***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1053    میثاق انبیاء کے وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بالفعل یا بالقوۃ جلوہ گری؟
مقام : انڈیا,
نام : معز الدین
سوال:    

وَإِذْ أَخَذَ اللّہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْْنَ لَمَا آتَیْْتُکُم مِّن کِتَابٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاء کُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہِ وَلَتَنصُرُنَّہُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَی ذَلِکُمْ إِصْرِیْ قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْہَدُواْ وَأَنَاْ مَعَکُم مِّنَ الشَّاہِدِیْن۔ مندرجہ بالا آیت کی روشنی میں عہد میثاق کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بالفعل موجود مانا جائے یا بالقوۃ۔ برائے مہربانی مفصل جواب مرحمت فرمائیں تو عین نوازش ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

تمام کائنات سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تخلیق و پیدائش ہوئی اور ظہور سب سے آخر میں ہوا‘ حدیث شریف ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت میثاق کی تفسیر میں فرمایا کنت اول النبیین فی الخلق و اخرھم فی البعث ۔ کل انبیاء میں سب سے پہلے میری تخلیق ہوئی ‘ میں سب سے آخر میں مبعوث ہوا۔ (دلائل النبوۃ لابی نعیم) (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر‘ کتاب مبعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ میثاق انبیاء کے وقت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بالفعل حقیقت میں جلوہ گر و تشریف فرما رہے‘ علم الٰہی میں یا معنوی طور پر موجود رہنا مراد نہیں ہے کیونکہ لفظ فی الخلق حقیقت میں وجود و ظہور پر دلالت کرتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان عالی شان ہے ‘ میں اس وقت بھی شان نبوت سے متصف تھا جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے‘ عن میسرۃ قال قلت یا رسول اللہ متی کنت نبیا قال و اٰدم بین الروح والجسد (سنن ترمذی‘ باب فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘ ح 3542‘ مستدرک‘ ذکر اخبار سید المرسلین ‘ ح 4174‘ ابن ابی شیبۃ‘ ج 8‘ ص 438‘ معجم کبیر طبرانی‘ من اسمہ میسرۃ‘ ح 17220/17221‘ جامع الاحادیث‘ حرف الباء 10443‘ شرح مشکل الآثار‘ ح 5976) اس حدیث شریف کی شرح میں حضرت محمد بن یوسف صالحی شامی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب سبل الھدیٰ والرشاد میں رقم فرماتے ہیں وھو انتقالہ صلی اللہ علیہ وسلم من رتبۃ العلم والکتابۃ الی رتبۃ الوجود العینی الخارجی فانہ صلی اللہ علیہ وسلم استخرج من ظھر ادم و نبی فصارت نبوتہ موجودۃ فی الخارج بعد کونھا کانت مکتوبۃ مقدرۃ فی ام الکتاب (سبل الھدی والرشاد‘ الباب الثالث فی تقدم نبوتہ صلی اللہ علیہ وسلم ج 1‘ ص 79) ھو النبی المطلق والرسول الحقیقی والمشروع الاستقلالی، و ان من سواہ من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام فی حکم التبعیۃ لہ صلی اللہ علیہ وسلم روح المعانی ج 3‘ ص 335 ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com