***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1191    غیر مسلم کو سلام کرنے کا حکم ؟
مقام : حیدرآباد ،انڈیا,
نام : مراد علی خان
سوال:    

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی صاحب! میرا نام مراد علی خان قادری ہے، میں آپ سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں- (1) کیا غیر مسلم کو سلام کرنا جائز ہے؟ سلام میں ہم ان کے لئے دعاء خیر کررہے ہیں، اگر کوئی ہمیں سلام کرے تو جواب دیں یا نہ دیں؟ (2) کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں جو ایمان لائے وہی لوگ مسلمان ہیں یا پھر پہلے جو نبی تشریف لائے ان پر ایمان لانے والے بھی مسلمان ہیں؟ (3) کیا مسلمان ہی جنتی ہیں یا پھر کوئی غیر مسلم بھی جنتی ہوگا؟


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ! (1) غیر مسلم کے لئے السلام علی من اتبع الھدی یا آداب کہنا جائز ہے- اگر کوئی غیر مسلم السلام علیکم کہے تو اسے جواب میں صرف "وعلیکم" کہنا چاہئے جیسا کہ زجاجة المصابیح ،ج 4 ،ص 11 میں حدیث پاک ہے :وعن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذاسلم علیکم اھل الکتاب فقولوا وعلیکم متفق علیہ ﴿صحیح بخاری شریف ، حدیث نمبر: 6258،صحیح مسلم شریف ،حدیث نمبر:5780﴾ (2) سابقہ امتوں میں جو ایمان لائے وہ بھی مؤمن و مسلمان ہیں- (3) جو مسلمان ہیں وہی جنت میں داخل ہوں گے، کوئی غیر مسلم جنت میں داخل نہ ہوگا- واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com