***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1155    دوسری رکعت میں ثناء پڑھنا
مقام : حیدرآباد،انڈیا,
نام : علی
سوال:    

اگر میں نماز میں دوسری رکعت میں ہوجاؤں توکیا ثناء پڑھنا چاہئے یا نہیں؟


............................................................................
جواب:    

ثناء تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھنا مسنون ہے‘ اگر کسی شخص کی ایک رکعت فوت ہوچکی ہو اور وہ دوسری رکعت میں قرأت کے دوران امام صاحب کے ساتھ شریک ہوجائے تو اس وقت ثناء نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ جب امام صاحب سلام پھیر دیں اور فوت شدہ رکعت کے لئے کھڑا ہو تو پہلے ثناء پڑھے پھر تعوذ و تسمیہ پڑھ کر قرأت کرے۔ اگر امام صاحب رکوع یا سجدہ میں ہوں‘اور وہ شخص تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پڑھ کر امام صاحب کے ساتھ رکوع یا سجدہ میں شامل ہوسکتا ہو تو ثناء پڑھ لے اور اگر ثناء پڑھنے کی وجہ سے رکوع یا سجدہ فوت ہو نے کا اندیشا ہو تو اس وقت ثناء نہ پڑھے بلکہ فوت شدہ رکعت میں پڑھے۔ اگر آپ دوسری رکعت میں شریک جماعت ہوئے ہوں تو مذکورہ تفصیل کے مطابق ثناء پڑھیں۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:وَيَسْكُتُ الْمُؤْتَمُّ عَنْ الثَّنَاءِ إذَا جَهَرَ الْإِمَامُ هُوَ الصَّحِيحُ .كَذَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة فِي فَصْلِ مَا يَفْعَلُهُ الْمُصَلِّي فِي صَلَاتِهِ .وَإِنْ أَدْرَكَ الْإِمَامَ فِي الرُّكُوعِ أَوْ السُّجُودِ يَتَحَرَّى إنْ كَانَ أَكْبَرُ رَأْيِهِ أَنَّهُ لَوْ أَتَى بِهِ أَدْرَكَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ الرُّكُوعِ أَوْ السُّجُودِ يَأْتِي بِهِ قَائِمًا وَأَلَّا يُتَابِعَ الْإِمَامَ وَلَا يَأْتِي بِهِ وَإِذَا لَمْ يُدْرِكْ الْإِمَامَ فِي الرُّكُوعِ أَوْ السُّجُودِ لَا يَأْتِي بِهِمَا وَإِنْ أَدْرَكَ الْإِمَامَ فِي الْقَعْدَةِ لَا يَأْتِي بِالثَّنَاءِ بَلْ يُكَبِّرُ لِلِافْتِتَاحِ ثُمَّ لِلِانْحِطَاطِ ثُمَّ يَقْعُدُ .هَكَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ فِي صِفَةِ الصَّلَاةِ . ﴿فتاویٰ عالمگیری ج ۱ کتاب الصلوٰۃ, الفصل السابع فی المسبوق و اللاحق,ص:91﴾ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com