***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1227    سحری تناول کرنے کا حکم
مقام : یاقوت پورہ,india,
نام : ام الخیر عطیہ
سوال:    

بعض حضرات سحری تناول کئے بغیر روز ہ رکھتے ہیں ،بیدارہوکر سحری کھاناپسند نہیں کرتے ،سحری کھائے بغیرروزہ رکھنا پسندیدہ ہے یا سحری کھاکر روزہ رکھنا بہتر ہے ؟


............................................................................
جواب:    

اللہ تعالی نے بندہ کو اس کا جسم بطور امانت عطا فرمایا ہے لہذا جسم کے حقوق ادا کرنا اس کے لئے ضروری امر ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما مسلسل دن میں روزہ رکھتے اور رات میں نمازوں میں مشغول رہتے تھے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےانہیں عبادتوں میں اعتدال قائم کرنے اور اپنی صحت کا خیال رکھنے کی نصیحت فرمائی اور ارشاد فرمایا: فان لجسدک علیک حقا وان لعینک علیک حقا۔ ترجمہ: یقیناً تم پر تمہارے جسم کا حق ہے اور تم پر تمہاری آنکھوں کا حق ہے۔ (صحیح بخاری شریف کتاب الصوم باب حق الجسم فی الصوم حدیث نمبر 1974) مطلق سحری نہ کھانے سے آدمی کمزورو ناتواں ہوجاتا ہے جس کے باعث صحت متاثر ہونے کا اندیشہ رہتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو منع فرمایا کہ وہ اپنے آپ کو کسی قسم کے نقصان وہلاکت میں ڈالیں ارشاد الہی ہے: ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ۔ ترجمہ: اور اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ (سورۃ البقرۃ۔195) سحری کھانا مسنون ومستحب اور باعث برکت ہے حضور اکرم صلی اﷲعلیہ وسلم نے سحری کھانے کا بطور خاص حکم فرمایا ہے جیسا کہ جامع ترمذی میں حدیث شریف ہے: عن انس بن مالک ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال تسحروافان فی السحور برکۃ۔ ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سحری کھاؤ کیوں کہ سحری میں برکت ہے۔ (جامع ترمذی شریف ابواب الصوم باب ما جاء فی فضل السحور، حدیث نمبر712 ) اگر کوئی شخص سحری نہ کھاکر اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنا چاہتا ہے اور اس عمل سے اس کا مقصود نفس کشی ہو تو بالکلیہ طور پر بھوکا رہنے کے بجائے اتنی مقدار تناول کرلے جس سے صحت وتندرستی برقرار رہے ،عبادت میں کوتاہی نہ ہونے پائے، روزہ رکھ سکے، کھڑے ہوکر نماز ادا کرسکے ،اس کے ساتھ ساتھ سحری کھانے کا ثواب اور اس کی برکت حاصل ہوجائے۔ سنن ابن ماجہ میں حدیث مبارک ہے: اسْتَعِینُوا بِطَعَامِ السَّحَرِ عَلَی صِیَامِ النَّہَارِ وَبِالْقَیْلُولَۃِ عَلَی قِیَامِ اللَّیْلِ۔ ترجمہ: دن کے روزہ کے لئے سحری سے مدد لو اور رات کی عبادت کے لئے دن کے قیلولہ سے مدد لو ۔ (سنن ابن ماجہ شریف ابواب ما جاء فی الصیام باب ما جاء فی السحور ،حدیث نمبر1763 ) لہذا سحری کھاکر روزہ رکھنے کا عمل شریعت میں پسندیدہ ہے اور سحری کو چھوڑنا پسندیدہ نہیں ۔ فتاوی عالمگیری کتاب الکراہیۃ کھانا تناول کرنے کے بیان میں ہے: وماجور علیہ وھو مازاد علیہ لیتمکن من الصلوٰۃ قائما و یسھل علیہ الصوم۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com