***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1347    عشاء کے بعد رات دیر تک گفتگو کرنا
مقام : یاقوت پورہ ,انڈیا,
نام : حافظ عبد السلام
سوال:    

آج کل معاشرے میں یہ عام ہوگیا کہ دیر رات تک جاگتے ہیں بعض تو تقاریب وغیرہ میں جاگتے ہیں اور وقت ضائع کرتے ہیں اور بعض دوستوں کے ساتھ اور دیگر بیکار چیزوں میں اپنے قیمتی اوقات صرف کرتے ہیں! شرعی لحاظ سے اس طرف رہنمائی کریں ۔


............................................................................
جواب:    

وقت ایک نہایت قیمتی اور بیش بہا نعمت ہے جو ایک مرتبہ فوت ہوگئی تو دوبارہ اس کا حصول محال ہے ۔ رات دیر تک جاگنے سے وقت ضائع ہوتاہے جبکہ وقت کی حفاظت کرنے اور اس کو غنیمت جاننے کی اسلام میں سخت تاکید کی گئی ۔ مشکوۃ المصابیح ص 443 میں ہے ’’ عن عمربن میمون الاودی قال قال رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم لرجل و ھو یعظہ اغتنم خمساً قبل خمس ‘ شبابک قبل ھرمک ‘ و صحتک قبل سقمک ‘ و غناک قبل فقرک و فراغک قبل شغلک و حیوتک قبل موتک رواہ الترمذی مرسلاً‘‘ حضرت عمر بن میمون اودی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا تم پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو ۔ اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ‘ تندرستی کو بیماری سے پہلے ‘ تونگری کو محتاجی سے پہلے ‘ فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے ۔ رات میں دیر تک جاگنا طبی نقطہ نظر سے بھی انسان کیلئے کئی نقصانات کا باعث ہے ۔ اسی لئے نماز عشاء کے بعد بے ضرورت گفتگو سے منع کیا گیا ۔ بخاری شریف ج 1 ص 80 میں ہے ’’ عن ابی برزۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یکرہ النوم قبل العشاء والحدیث بعدھا ‘‘ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے کواور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے ۔ نماز عشاء کے بعد محو گفتگو رہنا مکروہ ہے ۔ البتہ ذکر و شغل ‘عبادت و ریاضت ‘ مہمان کی ضیافت کیلئے یا حصول علم کے لئے جاگنا یا ضروری اور دینی امور میں گفتگو کرنا مکروہ نہیں ہے ۔ عمومی طور پر عشاء کے بعد گفتگو میں لگے ہوئے رہنے کواس لئے مکروہ کہا ہے کہ بسا اوقات یہ لا یعنی ‘لغو اور بے کار چیزوں کا سبب بنتا ہے ۔ اور کبھی نماز فجر اور تہجد گزار کیلئے تہجد کے فوت ہونے کا باعث ہوتا ہے البتہ کسی ضرورت کی بناء رات میں جاگنے یا کسی سے گفتگو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ تقاریب وغیرہ میں شرکت کیلئے کچھ جاگنا پڑرہا ہے تو اس میں مضائقہ نہیں ۔ تقاریب میں مدعو کئے جانے پر شرکت کرنا ایک پسندیدہ ‘ مستحسن اور مسنون عمل ہے ۔در مختار ج 1 ص 341 میں ہے ’’ و یکرہ النوم قبلھا والحدیث بعد ھا لنھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عنھما الا حدیثا فی خیر لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام لا سمر بعد العشاء یعنی العشاء الآخرۃ و انما کرہ الحدیث بعدھا لانہ ربما یؤدی الی اللغو والی تفویت الصباح او قیام اللیل لمن لہ عادۃ بہ و اذا کان لحاجۃ مھمۃ لا بأس واللہ اعلم بالصواب– سیدضیاءالدین عفی عنہ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com