***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1265    مرد کیلئے ریشمی لباس  یا ریشمی بستر کا استعمال
مقام : سلیم نگرکالونی,
نام : محمد عابد محی الدین
سوال:    

آج کل بعض نوجوان ریشمی کپڑے پہن رہے ہیں۔ کیا مرد کے لئے ریشم پہننے کی گنجائش ہے؟اسی طرح جہیز میں ریشم کی توشک اور مچھردان دیتے ہیں جس کی وجہ دلہے کویہ بستر بہرحال استعمال کرنا پڑتاہے کیا ریشم کی بنی چیزوں کو مرد استعمال کرسکتاہے ؟


............................................................................
جواب:    

مردوں کے لئے ریشمی لباس پہننا ریشم کا بستر استعمال کرنا جائز نہیں ۔ احادیث شریفہ میں مردوں کے لئے ریشم پہننے کی ممانعت آئی ہے صحیحین بخاری ومسلم میں بروایت عبداﷲ عمر رضی اﷲعنہما حدیث پاک ہے : قال رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم انما یلبس الحریر فی الدنیا من لاخلاق لہ فی الاخرۃ ۔ حضرت رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :اس کے سوا نہیں کہ دنیا میں ریشم وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو۔( بخاری شریف ، کتاب اللباس،باب لبس الحریروافتراشہ،حدیث نمبر:5835۔مسلم شریف ، کتاب اللباس والزینۃ،باب تحریم استعمال اناء الذھب والفضۃ علی الرجال والنساء،حدیث نمبر:5524) سنن نسائی شریف ،کتاب الزینۃ،باب تحریم الذھب علی الرجال (حدیث نبمر:5165)میں حدیث پاک ہے :عن أبی موسی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال أحل الذہب والحریر لإناث أمتی وحرم علی ذکورھا . ترجمہ : ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ریشم اور سونا میری امت کی عورتوں کے لئے حلال کیا گیا اور مردوں پر حرام قرار دیاگیا ۔ بخاری شریف ،کتاب اللباس ، باب افتراش الحریر(حدیث نمبر:5837)میں حدیث مبارک ہے : وعن حذیفۃ قال نھانا رسول اﷲصلی اﷲ علیہ و سلم ان نشرب فی اٰنیۃ الفضۃ والذھب وان ناکل فیھا و عن لبس الحریر والدیباج وان نجلس علیہ۔ ترجمہ: سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ سے راویت ہے حضرت رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو چاندی اور سونے کے برتن میں کھانے پینے سے ریشم اور دیباج کے پہننے سے اور اس کے فرش پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ مسلم شریف ،کتاب اللباس والزینۃ،باب تحریم استعمال إناء الذہب والفضۃ علی الرجال والنساء (حدیث نمبر:5538)میںہیکہ عمر رضی اﷲ عنہ نے جابیہ مقام میں خطبہ دیا اور فرمایا :نہی نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن لبس الحریر إلا موضع إصبعین أو ثلاث أو أربع۔ ترجمہ :حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا مگر دویا تین چا ر انگلیوں کی مقدار۔ ابوادؤد شریف ،کتاب اللباس ، باب الرخصۃ فی العلم وخیط الحریر(حدیث نمبر:4057)میں حدیث ہے :عن ابن عباس قال إنما نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الثوب المصمت من الحریر فأما العلم من الحریر وسدی الثوب فلا بأس بہ. ترجمہ: عبداﷲابن عباس رضی اﷲعنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے خالص ریشم کے کپڑے سے منع فرمایا البتہ ریشم کے بیل بوٹے اور کپڑے کاتانا تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ چنانچہ فقہائے کرام نے احادیث مذکورہ کی روشنی میں یہ صراحت کی ہے کہ کپڑے میں ریشم کی پٹی ریشم کا جھالر لگانے اور ریشم کے بیل بوٹے بنانے میں کوئی حرج نہیں۔ جبکہ وہ چارانگلیوں یا اس سے کم مقدار کی ہوں۔ لاباس بالعلم من الحریر فی الثوب اذا کان اربعۃ اصابع اودونھا۔۔۔۔۔۔ الا ان القلیل عفووھو مقدار ثلاثہ اصابع واربع کالاعلام المکفوف بالحریر ۔(زجاجۃ المصابیح ج3 ص183) ریشم کی رضائی‘ توشک‘لحاف کا استعمال مرد کے لئے جائز نہیں ہے ۔ البتہ ریشمی مچھردان کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ وہ پہننے اور اوڑھنے کے حکم میں نہیں ہے۔ ردالمحتار ج5 کتاب الحظر والا باحۃ، فصل فی اللبس ص494 میں ہے :فی القنیۃ استعمال اللحاف من الإبریسم لا یجوز ، لأنہ نوع لبس۔ درمختار‘ ج5‘ ص246 میں ہے :ولاباس بکلۃ الدیباج و فی القاموس الکلۃ بالکسرالستر الرقیق وغشاء رقیق یتوقی بہ من البعوض۔ واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com