***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 12    مقررہ عادت سے قبل خون رک جائے تو ہمبستری اور نماز کا حکم
مقام : امريكه,
نام : عبد اللہ
سوال:    

اگر عورت کے ماہواری کے عادت کے دن سے کم مدت میں خون رُک جائے توعورت کے لئے کیا حکم ہے؟کیا وہ غسل کرکے نماز پڑھنا شروع کردے اور کیا شوہر اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرسکتاہے؟


............................................................................
جواب:    

عادت سے کم مد ت میں خون منقطع ہونے کی صورت میں چونکہ مقررہ عادت کے ایام پورے نہیں ہوئے ہیں اس بناء پریہ احتمال رہتا ہے کہ پاکی کے دن شروع نہ ہوئے ہوں اور مزید خون آنے لگے ،اسی طرح یہ بھی احتمال رہتاہے کہ پاکی کے دن شروع ہوچکے ہوں اور اب اس مد ت میں خون نہ آئے ،اس لئے فقہاء کرام نے ان دوامکانی صورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فرمایا کہ نماز وروزہ کے بارے میں اور شوہر کے ساتھ تعلق زوجیت قائم کرنے سے متعلق احتیاطی پہلو اختیار کیا جائے یعنی عورت غسل کرلے اور نماز پڑھتی رہے اور ماہ رمضان ہوتو روزہ رکھے لیکن ازدواجی تعلق سے پرہیزکرے ، عادت کے دن گزرنے کے بعد بدستور ازدواجی تعلق قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج1،کتاب الطهارة ،الباب السادس فی الدماء المختصة بالنساء الفصل الرابع فی احکام الحيض والنفاس والاستحاضة,ص 39, میں ہے: لوانقطع دمهادون عادتها يکره قربانها وان اغتسلت حتی يمضی عادتهاوعليها ان تصلی وتصوم للاحتياط ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com