***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1195    مضاربت میں نقصان کس کے ذمہ ہوگا؟
مقام : بنگلور,
نام : فضیل خان
سوال:    

میں نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر کاروبار کرنے کا ارادہ کیا ہے ، ہم نے آپس میں یہ طے کیا کہ میں سرمایہ لگاؤں گا اور وہ محنت کرے گا اور جوبھی فائدہ یانقصان ہوگا وہ دونوں کا آدھا آدھا ہوگا ، کیا اس طرح کاروبار کرناصحیح ہے ؟ ہم نے کاروبار کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں ان شاء اللہ تعالی اندرون ایک مہینہ کاروبار شروع ہوگا، برائے کرم جواب مرحمت فرمائیں ، ہم لوگ آپ کے شکرگزار ہوں گے ۔


............................................................................
جواب:    

ایک شخص کا سرمایہ اور دوسرے کی محنت ہوتو ایسے معاملہ کو اصطلاح شریعت میں ’’مضاربت ‘‘کہتے ہیں ، مضاربت میں نفع دونوں کے درمیان معاہدہ کے مطابق ہوگا، اور نقصان صرف سرمایہ کار برداشت کرے گا اور محنت کش کو اس کی محنت کا بدلہ نہیں ملے گا، محنت کرنے والے پر نقصان میں حصہ داری کا بار ڈالنا‘شرعاًدرست نہیں ، البتہ نفع حاصل ہونے کے بعد نقصان ہوتو پہلے دونوں کے نفع سے نقصان کی تلافی کی جائے گی ، جب نفع ختم ہوجائے اور نقصان باقی رہے تو سرمایہ کار ہی نقصان برداشت کرے گا ۔ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق آپ نے نقصان میں حصہ داری کی جو شرط لگائی ہے وہ کالعدم قرار پائے گی ، باقی معاملہ درست ہوگا ، نفع کے بعد نقصان کی تلافی آپ دونوں کے نفع سے کی جائے گی ، نقصان ‘ اگر نفع سے بڑھ کر ہوتو نفع ختم ہونے کے بعد اس کی پابجائی آپ کے ذمہ ہوگی ۔ ہدایہ ج3 ص266 میں ہے: وماھلک من مال المضاربۃ فھو من الربح دون راس المال ۔ ۔ ۔ فان زاد الھالک علی الربح فلاضمان علی المضارب لانہ امین۔ اور ردالمحتار مضاربت کے بیان میں ہے :(قولہ بطل الشرط )کشرط الخسران علی المضارب ۔ (ردالمحتار،کتاب المضاربۃ) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com