***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1098    ماہ صفر میں شادی کرنا کیساہے ؟
مقام : علی باغ ،حیدرآباد،انڈیا,
نام : عبد اللہ
سوال:    

مفتی صاحب میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیاماہ صفر میں شادی کی جاسکتی ہے ؟جبکہ اس میں شادی بیاہ کی تقاریب کے انعقاد کو منحوس سمجھاجاتاہے ،اس کا جواب عنایت فرمائیں تو بہت مہربانی ہوگی ۔


............................................................................
جواب:    

ماہ صفر میں شادی بیاہ کی تقاریب کے انعقاد کو منحوس سمجھنا باطل ہے جس کی دین اسلام میں کوئی حیثیت نہیں ایک روایت کے بموجب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شہزادی حضرت سیدتنا فاطمة الزہراء رضی اللہ عنہا کا عقد نکاح مولائے کائنات حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے اسی مہینہ میں ہوا تھا ، جب کہ ماہ رمضان وماہ رجب کی بھی روایت موجود ہے۔ جیسا کہ سبل الہدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد ج11، ص37، میں ہے: قال جعفر بن محمد تزوج علی فاطمۃ رضی اللہ عنہا فی شہر صفر فی السنۃ الثانیۃ وبنی بہا فی شہر ذی القعدۃ علی راس اثنین وعشرین شہرا من الہجرۃ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com