***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1309    درودوسلام کی فضیلت اور اس کا حکم
مقام : حیدرآباد .انڈیا,
نام : فہیم
سوال:    

اگر کوئی سلام اور درود نہیں پڑھے تو کیا کوئی گناہ ہے؟ اگر کوئی سلام اور درود پڑھنے کو گناہ کہے تو اس کا اللہ کے پاس کیا عذاب ہوگا؟


............................................................................
جواب:    

حضوراکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وصحبہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں سلام پیش کرنے کااللہ تعالی نے حکم فرمایا ہے‘ سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہے: إِنَّ اللَّہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیْماً۔ ترجمہ : بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے سب فرشتے نبی (اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں ائےایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔ (سورۃ الاحزاب۔56) فقہاء کرام نے صراحت فرمائی کہ زندگی میں ایک مرتبہ درود شریف پڑھنا فرض ہے اورجب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک ذکر کیا جائے اس مجلس میں درود شریف پڑھنا واجب ہے‘ و نیز دیگر اوقات میں حسب سہولت مستحب ہے‘ درود و سلام پڑھنے والوں کے بے شمار فضائل و برکات ہیں اور دنیا و آخرت میں ان گنت فوائد و ثمرات ہیں۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں حدیث پاک ذکر کی ہے:۔۔۔۔حضرت جبریل علیہ السلام حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضرہوکر عرض گذارہوئے ‘ جس شخص کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ کی خدمت اقدس میں درود نہ بھیجے تو اللہ تعالیٰ اُسے خیر سے دور کردے‘ حضور پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے کہا: اٰمین۔ قال ومن ذکرت عندہ فلم یصل علیک فابعدہ اللہ قلت اٰمین۔ (طبرانی معجم اوسط‘ من بقیۃ من اول اسمہ میم ،من اسمہ موسیٰ‘ حدیث نمبر:8364)۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com