AR 508 : حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ عظمت و جلالت

حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ عظمت و جلالت

اولیاء کرام'اللہ تعالی کے دوست اور اس کے محبوب ہوتے ہیں،سورۂ کہف کی آیت نمبر(17)میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا.

(ترجمہ)جسے اللہ تعالی ہدایت نصیب فرمائے تو وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کردے تو آپ اس کے لئے ہرگز کوئی راہ دکھانے والا ولی نہیں پائیں گے ۔ (الکہف:17)

اولیاء کرام سے سچی وابستگی اور حقیقی نسبت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ہدایت ملنے کی علامت ہے چنانچہ ولیوں کے سردار جگر گوشۂ حبیب کردگار ‘صالحین کے قافلہ سالار ،حضرت سیدنا عبد القادر جیلانی غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے وابستگی ونسبت بھی ہدایت ربانی وتوفیق یزادانی کی ترجمانی کرتی ہے ۔ لہٰذا وابستگی کا تقاضا یہ ہے کہ صدق دل سے حضرت کی تعلیمات پر عمل کیا جائے ، دل کو بغض وکینہ ‘ حرص وہوس ‘ حب جاہ ومنصب‘ بغض وعناد جیسی ہر قسم کی آلودگی سے پاک صاف رکھا جائے تاکہ وہ انوارالٰہی وفیوضات نبوی کا آئینہ بن سکے ۔

حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت گوکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے چارسو ساٹھ(460)سال بعد ہوئی مگر آپ کمالات مصطفویہ کے مظہر بن کر تشریف لائے۔

صحبت صالحین کی برکت

  دین ودنیا کی ترقی صرف علم ظاہرحاصل کرنے پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ صالحین کی قربت اور بزرگوں کی صحبت انسانیت کیلئے نقطۂ کمال ہوا کرتی ہے ، سرکار غوث پاک رضی اللہ عنہ نے سفر بغداد کے سلسلہ میں حصول علم کے ساتھ ساتھ بزرگان دین کی زیارت کو اپنا نصب العین بنایا اوریہ ابتداء ہی سے اہل حق کی فطرت رہی کہ وہ صالحین کی قربت اور صحبت کو ترجیح دیا کرتے۔

ایک روز کسی قاری نے آپ کی مجلس شریف میں قرآن مجید کی ایک آیت تلاوت کی تو آپ نے اس آیت کی تفسیر میں پہلے ایک معنی پھر دوسرے معنٰی اس کے بعد تیسرے معنی یہاں تک کہ حاضرین کے علم کے مطابق آپ نے اس آیت کے گیارہ معانی بیان فرمائے، بعد ازیں اسی آیت کے دیگر معانی بیان فرمائے جن کی تعداد چالیس تھی۔ اور ہر ایک معنی کی تائید میں دلائل قاطعہ بیان فرمائے، ہر معنے کے ساتھ سند بیان فرمائی، آپ کے جلالت علمی سے سب حاضرین متعجب ہوئے۔

حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکہ حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے 528؁ھ تا 561ھ تینتیس(33)سال درس و تدریس اور فتاوی نویسی کے فرائض سر انجام دئیے۔

جب حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے فتوی طلب کیا جاتا توآپ بغیر مراجعہ، تفکر اور غور و خوض کے فی البدیہہ ایسا جواب باصواب دیتے کہ بلند پایہ علماء اور متبحر فضلاء میں سے کسی کو بھی آپ کے فتوے کے خلاف کلام کرنے کی جرأت نہیں ہوتی۔

بلاد عجم میں سے آپ کے پاس ایک سوال آیا کہ ایک شخص نے تین طلاقوں کی قسم اس طور پر کھائی ہے کہ وہ اللہ تعالی کی ایسی عبادت کرے گا کہ جس وقت وہ عبادت میں مشغول ہوگا لوگوں میں سے کوئی شخص وہ عبادت نہ کرتا ہوگا، اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو اس کی بیوی کو تین طلاقیں ہوجائیں گی، اس صورت میں کون سی عبادت کرنی چاہئے: اس سوال سے عراق عجم وعراق عرب کے فقہاء حیران اور ششدر رہ گئے اور اس کا جواب دینے سے معذرت کرنے لگے ۔جب یہی مسئلہ بارگاہ غوثیت میں پیش کیا تو آپ نے فوراً اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ وہ شخص مکہ مکرمہ چلا جائے اور طواف کی جگہ صرف اپنے لئے خالی کرائے اور تنہا سات مرتبہ طواف کرکے اپنی قسم پوری کرے۔پس اس تشفی بخش جواب سے علماء عراق کو نہایت ہی تعجب ہوا کیونکہ وہ اس سوال کے جواب سے عاجز ہوگئے تھے۔

حضرت غوث اعظم  رحمۃ اللہ عنہ کے صاحبزادہ حضرت عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہوئے فرمایاکہ آپ کی مبارک مجلس میں علماء ، فقہاء اور مشائخ وغیرہ بکثرت تعداد حاضر ہوتے تھے اور آپ کی مجلس میں افاضل علماء جن کی تعداد چار سو تھی، قلم اور دوات لے کر علمی فیضان کے حصول میں حاضر ہواکرتے تھے۔

آپ کی بافیض مجالس کا ذکر کرتے ہوئے شیخ عمر کیمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ کی کوئی مجلس ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں یہود و نصاری اسلام قبول نہ کرتے ہوں، یا ڈاکو، قزاق، قاتل ، مفسد اور بد اعتقاد لوگ آپ کے دست حق پرست پر توبہ نہ کرتے ہوں۔

خود حضرت غوث اعظم  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بے شک میرے ہاتھ پر پانچ ہزار سے زائد یہود و نصاری نے اسلام قبول کیا اور ایک لاکھ سے زیادہ ڈاکوؤں، قزاقوں، فساق، فجار، مفسد اور بدعتی لوگوں نے توبہ کی۔

ایک دفعہ سنان نامی عیسائی پادری نے غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی مجلس شریف میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا:اور اجتماع میں کھڑا ہوکر بیان کیا کہ میں یمن کا رہنے والا ہوں ، میرے دل میں یہ بات پیدا ہوئی کہ میں اسلام قبول کرلوں اور اس پر میرا مصمم ارادہ ہوگیا کہ یمن میں سب سے افضل و اعلی شخصیت کے ہاتھ پر اسلام قبول کروں گا۔اسی سوچ بچار میں تھا کہ مجھے نیند آئی اور میں نے حضرت عیسی۔ علی نبیناو علیہ الصلوٰۃ والسلام ۔کو خواب میں دیکھا، آپ نے مجھے ارشاد فرمایا :اے سنان!بغداد شریف جاؤ اور شیخ عبدالقادر جیلانی کے دست حق پر اسلام قبول کرو؛ کیونکہ وہ اس وقت روئے زمین کے تمام لوگوں سے افضل و اعلی ہیں۔

حضرت غوث اعظم  رحمۃ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ آپ کثرت سے تلاوت قرآن کیا کرتے ، چنانچہ آپ پندرہ(15)سال ہر رات مکمل قرآن مجید ختم کرتے رہے۔




submit

  AR: 514   
قرآن کریم کے ہم پر حقوق
..........................................
  AR: 513   
استغفار تمام پریشانیوں کا حل
..........................................
  AR: 512   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 511   
تحفظ شریعت ملت کی اولین ذمہ داری
..........................................
  AR: 510   
اسلام حقوق انسانی کامحافظ
..........................................
  AR: 509   
تعلیمات حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ
..........................................
  AR: 508   
حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ عظمت و جلالت
..........................................
  AR: 507   
حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت اور مقبولیت
..........................................
  AR: 506   
قرآن کریم تمام علوم کا سرچشمہ
..........................................
  AR: 505   
امام حسین رشدوہدایت کے مینار اور حق صداقت کے معیار
..........................................
  AR: 504   
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت و استقامت
..........................................
  AR: 503   
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
..........................................
  AR: 502   
راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت
..........................................
  AR: 501   
لیلۃ الجائزۃ (انعام والی رات)
..........................................
  AR: 500   
اعتکاف احکام ومسائل
..........................................
  AR: 499   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
..........................................
  AR: 498   
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت وعظمت پرمشتمل پچیس 25 احادیث شریفہ
..........................................
  AR: 497   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 496   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 495   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved