***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1223    روزہ میں گلوکوس اور انجکشن کے استعمال کا حکم
مقام : انديا,
نام : محمد شاکر
سوال:    

ہم روزہ کی حالت میں گلوکوس اور انجکشن لے سکتے ہیں؟کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ براہ مہربانی جواب عنایت فرمامیں-


............................................................................
جواب:    

گلوکوس اور انجکشن کے بارے میں علماء کے دوقول ہیں،بعض حضرات کا کہنا ہیکہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اور بعض حضرات کی تحقیق کے مطابق اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اورٹوٹنے والا قول ہی قرین احتیاط ہے،کیونکہ گلوکوس اور انجکشن کی وجہ سے جو دوا اور غذا جسم کے اندر پہنچائی جاتی ہے، گوکہ وہ طبعی منافذ(سوراخ) "کان ناک حلق وغیرہ" کے ما سوا مقامات سے پہنچائی جا تی ہو تب بھی غذائیت یا دوا ہونے کی وجہ سے بدن کے لئے تقویت، صحت وتندرستی کا باعث ہوتی ہے، اور جو دوا یا غذا طبعی منافذ سے راست معدہ میں پہنچتی ہے وہ بھی ہضم ہوکر بدن ہی کو تقویت پہنچاتی ہے اسی لئے گلوکوس اور انجکشن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ بحالت روزہ گلوکوس اور انجکشن سے گریز کریں، علاوہ ازیں معدہ میں جو غذا پہنچائی جاتی ہے معدہ اسے ہضم کرکے جسم میں تقویت پیدا کرتا ہے،اور انجام کار کے لحاظ سے یہ دوا یا غذا جسم کے لئے تقویت یا تندرستی کا باعث ہوتی ہے،اس وجہ سے ایسی صورت میں روزہ ٹوٹ جاتاہے، اسی طرح گلوکوس اور انجکشن کے ذریعہ دوا یا غذا خون میں محلول ہوکر جسم کی تقویت یا تندرستی کا سبب بنتی ہے لہذا انجام کار کے اعتبار سے اس صورت میں بھی روزہ ٹوٹ جاتاہے، روزہ کا مقصد محدود وقت کے لئے معدہ کوخالی رکھنا اور جسم میں غذا یا دوا نہ پہنچانا ہے،اگر بحالت روزہ گلوکوس اور انجکشن کی گنجائش مل جائے تو روزہ کا مقصد ہی باقی نہیں رہتا ، بنابریں جس طرح دوا یا غذا معدہ میں پہنچانے کی صورت میں روزہ ٹوٹنے کا حکم لگایاجارہاہے اسی طرح احتیاط پر مبنی اور مقصد کے قریب یہی قول ہے کہ گلوکوس اور انجکشن سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے ورنہ آدمی گلوکوس یا انجکشن استعمال کرکے روزہ کی حالت میں بھی سیراب وتوانا رہتاہے۔ فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ پیٹ یا دماغ کے زخم میں دوا ڈالی جائے اور دوا پیٹ یا دماغ کے اندر چلی جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتاہے جیساکہ درمختار کتاب الصوم روزہ کے مفسدات کے بیان میں ہے: (او احتقن او استعط) فی انفہ شیئا (او اقطر فی اذنہ دہنا او داوی جائفۃ او آمۃ) فوصل الدواء حقیقۃ إلی جوفہ ودماغہ ۔ ۔ ۔ (قضی) فی الصور کلہا (فقط)۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com