***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > عاریت کا بیان

Share |
سرخی : f 1358    عاریۃً لی ہوئی چیز دوسرے کو دینے کا حکم
مقام : گلبرگہ ,
نام : مجیب خان
سوال:     لوگ دوستانہ ماحول میں اور رشتہ داروں کے درمیان ضرورت کی چیزیں استعمال کے لئے لیتے ہیں اور ضرورت پوری ہونے کے بعد واپس کردیتے ہیں ، بعض وقت ایک چیز کسی سے لے کر استعمال کرتے ہیں کہ دوسرے شخص کو اس چیز کی ضرورت ہوتی ہے ، ایسے وقت کیا ہم اس دوسرے شخص کو استعمال کے لئے دے سکتے ہیں یا جس سے ہم نے استعمال کے لئے لی ہے اُن کی اجازت ضروری ہے ؟ اس طرح کے معاملات ہمارے معاشرہ میں ہوتے ہی رہتے ہیں ، اگر تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں تو مہربانی ہوگی ۔
............................................................................
جواب:     اگر کوئی شخص اپنی مملوکہ چیز کسی کو استعمال کے لئے دیتا ہے تو اصطلاح شرع میں اُسے اعارہ کہتے ہیں ، جس شخص کو کوئی چیز عاریۃً دی جائے وہ اُسے استعمال کرسکتا ہے ، اب رہا یہ سوال کہ کیا اُسے عاریۃً لی ہوئی چیز دوسرے شخص کو دینے کا حق حاصل ہے یا نہیں ؟  
اس سلسلہ میں فقہاء کرام نے تفصیل بیان کی ہے جسے ذیل میں نمبرواری ذکرکیا جاتاہے :
   (1)اگر مالک نے عاریۃً دیتے ہوئے استعمال کی عام اجازت دی ہوتو ظاہر ہے کسی اور شخص کو استفادہ کے لئے دینا شرعاً جائز ہے ۔  
(2) مالک نے یہ کہہ کر دیا کہ دوسرے شخص کو مت دو‘ تو کسی اور کو استعمال کے لئے دینا ‘ جائز نہیں ۔  
جیساکہ ردالمحتار میں ہے : فلو قال لاتدفع لغیرک فدفع فھلک ضمن مطلقاً ۔
(3)مالک نے کوئی چیز عاریۃًدی ، کسی اور کو دینے کے بارے میں ذکر نہیں کیا ‘ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ عاریۃًدی ہوئی چیز اگر استعمال کرنے والے کے بدلنے سے متاثر ہوتی ہوتو دوصورتیں ہوں گی ، یا تو وہ خود استعمال کرے گا ‘یا دوسرے کو استعمال کے لئے دے گا، اگر خود استعمال کرتاہے تو دوسرے کو عاریۃً نہیں دے سکتا اور دوسرے کو دیتاہے تو خود استعمال نہیں کرسکتا ۔ درمختار میں ہے : ( فمن استعار دابۃ أو استأجرہا مطلقا ) بلا تقیید ( یحمل ) ما شاء ( ویعیر لہ ) للحمد ( ویرکب ) عملا بالإطلاق ( وأیا فعل ) أولا ( تعین ) مرادا ( وضمن بغیرہ ) إن عطبت حتی لو ألبس أو أرکب غیرہ لم یرکب بنفسہ بعدہ ہو الصحیح کافی .(ردالمحتار ، کتاب العاریۃ)
(4) مالک نے استعمال کرنے والے کو معین کرکے دی تو اُس چیز کے استعمال کے اعتبار سے حکم ہوگا، اگر استعمال کرنے والے کے بدلنے سے وہ چیز متاثر ہوتی ہوتو دوسرے شخص کو دینا درست نہیں اور اگر متاثرنہیں ہوتی تو دینا درست ہے ۔
درمختار میں ہے : (۔ ۔ ۔ و)ویعیر(مالایختلف ان عین)وان اختلف لاللتفاوت ۔ (رد المحتار،کتاب العاریۃ)
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com