***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1220    روزہ میں بھول کر کھانا کیسا ہے؟
مقام : یاقوت پورہ حیدرآباد,
نام : امتیاز احمد
سوال:    

میں نے رمضان شریف میں سحری کی،دوپہر کے وقت معمول کے مطابق بھول کر کچھ کھالیا،کھانے کے بعد مجھے یاد آیا کہ میں روزہ سے ہوں اس غلطی کا کفارہ کیا ہے؟صرف کفارہ دینا کافی ہے یا روزہ کی قضاء کرنا ضروری ہے؟


............................................................................
جواب:    

اگر کوئی شخص بحالت روزہ بھول کر کھاپی لے تو ایسے شخص سے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ اپنا روزہ مکمل کر لے ‘جیساکہ صحیح بخاری شریف میں ہے:إِذَا نَسِیَ فَأَکَلَ وَشَرِبَ فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَہُ اللَّہُ وَسَقَاہُ-(صحیح بخاری شریف،کتاب الصوم,باب الصائم إذا أکل أوشرب ناسیا،حدیث نمبر1933) ترجمہ:جب کوئی شخص روزہ کی حالت میں بھول کر کھاپی لے تو چاہئے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرلے کیونکہ اسے اللہ تعالی نے کھلایا اور پلایا ہے- اسی لئے اگر روزہ دار بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا فتاوی عالمگیری،ج1،ص 202، کتاب الصوم, الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد ،میں ہے:إذا أکل الصائم أو شرب أو جامع ناسیا لم یفطر ، ولا فرق بین الفرض والنفل- فتاوی عالمگیری،ج1،ص 206، کتاب الصوم, الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد ،میں ہے: لو أکل أو شرب أو جامع ناسیا وظن أن ذلک فطرہ فأکل متعمدا لا کفارۃ علیہ- لھذا آپ نے جو بھول کر کھالیا تھا اس سے آپ کا روزہ نہیں ٹوٹا،اگر آپ اس کے بعد افطار تک کھانے پینے سے رکے رہے اور روزہ کے منافی کوئی عمل نہیں کیا تھا تو آپ کا روزہ مکمل ہوگیا اس کی قضاء کرنے کی ضرورت نہیں- اگر آپ نے بھول کر کھانے کے بعد یہ سمجھ کر کہ روزہ ٹوٹ گیا بلاارادہ کچھ کھایا پیا تو اس صورت میں آپ کے ذمہ روزہ کا کفارہ تو نہیں ہوگا البتہ روزہ کی قضاء کرنا ضروری ہے- واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com