***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1119    حیات النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کاثبوت
مقام : پاکستان,
نام : محمد محتشم
سوال:    

انبیاء کرام کی حیات مبارکہ کیا حدیث سے ثابت ہے ؟اس بارے میں ہمارے ملک میں بہت زیادہ گفتگو کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ نعوذباللہ انبیاء کرام زندہ نہیں ہے وہ عام لوگوں کی طرح ہیں ۔میرا جواب عنایت فرمائیں تو مہربانی وکرم ہوگا۔


............................................................................
جواب:    

اللہ تعالی نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو ساری کائنات میں سب افضل اور بزرگ کیا ہے ، انہیں خصوصی شان اور کمالات عطافرمائے- حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا سردار بنایا ،اور سلسلۂ نبوت ورسالت کو آپ پر ختم فرمادیا- آپ کی نسبت سے اللہ تعالی نے آپ کی امت کو بے پناہ نعمتیں عطا فرمائی،چناچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں شہداء کرام سے متعلق ارشاد فرمایا : وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ- ترجمہ: اور تم ان لو گوں کو مردہ مت کہو جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔ ( سورۃ البقرة :154) مذکورہ آیت کریمہ سے شہداء کرام کا زندہ اور باحیات ہونا معلوم ہوتا ہے‘ انبیاء کرام ساری مخلوق میں سب سے بزرگ ‘ باعظمت اور افضل ہیں۔ یہ بات ان کی عظمت و بزرگی اور افضلیت سے بعید ہے کہ اُن کے امتی شہید ہوکر باحیات رہیں اور خود انبیاء کرام علیہم السلام جن کی دعوت و تبلیغ سے افراد امت میں جذبہ شہادت پیدا ہوتا ہے وہ اس درجہ پر فائز نہ ہوں گے؟ لہٰذا انبیاء کرام علیہ الصلوٰۃ والسلام بدرجہ اولیٰ و بوجہ اکمل زندہ ہیں۔ علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ مواہب کی شرح ،ج 7، ص 368 ،میں تحریر فرماتے ہیں: (فالحياة الثانية حياة اخروية ولا شک انها اعلی و اکمل من حياة الشهداء) لفضل الانبياء عليهم (و هي ثابتة للروح بلا اشکال) ای: بلا خلاف عند اهل السنة۔ احادیث شریفہ میں وضاحت کے ساتھ انبیاء کرام علیہم السلام کا باحیات ہونا ثابت ہے۔ مسند ابو یعلی میں حدیث پاک ہے : عن انس بن مالک قال رسول الله صلی الله عليه وسلم الانبياء احياء فی قبورهم يصلون- ترجمہ: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام زندہ ہیں ‘ اپنی مزارات میں نماز ادا کرتے ہیں۔ (مسند ابو یعلی‘ حدیث 3331‘ مسند انس رضی اللہ عنہ) امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے مجمع الزوائد و منبع الفوائد میں اس حدیث پاک کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے :و رجال ابی يعلی ثقات۔ مسند ابو یعلی کی حدیث کے تمام رواۃ ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔(مجمع الزوائد‘ باب ذکر الانبیاء‘ ج 8‘ ص 210) یہ حدیث پاک سنن ابو داؤد‘ سنن نسائی‘ سنن ابن ماجہ‘ مسند امام احمد بن حنبل‘ مصنف ابن ابی شیبہ‘ سنن دارمی‘ صحیح ابن خزیمہ‘ صحیح ابن حبان‘ معجم کبیر طبرانی اور سنن سعید بن منصور میں بھی موجود ہے۔ نیز سنن ابو داؤد شریف میں حدیث پاک مذکور ہے: عن اوس بن اوس قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم ان من افضل ايامکم يوم الجمعة فيه خلق آدم، و فيه النفخة و فيه الصعقة، فاکثروا علی من الصلاة فيه ، فان صلاتکم معروضة علی قالوا: يا رسول الله و کيف تعرض صلا تنا عليک و قد ارمت؟ فقال : ان الله عز و جل حرم علی الارض اجساد الانبياء۔ ترجمہ: سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے دنوں میں زیادہ فضیلت والا دن جمعہ ہے‘ اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے‘ اسی دن وصال فرمائے‘ اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن لوگوں پر بے ہوشی طاری ہوگی۔ لہٰذا تم اس دن مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود میری بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کی بارگاہ میں ہمارا درود کس طرح پیش کیا جائے گا جب کہ آپ وصال فرماچکے ہوں گے؟ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے اجسام کو حرام قرار دیا ہے۔ (سنن ابو داؤد شریف ج 1 ‘ کتاب الصلوٰۃ فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ ص 150-سنن نسائی، باب إكثار الصلاة على النبى -صلى الله عليه وسلم- يوم الجمعة،حدیث نمبر: 1385-سنن ابن ماجہ، باب فى فضل الجمعة، حدیث نمبر: 1138-مستدرک علی الصحیحین ، كتاب الجمعة، حدیث نمبر: 980-مسند امام احمد، حديث أوس بن أبى أوس الثقفى، حدیث نمبر: 16592-مصنف ابن ابی شیبہ،ج2،ص389-سنن کبری للنسائي، حدیث نمبر: 16592-معجم کبیر طبرانی، حدیث نمبر: 588-معجم اوسط طبرانی، حدیث نمبر: 4936-بیہقی شب الایمان، حدیث نمبر: 2894-صحیح ابن حبان، باب الأدعية، حدیث نمبر: 912-صحیح ابن خزیمۃ، جماع أبواب فضل الجمعة، حدیث نمبر: 1638-سنن صغری للبیہقی، باب فضل الجمعة، حدیث نمبر: 607-جامع الأحاديث، حدیث نمبر: 8441-الجامع الكبير للسيوطي، حدیث نمبر: 1790-سنن دارمى، حدیث نمبر: 1624-كنز العمال، حدیث نمبر: 2202-زجاجۃ المصابیح ، باب الجمعۃ ، ج:1،ص:382) اور سنن ابن ماجہ ،جامع الاحادیث والمراسیل اور جامع کبیر میں ان الفاظ کا اضافہ ہے : فَنَبِىُّ اللَّهِ حَىٌّ يُرْزَقُ. ترجمہ: اللہ کے نبی حیات ہیں ،رزق پاتے ہیں- (سنن ابن ماجہ، باب ذكر وفاته ودفنه -صلى الله عليه وسلم- حدیث نمبر: 1706-جامع الأحاديث، حدیث نمبر: 4320-الجامع الكبير للسيوطي، حدیث نمبر: 61) صحیح مسلم شریف میں حدیث پاک ہے : عن سليمان التيمی سمعت انسا يقول قال رسول الله صلی الله عليه وسلم مررت علی موسی و هو يصلی فی قبره و زاد فی حديث عيسی مررت ليلة اسری بی ۔ ترجمہ: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا جبکہ وہ اپنی مزار میں نماز ادا کررہے تھے۔(مسلم شریف، 165، باب من فضائل موسی،حدیث نمبر؛ 6308) حدیث مذکور سے متعلق صحیح ابن حبان کی طویل روایت کا ایک حصہ ملاحظہ ہو: فلما دخل صلی الله عليه وسلم بيت المقدس و اسری به اسری بموسی حتی رأه فی السماء السادسة و جری بينه و بينه من الکلام ما تقدم ذکرنا له ۔ ترجمہ: جب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں داخل ہوئے پھر آپ آسمانوں پر تشریف لائے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی آسمانوں پر تشریف لائے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر دیکھا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان گفتگو ہوئی (صاحب کتاب کہتے ہیں) جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا۔ (صحیح ابن حبان‘ فصل اول‘ حدیث 50) اسی روایت میں مذکور ہے کہ پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی‘ دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے‘ تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام سے ‘ چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے‘ پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام سے‘ چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ مذکورہ احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے انبیاء کرام زندہ باحیات ہیں‘ جس طرح دنیا میں نماز پڑھتے تھے اسی طرح نماز ادا کرتے ہیں‘ ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ مواہب لدنیہ کی شرح میں نقل کرتے ہیں : و فی الفتاوی الرملية : الانبياء و الشهداء و العلماء لا يبلون‘ والانبياء والشهداء ياکلون فی قبورهم و يشربون‘ و يصلون و يصومون و يحجون۔ ترجمہ: فتاویٰ رملی میں ہے کہ حضرات انبیاء ‘ شہداء اور علماء کے اجسام مبارکہ وصال کے بعد بوسیدہ نہیں ہوتے‘ انبیاء کرام اور شہدائے عظام اپنی مزارات میں کھاتے‘ پیتے ہیں ‘ نماز ادا کرتے ہیں‘ روزہ رکھتے ہیں اور حج کرتے ہیں۔ (شرح الزرقانی علی المواہب‘ ج 7‘ ص 369) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com