***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1291    تنعیم اہل حل کی میقات‘ مرد و عورت ہر دو کے لئے
مقام : انڈیا,
نام : محمد مقتدر احمد صابری
سوال:    

السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد تنعیم جو حدود حرم کے باہر ہے‘ جہاں پر لوگ عمرہ کا احرام باندھنے جاتے ہیں جس کو بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ میقات صرف خواتین کے لئے ہے‘ وہاں سے مرد کا احرام باندھنا صحیح نہیں‘ برائے کرم بتائیں کہ کیا وہاں سے احرام باندھنا صحیح ہے یا غلط؟ اللہ حافظ


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! مکہ مکرمہ کے رہنے والے یا وہ آفاقی جو مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہیں عمرہ کرنا چاہتے ہوں تو ان کے لئے میقات حل ہے‘ وہ حدود حرام کے باہر جاکر حل کے کسی بھی حصہ سے احرام باندھ کر آسکتے ہیں‘ جعرانہ یا تنعیم سے جہاں مسجد عائشہ رضی اللہ عنہا واقع ہے احرام باندھنا افضل ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ووقت المکی للإحرام بالحج الحرم ، وللعمرۃ الحل کذا فی الکافی ، فیخرج الذی یرید العمرۃ إلی الحل من أی جانب شاء کذا فی المحیط والتنعیم أفضل کذا فی الہدایۃ . حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے احرام باندھنے کا حکم فرمایا تاہم یہ حکم خواتین کے لئے خاص نہیں‘ مرد و عورت ہر دو کے لئے یکساں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com