***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1332    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کرامت سے متعلق ایک روایت کی تحقیق
مقام : کویت,
نام : کاشف
سوال:    

امید کرتا ہوں آپ اللہ عزوجل کے کرم سے ٹھیک ٹھاک ہوں گے ۔ میرا تعلق کویت سے ہے اور کچھ اسلامی فورم پر اسلامی آرٹیکل لکھتا ہوں ۔ کچھ روز پھلے ایک بھائی نے ایک حدیث کوٹ کی اور کہا کہ یہ خدیث ضعیف بلکہ غلط ہے۔ مہربانی فرما کر بتا دیں کہ آیا مندرجہ ذیل حدیث ضیف ہی ہے کہ نہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے ایک لشکر بھیجا اور اسکا سالار ساریہ کو بنایا۔ایک دن جمعہ کے خطبہ کے دوران انہوں نے یکایک یہ پکارنا شروع کردیا ( اے ساریہ پہاڑ،پہاڑ) اس طرح تین مرتبہ کہا-پھر یہ لشکر کا پیغامر مدینہ آیا۔ اور عمر رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کا حال دریافت کیا تو اس نے کہا کہ اے امیر المومنین ہم لوگ شکست کی حالت میں تھے کہ ہم نے یکایک ایک آواز سنی جس نے تین مرتبہ کہا کہ اے ساریہ پہاڑ کی طرف رخ کرو۔ ہم نے پشت پٰہاڑ سے لگادی اور اللہ نے ہمارے دشمن کو شکست دیدی۔لوگوں نے کہا کہ اے امیر المومنین آپ ہی تو تھے جو اسی طرح چیخے تھے۔ لکھنے والا لکھتا ہے کہ یہ واقعہ نبی پاک کے وصال کے 400 سال تک کہیں نہیں ملتا۔ یعنی کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ آپ پلیزاسکے حوالہ جات پرروشنی ڈال دیں۔


............................................................................
جواب:    

آپ نے جو روایت ذکر کی ہے اُسے امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ، امام سیوطی نے جامع الاحادیث میں ، امام علی المتقی الہندی نے کنزل العمال میں ، اور امام ابن حجر عسقلانی نے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابہ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ‘ اس روایت کوحافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الإصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ذکر کرنے کے بعد اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے؛ کنز العمال کا متن ملاحظہ کریں ؛ عن ابن عمر قال: وجه عمر جيشا وأمر عليهم رجلا يدعى سارية فبينما عمر يخطب يوما جعل ينادي: يا سارية الجبل - ثلاثا، ثم قدم رسول الجيش فسأله عمر، فقال: يا أمير المؤمنين! لقينا عدونا فهزمنا، فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتا ينادي: يا سارية الجبل - ثلاثا، فأسندنا ظهورنا إلى الجبل فهزمهم الله، فقيل لعمر: إنك كنت تصيح بذلك. "ابن الأعرابي في كرامات الأولياء والديرعاقولي في فوائده وأبو عبد الرحمن السلمي في الأربعين وأبو نعيم عق معا في الدلائل واللالكائي في السنة، كر، قال الحافظ ابن حجر في الإصابة: إسناده حسن". ترجمہ :حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کو روانہ فرمایا: اور حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو اُس لشکر کا سپہ سالار بنایا ، ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ کے درمیان یہ نداء دی کہ یا ساریۃ الجبل ، ائے ساریہ پہاڑ کے دامن میں ہوجاؤ ۔ یہ آپ نے تین دفعہ فرمایا ۔ جب لشکر کی جانب سے قاصد آیاتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہاں کا حال دریافت کیا ؟ اُس نے کہا : ائے امیر المؤمنین ہم نے دشمن سے مقابلہ کیا تو وہ ہمیں شکست دے ہی چکے تھے کہ اچانک ہم نے ایک آواز سنی ، ائے ساریہ پہاڑ کے دامن میں ہوجاؤ ۔ پس ہم نے اپنی پیٹھ پہاڑ کی جانب کرلی تو اللہ تعالی نے دشمنوں کو شکست دے دی ۔ عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی عرض کیا گیا کہ بیشک وہ آواز دینے والے آپ ہی تھے ۔ (دلائل النبوة للبيهقي،حديث نمبر:2655) (جامع الأحاديث للسيوطي،حرف الياء ،فسم الافعال،مسند عمر بن الخطاب، حديث نمبر:28657) (كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال لعلي المتقي الهندي،حرف الفاء ، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، حديث نمبر:35788) (الإصابة في معرفة الصحابة،لابن حجر العسقلاني،القسم الأول ،السين بعدها الألف) اس روایت کوحافظ ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب الإصابة في معرفة الصحابة میں ذکر کرنے کے بعد اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com