کو اس کی بھی خبر دی۔
�حضرت امام رضی اللہ عنہ کی روضۂ اقدس پر حاضری اور دعا
������ �حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ روضہ شریف پر گئے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف سے لپٹ کر اس قدر روئے کہ درودیوار بھی روئے ،حضرت امام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: نانا جان !حسین آپ پر قربان، یہ وہی حسین آپ کا نواسہ ہے؛ ظالم یزید جس کے خون کا پیاسا ہے ،یہ وہی حسین ہے جو آ پ کے کاندھے پر سوار رہتا تھا،ا ب جدھر دیکھو اسکے دشمن ہی دشمن نظر آتے ہیں ۔نانا!کب تک دشمنوں کا ظلم سہوں؟آپ مجھے تنہا چھوڑدےئے ہیں ،میری اماںبھی نہیں ہیں کہ ان سے کچھ دل کا دردکہوں،باواجان نہیں ہیں کہ جن کے سایہ میں رہوں۔ناناجان! بھائی تھے ان کو بھی آپ نے بلالیا۔اب میں بے کس وتنہا رہ گیا ہوں،کوئی مونس وغمگسار ،دکھ درد سننے والا نہیں ۔
حضرت امام کا خواب اور ارشاد نبوی
������� روتے روتے قبر شریف پر سر رکھ کر سوگئے،خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں کی فوج لئے ہوئے تشریف لائے اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک چھاتی سے لگا کر فرماتے ہیں :بیٹاحسین!اب قریب ہے کہ میری امت کے لوگ کربلا میں تم کو پانی سے ترساکر، تیروں کی بارش برسائیں گے، تم کو شربت شہادت پلائیں گے ۔
������ بیٹا حسین !جنت میں بڑے بڑے درجے ہیں ،جب تک سر نہ کٹاؤگے وہ درجے نہیں مل سکتے، تمہارے ماں وباپ تمہارے دیکھنے کو بے قرار ہیں ،تمہارے بھائی تمہارے لئے تڑ پ رہے ہیں ۔خواب ہی میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ناناجان!پھر حسین کو دنیا میں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اپنے روضۂ شریف میں لے لیجئے ،حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :پیارے حسین !صبر کرو، سفر کی تیاری کرو،سرکٹاؤ،خداکی رضا پر راضی رہو۔یہ خوشخبری سن کر آپ سب رنج وغم بھول گئے ۔
کوفہ کو روانگی اور اہل مکہ کی ہمدردی
������� اس کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ تشریف لے گئے،جب مکہ معظمہ سے کوفہ کا ارادہ فرمائے تو اہل مکہ نے بہت روکامگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نہ رکے ،اس پر حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بہت بے تاب ہوکررونے لگے اور عرض کیا:امام (رضی اللہ عنہ)جب آپ کو مکہ سے سفر کرنا ضروری ہے تو آپ یمن کی طرف چلے جائیں دشمن آپ کو تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سب سچ ہے مگر کیا کروں اس سفر میں ایک راز ہے جونانا جان نے مجھ سے فرمایا ہے جومیں کسی سے نہیں کہہ سکتا اوربغیر کوفہ جانے کے رک نہیں سکتا،عنقریب وہ رازکھل جائے گا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا :اگر آپ کو جاناہی ہے توامام! مَردوں کو لے جائے ، عورتوں، بچوں کو یہیں چھوڑجاےئے آپ نے فرمایا:یہ بھی نہیں ہوسکتاکیونکہ خدائے تعالی کی مرضی سب کو ساتھ لے جانے کی ہے ۔
میدان کربلا میں ورود۔۔۔۔‘’ اور وہاں کی سختیاں
������ حضرات !منزلیں طئے کرتے ہوئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کربلا کے میدان میں آگئے ہیں ،دشمنوں کا دریائے فرات پر پہلے ہی سے قبضہ ہوچکا ہے۔
حاکم کا حکم ہے کہ یہ پانی بشر پئیں
گھوڑے پئیں سوار پئیں اور شتر پئیں
جو تشنہ لب جہاں میں ہووہ آن کر پئیں
حیواں پئیں پرند پئیں جانور پئیں
کافر تلک پئیں تو نہ تم منع کیجیو
پرفاطمہ کے لعل کو پانی نہ دیجیو
������� حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ریت کے لق ودق میدان میں ڈیرے لگادئے ہیں، جس میں نہ پانی ہے نہ درخت، جدھردیکھو سنسان سناٹا ہے ،ھوکا عالم ہے ،ہائے وہ ریت کی دوپہر کی گرمی، رات بھر کی اوس، ہائے وہ بے کسی وبے بسی !ہائے وہ بے سروسامانی !ہائے وہ پیاس ،وہ چہرے اداس ،وہ گرمی کے دن وہ ننھے ننھے پیا سے بچے ،نہ سینہ میں دودھ رہا نہ آنکھوں میں آنسو،زبان پر مارے پیاس کے کانٹے پڑگئے ،دودھ پیتے بچے مچھلیوں کی طرح تڑپنے لگے۔
������ حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ شیر خوار، حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ بیمار،اس پر سفر کی حالت جس میں تھوڑی تکلیف بھی بہت معلوم ہوتی ہے،یہ نمونہ امام رضی اللہ عنہ کی مصیبتوں کا۔ہائے یہ غضب ادھر تو یہ حالت کہ ساقیٔ کوثر کے نواسہ کو پانی کا قطرہ نہیں،ادھر دشمن صراحیوں میں پانی لئے دکھادکھا کر پیتے اور ہنستے تھے ۔
������ حضرات!یہ وہی حسین رضی اللہ عنہ ہیں جن کی شان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’سیدا شباب اہل الجنۃ‘‘ (نوجوانانِ جنت کے سردار)ارشاد فرمایا ،بچپنے میں اگر وہ حسین کہیں اکیلے نکل جاتے تو فرشتے اپنے پروں میں لیکر آپ کی حفاظت کرتے تھے ۔ہائے آج وہ دشمنو ں کے نرغے میں ہیں،ہائے حسین رضی اللہ عنہ آپ نے کیا حسن وجمال پایاتھاکہ اگر اندھیرے میں بیٹھتے تو چہرۂ مبارک کی چمک سے اندھیرے میں اجالا ہوجاتاتھا،ہائے ایسے مبارک چہرہ پر بہتر(72) زخم ہیں۔
������� صاحبو !حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت امام رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو محبت تھی اس کا اندازہ اس سے کرو کہ جو بچہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اکثر کھیلا کرتا وہ اگر کہیں مل جاتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کوبھی پیار کرتے اورفرماتے :میرے حسین کے ساتھ یہ کھیلاکرتا ہے اس لئے میں اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے ماں وباپ کی بھی۔
������ حضرات!جنت کو جب معلوم ہوا کہ وہ مسکن فقراء ہے تو وہ آزردہ ہونے لگی ،اللہ تعالی کا ارشاد ہوا:کیاتو اس پر راضی نہیں کہ تیرے ارکان حسن وحسین (رضی اللہ عنہما)کو بناؤں گا ،پھرتو جنت خوش ہوکر فخر کرنے لگی ۔
������ اگر جنت ہے تواس کے ارکان حسن وحسین (رضی اللہ عنہما)ہیں،اگر عرش ہے تو اس کے گوشوارہ حسن وحسین (رضی اللہ عنہما)ہیں،اگرمسلمانوں کا دل ہے تو اس کی روشنی حسن وحسین (رضی اللہ عنہما)کی دوستی سے ہے۔
�������� اس شان کے حسین رضی اللہ عنہ دشمنوں کے نرغہ میں اتمام حجت کیلئے� یزید کے لشکریوں کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں :
������ لوگو!دیکھو ہم کون ہیں؟میرا نام جانتے ہو،میرا حسب ونسب معلوم ہے،ذرا سونچو؛کیا میرا گلہ کاٹنا جائز ہے؟کیا میں فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کا بیٹا نہیں ہوں؟کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ نہیں ہوں؟کیا میں سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ کا فرزند نہیں ہوں؟کیا میرے نانا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اکثر اپنے کندھے مبارک پر نہیں بٹھایا کرتے تھے؟کیا حسن رضی اللہ عنہ میرے بھائی نہیں تھے؟کیا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی مجھ سے کچھ قرابت نہیں ہے؟کیا ہماری شان میں کوئی حدیث نہیں آئی ہے؟
������ لوگو! ایک دن خدا کے پاس جانا ہے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ دکھانا ہے ، دنیا چند روزہ ہے آخرت ہمیشہ کا ٹھکانہ ہے ۔سبھوں نے سر جھکالیا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے ڈیرہ میں واپس ہوئے۔
حضرت امام رضی اللہ عنہ کی کرامت سے دشمنوں کو انفرادی سزا
������� محرم کی نویں تاریخ ہی اشقیاء نے طبل جنگ بجایا ،تب حضرت امام رضی اللہ عنہ نے فرمایا:دیکھو یہ نقارہ کیوں بج رہاہے ،اگر جنگ کے لئے بج رہا ہے تو ان سے کہدو! آج ہزار سرپٹکوگے ہمارا سرنہ پاؤگے ،کل یوم عاشوراء ہے، البتہ کل ہمارے لئے خاک وخون میں ملنے کا دن ہے ،آج میرے لئے شہادت کی رات نہیں ہے بلکہ آج عبادت کی رات ہے۔اب چھ سات پہر تو جینا ہے، آج رات بھر عبادت کرلینے دو۔الغرض اس روز جنگ ملتوی ہوگئی اور آپ عبادت الہی میں مشغول ہوگئے۔
������� حضرت سیدناامام رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام قرابت داروں دوستوں اور غلا موں سے فرمایا :میں تم سے خوش،خدااور رسول تم سے خوش ۔میں یہاں سے نہیں جاسکتا ،تم سب کو خوشی سے اجازت دیتا ہوں ۔تم سب یہاں سے چلے جاؤ،میرے ساتھ تم جان مت کھپاؤ۔سبھوں نے عرض کیا:اگر آج ہم آپ کو دشمنوں کے نرغہ میں بے کس وبے بس چھوڑجائیں گے تو‘ کل خداو رسول کو کیا منہ دکھائیں گے ؟پہلے ہم سب آپ پر قربان ہوں گے تب کہیں آپ کی باری آئے گی۔
������� حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ڈیروں کے اطراف خندق کھدوائی اوراس میں آگ جلائی تاکہ اشقیاء نہ آسکیں۔یزید کے لشکرسے مالک بن عروہ گھوڑادوڑاتاہواآیا اور کہا:کیوں حسین دوزخ میں جانے کے پہلے آگ میں جل رہے ہو؟حضرت مسلم بن عوسجہ رضی اللہ عنہ نے چاہاکہ اس کی گردن اڑادیں، اللہ رے امام عالی مقام کا حلم! آپ نے منع فرمایا اور کہا:جنگ میں ہماری طرف سے سبقت نہ ہونی چاہئے ،یہ کہہ کر امام ہمام نے عرض کیا:خداوندا:سنئے یہ کیا کہتا ہے ،فوراً اس کے گھوڑے کو ٹھوکر لگی ،خندق میں اوندھا گرا ،دونوں لشکروں کے سامنے جل کر راکھ ہوگیا،اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی کرامت اس طرح ظاہر ہوئی۔
������ اس کے بعدابن اشعث ملعون بڑھا اور کہا: جب دیکھو آپ خدا‘ اور رسول کو پکارتے ہو،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی کیا قرابت ہے؟ کیوں ڈینگیں ماررہے ہو؟حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:بارالہا! یہ کیا کہہ رہا ہے ،معاً اس کے پیٹ میں درد اٹھااور گھوڑے سے اتر کررفع حاجت کے لئے بیٹھا ہی تھا کہ سرین پر ایک سیاہ بچھو ڈنک مارا،ڈنک مارتے ہی اس کو کچھ اس بلا کا زہر چڑھا کہ بول وبرازمیں لوٹ پوٹ کر مرگیا۔
��� یزید کے لشکر سے اورایک ملعون جعدہ آگے بڑھا اور کہا: حسین !دریا ہمارے قبضہ میں ہے، تمہیں ایک قطرہ پانی نہ ملے گا،یوں ہی پیاسے مرجاؤگے ، یہ کہتے ہی اس ظالم کو کچھ ایسی شدت کی پیاس ہوئی کہ اس نے دریا میں منہ ڈالا مگرپیاس نہ بجھی،آخر پیاس پیاس کہہ کر مرگیا۔
جاں نثاران امام رضی اللہ عنہم کی معرکہ آرائی��
������ �حضرت عبد اللہ کلبی رضی اللہ عنہ کی جان نثاری
�������� دس(10) محرم کو حضرت امام عالی مقام کے جان نثاروں اور یزیدیوں کی صف آرائی ہوئی اور یزیدیوں نے حضرت امام ہمام اور ان کے جان نثاروں کا محاصرہ کرلیا ،اس وقت حضرت عبد اللہ کلبی رضی اللہ عنہ نے جو قریب میں بکریاں چرارہے تھے اپنی ماں سے کہا :ماں! اگر تم اجازت دو تو میں اس وقت امام مظلوم کی مددکرتا ہوں ،ماں نے کہا :بیٹازہے نصیب !جلد جاؤ اور امام مظلوم پر سے قربان ہوجاؤ! عبد اللہ کلبی رضی اللہ عنہ اپنی تمام بکریاں راہ خدا میں دیکر اپنی ماں کو لئے ہوئے حضرت امام ہمام رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،ماں نے کہا :یا امام رضی اللہ عنہ! میں اپنے لڑکے کو آپ پر سے قربان کرنے لائی ہوں ،آپ بہت خوش ہوئے اور دعائیں دیں۔ عبد اللہ کلبی رضی اللہ عنہ آتے ہی اشقیاء پرحملہ آور ہوئے اور ستر(70) آدمیوں کو مارکرآئے اور اپنی ماں سے کہے: اماں! پیاس بہت لگ رہی ہے ،ماں نے کہا:بیٹا !حورانِ بہشت شربت کے پیالے لئے کھڑی ہیں ،جلدی جاؤ اور شہید ہوجاؤ،آپ لوٹ گئے اور پچاس(50) اشقیاء کو قتل کرنے کے بعد یزیدی نامردوں نے چوطرف سے حملہ کرکے آپ کے سر کو تن سے جدا کیااور انکی ماں کی طرف پھینک دیا،ماں نے اپنے بیٹے کا سر لے کر چوما اور سرکے بال پکڑ کر یزیدیوں کی طرف اس زور سے مارا کہ وہ سر عمران دمشقی کے سر کو جا لگا، وہ بہت بڑا پہلوان تھا، یہ سر اس کے سر کو لگتے ہی اس کا سر پھٹ گیا اور وہ مرگیا پھر وہ ضعیفہ ایک لکڑی کا ڈنڈا لے کردوڑی، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بہت کچھ روکے کہ بڑھیا یہ تیرا کام نہیں ہے؛ بیٹھ جا، بڑھیا نے کہا: امام !اللہ کے لئے مجھ کو نہ روکو، میں یہاں سے زندہ نہ جاؤں گی بلکہ شہید ہوجاوں گی ،حضرت امام رضی اللہ عنہ رونے لگی اور اس نے یزیدیوں پر حملہ کرکے تین آدمیوں کو قتل کیا اور خود بھی شہید ہوگئی۔
اہل بیت کا سلسلہ شہادت
حضرت زید بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت�
�������� حضرت زیدبن علی رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں جانے کی اجازت مانگے ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :برادرِعزیز! تم اپنی ماں کو رنجیدہ نہ کرو انہیں تمہارے سوا کوئی بچہ نہیں ہے ،ماں نے عرض کیا:امام میرے بچہ کو اجازت دیجئے آپ کے بعدہم جی کر کیا کرینگے؟امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے بغلگیر ہوکر اجازت دی ،آپ نے جواں مردی کے جوہر ظاہر فرماکر جام شہادت نوش فرمایا ۔
حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت
������� حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنہ نے میدان کارزار میں جانے کی اجازت چاہی ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کوئی مرد توگھر میں رہے ؛تم ایسانہ کرواس پر آپ نے یہ شعر پڑھا:
حیاتی بدون لقائک ضائع
میری زندگی تمہارے بغیر بیکار ہے
وعیشی بغیروجہک باطل
میرا جینا تمہارے بغیر کس کام کاہے
������ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے باربارعرض کرنے سے حضرت امام نے آپ کو بھی اجازت دی ، آپ نے بھی آبائی شجاعت اوربہادری کا ثبوت دے کر بالآخر جام شہادت نوش فرمایا۔
حضرت سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ کی شہادت�
������� حضرت سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :چچا مجھے بھی اجازت دیجئے ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :بھائی حسن رضی اللہ عنہ نے مجھے تم پر شفقت کرنے کی وصیت فرمائی ہے ،کل تمہارے والد حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو میں کیا منھ دکھاؤ ں گا؟حضرت قاسم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :شفقت یہی ہے کہ آپ مجھکو تنہا نہ چھوڑجائیے !اپنے ساتھ جنت میں لے چلئے ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے آبدیدہ ہوکراجازت دیدی،جب اجازت ملی ،میدان جنگ میں ہل چل مچ گئی ،ہزار ہا یزیدی فی النارہوگئے۔
������� اس کے بعد ازرق پہلوان حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے مقابلہ زر کے لئے اپنے ایک ایک بیٹے کوبھیجا، ہرایک خوب بہادری سے لڑا مگرحضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں کچھ نہ چلا، دونوں بری طرح مارے گئے ،اس وقت ازرق کو تاب نہ رہی ، غصہ میں بھراہواحضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لئے خود میدان جنگ میں اترآیا،دونوں فوجوں کی نگاہیں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ اورازرق پرلگی ہوئی تھیں،ادھرامام حسین رضی اللہ عنہ دعافرمارہے تھے کہ بارِالٰہا!میراقاسم تجربہ کار دشمن کے مقابلہ میں ہے ،آپ میرے قاسم کی مددکیجئے۔ازرق کامقابلہ حضرت قاسم رضی اللہ عنہ سے شروع ہوا، ہرایک اپنی اپنی بہادری دکھارہاتھا، ازرق جووار کرتا حضرت قاسم رضی اللہ عنہ اس کو بہت پھرتی سے روک دیتے تھے ،اس وقت حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث شریف یاد آگئی کہ جنگ میں بچاؤ کی تدبیر کرسکتے ہیں ،اس وقت حضرت قاسم رضی اللہ عنہ نے ازرق سے فرمایا:اے ازرق!اے تجربہ کار پہلوان دیکھ تیرے گھوڑے کا تنگ ڈھیلہ ہوگیا ہے ،عنقریب توزمین پرآتا ہے ،وہ پریشان ہوکرجھک کردیکھاحضرت قاسم رضی اللہ عنہ اس پر تلوار چلادئیے،حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے وار کو روک نہ سکا ،اس کا سرکٹ کر زمین پرگِرا،حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کی اس پھرتی کو دیکھ کردشمن بھی تعریف کرنے لگے۔
������� پھرتو سب یزیدیوں نے چوطرف سے ایک بار حملہ کردیا،یہ خدا کے شیرحضرت قاسم رضی اللہ عنہ جدھر رخ کرتے ادھر دشمن (شیرکے سامنے جیسے بکریاں بھاگتے ہیں ویسا)بھاگتے تھے ،آخر چوطرف سے تیروں کی بوچھارہونے لگی ،بالآخر حضرت سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ جام شہادت پی کرزمین پرآرہے۔ اسکے بعد آپ کے بھانجہ عون بن عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بھی دادشجاعت دے کرجنت کوسدھارے۔
�حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی شہادت
������ حضرت سُکَیْنَہ رضی اللہ عنہا کا پیاس سے تڑپنا‘حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دیکھانہ گیا، بھیڑچیرتے د ریائے فُرات پر پہونچے ، خود کو پانی پینے کاخیال آیا مگرنہ پےئے اورفرمایا:آہ سکینہ پیاسی ہواورمیں پانی پیوں،پانی کی مشک لئے آرہے تھے کہ ظالم نے ایک ہاتھ قلم کردیا تو دوسرے ہاتھ میں مشکیزہ لے لیا، جب وہ بھی قلم ہوگیاتودانتوں سے تھام کرلارہے تھے ،تھوڑی دور بھی نہ جاسکے تھے کہ ظالموں نے مشکیزہ کوتیروں سے چھیددیااور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کوشہیدکردیا،پانی ڈیرے تک نہ پہونچ سکا، حضرت سکینہ رضی اللہ عنہا رورہی تھیں کہ افسوس پانی کے لئے میں نے چچاکوکھودیا۔
حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ کی شہادت
��� ����رَن (لڑائی )میں پھرایک شیر کے آنے کی دھوم ہے ،ارے وہ کون؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل کے آنے کی دھوم ہے، علی اکبر رضی اللہ عنہ کے آنے کی دھوم ہے، سب کا خاتمہ ہوگیا ،علی اکبر رضی اللہ عنہ نے بڑھ کر عرض کیا: سب قربان ہوچکے اب غلام باقی ہے مجھے ،آپ کی تنہائی دیکھی نہیں جاتی ، مجھے بھی اجازت دیجئے ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا بیٹا ! اٹھارہ سال کی کمائی کیا کربلا میں لاتے ہو مدینہ منورہ جاؤ۔
������� حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا! آپ کے بغیر ایک لحظہ بھی دنیا میں نہ رہوں گا، کیا ظالموں کے ہاتھ مجھکوتنہا چھوڑکرجاتے ہوباوا؟ ادھر ماں بھی تڑپ کر رونے لگیں تو حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
سر کو کٹانا‘ کام ہے ہمارا اماں جان
گھر کو لٹانا‘ کام ہے ہمارا اماں جان
تلواریں کھانا‘ کام ہمارے ہے اماں جان
امت چھڑانا‘ کام ہمارا ہے اماں جان
پیاسے کھڑے ہیں دشت میں اسوقت بابا جان
چاروں طرف سے تیروں کی بوچھار ہے اماں جان
�������� جب حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ کی آہ وزاری اور عاجزی حد سے بڑھ گئی تو حضرت امام رضی اللہ عنہ خود اپنے دست مبارک سے آپ کے جسم اطہر پرہتھیار باندھے اوراجازت دی ۔
������� حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ رخصت ہوکر میدان جنگ میں آئے ،ہم شکل پیمبر کی آمد آمدہے ،وہ آتے ہیں کہ جب کسی کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد آ تی توحضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ کودیکھ لیتے اور انکی باتیں سنا کرتے ۔غرض حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ رخصت ہوکر میدان جنگ میں آئے۔
������ عبیداللہ بن زیاد نے ایک شخص سے کہا کہ حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ سے کہو،� ذرا اپنے چہرہ سے نقاب اٹھائیں اس لئے کہ جمال مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے کا بے حد اشتیاق ہے ،حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ نے جب چہرۂ مبارک سے نقاب اٹھایا‘ یزید کے تمام لشکری آپ کی صورت دیکھ کر روپڑے ،ہر طرف سے رونے کی آوازیں آنے لگیں،شمر لعین نے غضبناک ہوکر کہا: ایسی شفقت تھی توتم نے یہ کام کیا ہی کیوں اور انکے اتنے آدمی کیوں مارے؟� چلوہوشیارکہہ کر اپنی فوج کوحملہ کا حکم دیدیا۔حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی وہ حیدری زور دکھایاکہ دوسو(200)ناپکاروں کوجہنم رسیدکرکے حضرت امام رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہے :باواجان!پیاس کی سخت تکلیف ہے ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے انکواپنی زبان چسوائی ،آپ نے پھر میدان میں تشریف لاکر مرد مقابل طلب کیا، کسی کوجرأت نہیں ہورہی تھی ،خود لشکر پرگرے ،بجلی تھی کہ چمک رہی تھی جس طرف رخ کرتے الامانکی صدابلندہوتی، مُردوں کے ڈھیرلگ گئے ،گھوڑا موڑکرتشریف لائے اور عرض کیا:باباجان!پیاس سے جان جارہی ہے ۔ حضرت امام رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چسائی ،کچھ تسلی ہوئی ۔
������� پھرمیدان جنگ میں آئے ،طارق بن مثبت کوسپہ سالارنے کہا کہ تجھے اس شرط پرموصل کی حکومت دلاتا ہوں کہ اس شاہ زادہ حسین رضی اللہ عنہ یعنی علی اکبر رضی اللہ عنہ کوشہید کردے ،سپہ سالار نے قسمیں کھائی اور اپنی انگوٹھی طارق کودی ،تب کہیں موصل کی حکومت کی آرزومیں طارق حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ کے مقابل آیااور حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ پرنیزہ چلایا،آپ نے اس کا نیزہ روک کراس پھرتی سے اپنانیزہ چلایا کہ طارق کے سینہ سے پارہوگیا،حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ گھوڑے کوایڑھ دیکر چلے ،طارق نیزہ کولگاہواتھا، گھوڑے کی اس دوڑ میں طارق چورچور ہوگیا۔طارق کا بیٹا مارے غصہ کے میدان میں آیا، حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ کا دامن پکڑ کرکھینچنا چاہتاتھا کہ آپ نے اس چستی وچالاکی سے اس کوزین سے اٹھاکر زمین پردے مارا کہ لشکر سے شور اٹھا، مارے ہیبت کے کسی میں سامنے آنے کی تاب نہ رہی ،پھر سپہ سالار نے ’’مصراع ‘‘کو بڑھایاوہ بھی نیزہ چلایاحضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ نے اس کے نیزہ کوتلوار پر اس طرح لیا کہ اس کا نیزہ کٹ گیا، وہ تلوار پرہاتھ ڈالاابھی کھینچ نے بھی نے پایاتھا کہ حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ نے ایسی تلوار چلائی کہ وہ مع زین کے دوٹکڑے ہوکر زمین پر گرپڑا۔
������� اب نابکار ، اکیلے نہ آسکے ، دوہزار (2000)سواریوں کوحکم ہوا کہ ایک ساتھ حملہ کردیں ،حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ ایسے معلوم ہورہے تھے کہ بھوکا شیربکریوں پرگراہے ،قلبِلشکر تک پہنچ گئے پھر پلٹ کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ،پیاس کی شکایت کی ،حضرت امام رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیٹاکچھ فکر نہ کرو ، کوئی دم میں حوض کوثر پر پہونچ کر سیراب ہوجاؤگے ۔آپ پھر لوٹے اور چوطرف حملہ کررہے تھے کہ ابن خمیر نامرد نے دھوکہ سے نیزہ مارا، منقذ ملعون نے تلوار کا وار کیا ،حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ گھائل ہوکر گھوڑے سے گرپڑے ،پکارے :باوا! خبرلو!حضرت امام رضی اللہ عنہ آپ کو اٹھالائے اور لٹاکر ‘سرگود میں لے کر ‘فرمائے :بیٹا! میرے دل کے آرام !ذرا باپ سے بات تو کرو،حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ نے آنکھیں کھول دیں ۔دیکھا کہ باپ کے گود میں سرہے ،ماں اور بہنیں روتی کھڑی ہیں ،فرمائے :باوا! آسمان کے دروازے کھلے ہیں ،حورانِبہشت شربت کے پیالہ لئے منتظر کھڑی ہیں ،یہ فرمارہے تھے کہ روح اطہر پروازکرگئی ۔
������� حضرت امام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہائے بیٹا ! تم بھی دوسرے جہاں میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں پہونچ گئے ۔
حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ کی شہادت
������ بے دودھ کے علی ا صغر پر پانی کے تین دن گذر چکے تھے ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے خیال فرمایا اشقیاء شاید معصوم بچہ پر تورحم کرینگے ،شقیوں کی طرف لے چلے ،ماں نے کہا :یاامام !علی اکبر کی طرح اس کو بھی کھوکر نہ آنا ،حضرت سکینہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا :باوا! بھائی کوجلد لاؤ ،اصغر کا چھوٹابچاہواپانی مجھ کو لاکر پلاؤ ،بچہ کو لئے ہوئے میدان کارزار میں تشریف لائے اور فرمائے کہ لوگو!اس بچہ کا کیا قصور ہے ؟پیاس سے اسکی جان نکل رہی ہے، ایک قطرہ توپانی کاٹپکادو، ایک ظالم نے تیرمارا حلق چھد گیا ،اسی حالت سے خیمہ میں لائے،ماں نے پوچھا :کیا پانی پلاکر لائے؟ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ہاں آب کوثر پلاکر لایا ہوں۔
������� صاحبو!آپ سونچو!سابق کی آیت میں جو(نقص من الاموال والانفس والثمرات)مذکورہے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر، حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ثمرات کی تباہی صادق آرہی ہے ،جوجواس آیت میں مذکور ہے سب کی آپ پرآزمائش ہوچکی۔
ہاں ائے خلیل آتش نمرود دیدۂ
ایں شعلہ ببیں کہ درجگر شاہ کربلاست
������ �حضرت خلیل !نمرود کی آگ کے شعلوں کوآپ نے دیکھا ہے، شاہ کربلا کے جگرمیں حضرت اصغر کی شہادت سے جوشعلے� بھڑک رہے ہیں اس کوبھی دیکھئے،ان شعلوں کے سامنے نمرود کی آگ کے شعلے کچھ بھی نہیں۔
�حضرت شہر بانو کا خواب
������ حضرت شہربانو نے حضرت امام رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آج رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا دامن کمرسے باندھے ‘ کربلا کی میدان میں جھاڑو دے رہی ہیں ،کنکر ‘پتھر ‘کچرا ‘کوڑا ‘اٹھارہی ہیں ،میں نے عرض کیا کہ آپ یہ کیا کررہی ہیں ؟حضرت فاطمۃرضی اللہ عنہا نے فرمایا :میرابچہ حسین (رضی اللہ عنہ)کل شہید ہوگا اور زخمی ہوکر اسی میدان میں گرے گا ،میں کنکر پتھر اس لئے چن رہی ہوں کہ میرے لعل کوچبھنے نہ پائیں ، اس کے بعد حضرت شہر بانو نے عرض کیا: یاامام !آپ تو رن (میدان جنگ )میں جارہے ہیں مگر یہ خواب کچھ اور ہی بات بتلارہا ہے، حضرت امام رضی اللہ عنہ یہ سن کر خاموش رہے۔
شہادت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ
������ صاحبو! ذرا مصر کی عورتوں کو دیکھوکہ ایک مخلوق کے عشق میں تو انکو اپنے ہاتھوں کے کٹنے کی کچھ خبر ہے نہ اس کے دردکی کوئی تکلیف ۔خالق کے عشق میں ڈوبے ہوئے کوکیا پوچھتے ہو؟ حضرت امام رضی اللہ عنہ اس وقت غایت عشق الہی میں ڈوبے ہوئے ہیں،خوف ‘جوع ‘نقص اموال ‘نقص ثمرات سب کا امتحان ہوچکا ، اب جان کی باری ہے ۔جہاد اکبر میں توپہلے ہی شہید ہوچکے تھے اب جہاد اصغر میں شہید ہوتے ہیں ۔سب کو غم ہے مگر حضرت امام رضی اللہ عنہ خوش ہیں کہ بہت دن سے ہجرکے صدمہ سہتے رہے،اب وصال ہوتا ہے :
عاشقاں را شاد مانی وغم اوست
دست مزد و اجرت خدمت ہم اوست
غیرمعشوق گر تماشائے کہ بود
عشق نہ بود ہرزہ سودائے بود
������ عاشقان الہی کو عشق الہی میں جوتکلیف پہونچتی ہے اس سے ان کو تکلیف نہیںہوتی بلکہ خوشی ہوتی ہے ،عاشقان الہی کوعشق الہی میں جوجوتکلیف ہوتی ہے اسکی اجرت اللہ تعالی ہی کوسمجھتے ہیں۔معشوق کے سواء اگر عاشق الہی کا اگر کوئی اورمقصود ہو ، وہ عشق نہیںبیہودہ خیالات ہیں،اس لئے کہ عشق الہی میں سب کچھ کھونا اور اس سے لذت لیناہی عشق ہے ۔
������� آپ کے جان نثار سب کے سب شہید ہوچکے ،اب کوئی رکاب پکڑنے والا بھی نہ رہا ،حضرت امام رضی اللہ عنہ ڈیڑے کے پاس آکر رخصت ہوتے ہیں ،چھوٹی صاحبزادی حضرت سُکَیْنَہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :باباکہاں جاتے ہیںجی؟سب بھائی ‘سب چچا‘جاجاکر شہید ہوگئے،کیا آپ بھی جاکر شہید ہوجائینگے؟مرنے میں کیا مزہ ہے باوا؟ کیوں سب جاکر خوشی سے شہید ہورہے ہیں ۔سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہ دیا اور میدان جنگ میں تشریف لائے۔یزیدیوں نے کہا :آپ جنگ شروع کیجئے ،حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:مجھے اپنے ناناسے شرم آتی ہے ، ناناکل قیامت میں فرمائیں گے ’’میری امت پرکیوں تلوار اٹھایا ‘‘تومیں کیا جواب دوں گا؟ پہلے تم ہاتھ چلاؤپھرمیں مجبور ہوکرحملہ کروں گا۔ظالموں نے ان اخلاق حمیدہ کی کچھ قدرنہ کی ۔یہ اخلاق تھے اہل بیت کے۔
������ تن تنہا ایک امام ہیں،لکھوکھا کی فوج سے مقابلہ ہے،چوطرف سے تیربھالے اورتلواربرس رہے ہیں ، صرف چہرہ مبارک پربہتر(72)زحم آئے۔
������� الغرض آپ گھوڑے سے گرتے ہی شمر لعین سینہ مبارک پرچڑبیٹھا، آپ نے پوچھا:کیا وقت ہے؟اس ملعون نے کہا :آج یوم جمعہ ہے ،خطیب خطبہ پڑھ رہاہے،آپ نے فرمایا:منبرپرخطیب سوار ہے ،میرے نانا کاخطبہ پڑھ رہاہے اورتونبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کے سینہ پرسوار ہے ،تجھے شرم نہیں آتی؟ ������ شمرلعین نے جلدی سے گلاکاٹنا چاہا، ایک بال بھی نہ کٹا، آپ نے فرمایا:تومیرا گلاکیاکاٹ سکتا ہے ؟جس حلق کومیرے نانانے بوسہ دیا ہے وہ نہیں کٹ سکتا،ٹھیر!میں نمازپڑھتاہوں اور امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے نماز شروع فرمائی۔
������� حضرت امام رضی اللہ عنہ جب سجدہ کئے شمرلعین نے گردن کاٹ لی اورامام عالی مقام نے جنت کی راہ لی۔
ملخص از:شہادت نامہ ،مؤلفہ:زبدۃ المحدثین ابو الحسنات حضرت سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ تعالی علیہ
������ اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی شہادت عظمی کے صدقہ میں ہمیں دارین کی سعادت عطا فرمائے۔
������ آمِیْن بِجَاہِ سَیِّدِنَا طٰہٰ وَیٰسٓ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی وَبَارَکَ وَسَلَّّمَ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔



submit

  AR: 515   
زجاجۃ المصابیح حنفی دلائل کا عظیم حدیثی انسائکلوپیڈیا
..........................................
  AR: 514   
قرآن کریم کے ہم پر حقوق
..........................................
  AR: 513   
استغفار تمام پریشانیوں کا حل
..........................................
  AR: 512   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 511   
تحفظ شریعت ملت کی اولین ذمہ داری
..........................................
  AR: 510   
اسلام حقوق انسانی کامحافظ
..........................................
  AR: 509   
تعلیمات حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ
..........................................
  AR: 508   
حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ عظمت و جلالت
..........................................
  AR: 507   
حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت اور مقبولیت
..........................................
  AR: 506   
قرآن کریم تمام علوم کا سرچشمہ
..........................................
  AR: 505   
امام حسین رشدوہدایت کے مینار اور حق صداقت کے معیار
..........................................
  AR: 504   
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت و استقامت
..........................................
  AR: 503   
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
..........................................
  AR: 502   
راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت
..........................................
  AR: 501   
لیلۃ الجائزۃ (انعام والی رات)
..........................................
  AR: 500   
اعتکاف احکام ومسائل
..........................................
  AR: 499   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
..........................................
  AR: 498   
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت وعظمت پرمشتمل پچیس 25 احادیث شریفہ
..........................................
  AR: 497   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 496   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved