***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1329    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے متعلق من گھڑت باتیں
مقام : india,
نام : محمد اشتیاق قادری
سوال:    

اللہ تعالیٰ اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر رحمتیں نازل فرمائے۔ مفتی صاحب! حال ہی میں شیعہ رافضیوں نے کہا نعوذ باللہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کا گھر جلایا جس میں آپ کے صاحبزادے حضرت امام محسن کا وصال ہوگیا‘ شیعہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے مجبور کیا تھا‘ یہ باتیں کس حد تک درست ہیں؟ کیا یہ واقعات واقعی ہوئے تھے یا رافضیوں کی جانب سے بنائی ہوئی کہانیاں ہیں؟ نعوذ باللہ ان الفاظ سے وہ صحابہ کرام اور اہل بیت کی توہین کرتے ہیں‘ انشاء اللہ امید کرتا ہوں کہ آپ میرے سوالات کے جواب دیں گے۔


............................................................................
جواب:    

سوال میں مذکور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے متعلق واقعات سر تا سر من گھڑت ہیں‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایسا کوئی واقعہ اہل سنت کی کتابوں میں مذکور نہیں۔ تمام صحابہ کرام بشمول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اہل بیت اطہار کا اکرام و احترام کیا کرتے۔ صحیح بخاری شریف میں تفصیلی حدیث ہے مذکور ہے‘ اس کا ایک جز ملاحظہ ہو: حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: والذی نفسی بیدہ لقرابۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احب الی من ان اصل قرابتی۔ ترجمہ: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے‘یقینا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا مجھے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے کہیں زیادہ محبوب وپسندیدہ ہے- (صحیح بخاری شریف‘ کتاب المناقب‘ باب منافقب قرابۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘ حدیث نمبر3435) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com