***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1284    عصراورمغرب کے درمیان کیا نفل پڑھ سکتے ہیں ؟
مقام : سعودیہ عربیہ,
نام : اشتیاق
سوال:    

مفتی صاحب میں نے آپ سے اطباق ریسٹورنٹ مدینہ منورہ میں ملاقات کی تھی ،میراسوال یہ ہے کہ عصرکی فرض اداکرنے کے بعدمغرب کی نمازسے پہلے کیا نفل پڑھ سکتے ہیں ؟نفل سے مراد یہ ہیکہ مسجدقباء میں عمرہ کی نیت کے دورکعت نفل یا حرم مکہ میں طواف کرنے کے بعددونفل واجب الطواف ۔برائے مہربانی جواب ضرورعنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک‘ نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور زوال آفتاب ، یہ اوقات مکروہ ہیں، ان اوقات میں کوئی بھی نفل نماز نیز دوگانۂ طواف ادا کرنا مکروہ ہے، واضح رہے طواف کے سات چکر مکمل کرنے کے بعد دوگانۂ طواف ادا کرنا واجب ہے۔ لہذانماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک دوگانۂ طواف، مسجد قباء کی دوگانہ یا کوئی بھی نفل نماز ادانہ کریں،وقت مکروہ گذرنے کے بعد ادا کی جاسکتی ہے ۔ درمختار ج 2ص 184میں ہے یکرہ عندھما الجمع بین اسبوعین او اکثربلاصلوۃ بینھما۔ ۔ ۔ والخلاف فی غیر وقت الکراھۃ امافیہ فلایکرہ اجماعا و یؤخر الصلوۃ الی وقت مباح ۔ ۔ ۔ وعلیہ لکل اسبوع رکعتان ۔
واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com