***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1363    بدشگونی کا تصور درست نہیں
مقام : عنبرپیٹھ ، حیدرآباد ، انڈیا,
نام : کریم الدین
سوال:    

بعض لوگ ماہ صفر کی تیرہ تاریخ کوانتہائی منحوس ومصیبت وبلاکادن تصور کرتے ہوئے رات میں سونے کے وقت سرہانے انڈے ، تیل ،دال ،کیلے، بھلاویں وغیرہ رکھتے ہیں اور صبح اس کو خیرات کردیتے ہیں ، میں شریعت کے احکام کی روشنی میں اس کی حقیقت معلوم کرنا چاہتاہوں؟


............................................................................
جواب:    

حضور اکرم نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدشگونی کے خیال کو غلط قراردیااور توہم پرستی کے تصو رکی یکسر نفی فرمادی صحیح بخاری میں حدیث شریف ہے: لَا عَدْوَی وَلَا طِیَرَۃَ وَلَا ہَامَۃَ وَلَا صَفَرَ۔ ۔ ۔ ۔ ترجمہ: کوئی بیماری متعدّی نہیں ہوتی‘بدشگونی جائزنہیں‘ الّو اور صفر کے مہینہ میں کوئی نحوست نہیں! (صحیح البخاری ،کتاب الطب، باب الجذام ، حدیث نمبر:5380) مسلمانو ں کو ایسی بد شگونی سے قطعی طور پر پرہیز کرنا چاہئے ، اور اسی طرح تیرہ تیزی کے نام سے انڈے اورتیل وغیرہ سرہانے رکھنا بھی لغو کام ہے، ان امور سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ قطع نظر اس کے رضائے الہی کی خاطر فقراء ومساکین پر صدقہ وخیرات کرنادیگر مہینوں کی طرح اس ماہ میں بھی جائز ومُستحسن ہے۔ چنانچہ امام بیہقی کی شعب الایمان میں حدیث پاک ہے: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ الصَّدَقَۃَ لَتُطْفِئیُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِیتَۃَ السُّوئِ۔ ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:یقینا صدقہ اورنیکی پروردگار کے غضب کی آگ کوٹھنڈاکرتی ہے اور بری موت کودفع کرتی ہے۔ (جامع الترمذی ، باب فضل الصدقۃ،حدیث نمبر:666۔شعب الایمان للبیہقی ، الصدقۃ تطفیٔ غضب الرب ،حدیث نمبر:3202) جب بھی کوئی شخص مصیبت سے دوچار ہوتو اسے اپنے عمل کا جائزہ لیناچاہئے ، اپنے اعمال میں جہاں کوتاہی واقع ہوئی ہے اسکی اصلاح کرنی چاہئے جہاں لغزش ہوئی ہے اسے سدھارنا چاہئے، توبہ کرکے اللہ تعالیٰ سے رجوع ہوناچاہئے کیونکہ اپنے برے اعمال ہی تمام ترنحوستوں کا باعث ہوتے ہیں ، نیک وصالح بندہ کو بھی زندگی میں مختلف قسم کے مصائب وآلام سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لئے امتحان ہوتا ہے، جولوگ مصائب وآلام کا صبر و استقامت کے ذریعہ مقابلہ کرتے ہیں وہ اس امتحان میں کامیاب ہیں ، جن کے قدم آفات وبلیات کی وجہ سے نہیں لڑکھڑا تے اللہ کی نصرت وحمایت انکے ساتھ ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com