***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > عاریت کا بیان

Share |
سرخی : f 1161    بطورعاریت حاصل شدہ چیزکا سرقہ
مقام : ،نواب صاحب کنٹہ،حیدرآباد.انڈیا,
نام : اکرم علی
سوال:    

میں نے اپنے ایک ساتھی سے اسکوٹر مانگ کرلی او رچنددن کے بعدواپس کرنے کاوعدہ کیا میں اپنی ضروریا ت پوری کرتارہااس عرصہ میں ایک مقام پر اسکوٹر پارک کرکے لاک (LOCK)کیا، اپنے کام سے واپس آنے کے بعد دیکھتا ہوں کہ اسکوٹر موجود نہیں ہے چوری کرلی گئی کیا ازروئے شریعت مجھ کواسکوٹر کی پوری قیمت اداکرنی چاہئے یا بطور تاوان کچھ رقم دینی چاہئے یا کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں ؟ شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

کسی کو بغیر معاوضہ کے اپنی کوئی چیزفائدہ اٹھانے کیلئے دینا’’ عاریت‘‘ کہلاتا ہے آپ نے کچھ مدت کے لئے اپنے ساتھی سے جوگاڑی مانگ کرلی وہ آپ کے پاس بطور عاریت تھی اور عاریت کا حکم یہ ہے کہ مستعیر (عاریت پر لینے والا) اس چیز سے استفادہ کرسکتاہے لیکن وہ اس کامالک نہیں ہوتا بلکہ اس کی ادائیگی اس کے ذمہ لازم رہتی ہے، اگر وہ چیزچوری ہوجائے یاضائع ہوجائے تو دیکھا جائے گا کہ اس شخص نے اس چیزکی حفاظت وصیانت کا اہتمام کیا تھا یا اس میں غفلت ولاپرواہی برتی تھی اگر اس نے اس کی حفاظت کا پورا اہتمام کیا تھا اس کے باوجود وہ چیزگم ہوگئی یا چوری ہوگئی تو ازروئے شرع اس پر اس کا تاوان وضمان نہیں ہوگا اس کے برخلاف اگر اس نے اس کی حفاظت کرنے میں غفلت برتی او رتساہل سے کام لیا تھا تو شرعاًوہ اس کاذمہ دار وضامن ہے اس کیلئے لازم وضروری ہے کہ مالک کو پوری قیمت اداکرے۔جامع ترمذی شریف، ج۱،کتاب البیوع باب ماجاء ان العاریۃ مؤداۃص 239 میں حدیث پاک ہے(حدیث نمبر:1186) عن ابی امامۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی الخطبۃ عام حجۃ الوداع العاریۃ مؤداۃ۔ ترجمہ:حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں ارشادفرماتے ہوئے سنا’’عاریۃً لی ہوئی چیز واجب الاداہے‘‘۔ فتاوی عالمگیری ج 4 کتاب العاریۃ الباب الخامس فی تضيیع العاریۃ ومایضمنہ المستعیر ومالا یضمن ص 366 میں ہے ۔اذاکان الرجل علی دابۃ باجارۃ اوعاریۃ فنزل عنہا فی السکۃ ودخل فی المسجد لیصلی فخلی عنہا فہلکت فہو ضامن ۔ ۔ ۔ رجل استعاردابۃ لیشیع جنازۃ الی موضع کذا فلما انتہی الی المقبرۃ دفعہا الی انسان ودخل لیصلی فسرقت الدابۃ قال محمدرحمہ اللہ تعالی لایکون ضامنا کذا فی فتاوی قاضی خان ۔ترجمہ:کوئی شخص عاریۃً یا کرایہ سے کوئی سواری لے کر اس پر سوار ہوجائے پھر گلی میں سواری سے اتر کر اسے کھلا چھوڑدے اور نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوجائے اس دوران سواری چوری ہوگئی تو یہ شخص اس کا ضامن ہوگایعنی اس کی قیمت مالک کواداکرنا اس کے ذمہ لازم ہے ۔ ۔ ۔ او راگر وہ حفاظت ونگہبانی کیلئے سواری کسی کودے کرجائے اورایسی صورت میں سواری چوری ہوجائے تو ضامن نہیں ہوگا ۔ بناء بریں آپ نے اپنے ساتھی کی ا سکوٹر جوچندروزاستعمال کے لئے لی تھی اگر واقعتا آپ نے اس کو محفوظ مقام پر رکھ کر لاک(lock)کیاتھا تب تو آپ کے ذمہ اس کا کوئی تاوان نہیں بصور ت دیگرآپ کے ذمہ بطور تاوان اس کی مکمل رقم کی ادائیگی لازم رہے گی ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com