***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1388    اسقاطِ حمل کی شرعی حیثیت
مقام : سعودی عرب,
نام : قطب الدین
سوال:    

السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ! میرا سوال اسقاطِ حمل سے متعلق ہے ، ایک خاتون طبی وجہ سے اسقاط حمل کروانا چاہتی ہے وہ کس مدت حمل تک کرواسکتی ہے ؟نطفہ میں روح کب آتی ہے؟ قرآن و حدیث کے حوالہ سے بیان فرمائیں، مہربانی ہوگی ، یہ بھی بیان فرمائیں کہ کس حدتک مجبوری کی صورت میں حمل گرایا جاسکتاہے؟۔


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ! رحم مادر میں جنین میں روح پھونکی جانے کے بعد اس کو ساقط کرنا ممنوع و ناجائز ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا،ارشاد الٰہی ہے: وَلاَ تَقْتُلُوْا أَوْلادَکُمْ خَشْیَۃَ إِمْلاقٍ۔ ترجمہ: اور تم تنگدستی کے اندیشہ سے اپنی اولاد کو قتل مت کرو ۔(سورۂ بنی اسرائیل، 31) ۔ روح پیدا ہونے سے پہلے حمل ساقط کرنا بھی انجام کے لحاظ سے قتل کی مانند ہے، لہٰذا بلاوجہ یہ بھی ممنوع و ناجائز ہی ہے۔ روح کب پیدا ہوتی ہے اس سے متعلق صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک وارد ہے : حدثنا عبد اللہ حدثنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وہو الصادق المصدوق إن أحدکم یجمع فی بطن أمہ أربعین یوما ثم یکون علقۃ مثل ذلک ثم یکون مضغۃ مثل ذلک ثم یبعث اللہ إلیہ ملکا بأربع کلمات فیکتب عملہ وأجلہ ورزقہ وشقی أم سعید ثم ینفخ فیہ الروح- ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا سچے مصدوق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :یقینا تم میں سے کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ کی شکل میں رہتا ہے، پھر چالیس دن منجمد خون کی شکل میں رہتا ہے، پھر چالیس دن لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار کلمات کے ساتھ ایک فرشتہ بھیجتا ہے، وہ فرشتہ اس کا عمل، اس کی عمر، اس کا رزق لکھتا ہے اور یہ لکھتا ہے کہ وہ نیک بخت ہے یا بدبخت، پھر اس میں روح پھونکتا ہے۔ (صحیح البخاری ،کتاب الانبیائ، حدیث نمبر: 3036) اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سو بیس (120) دن میں روح ڈالی جاتی ہے، روح پھونکے جانے سے پہلے جبکہ حمل منجمد خون کی شکل میں ہو یا لوتھڑے کی حالت میں ہو تو حمل ساقط کرنے کی گنجائش چند اعذار کی بناء پر ہوسکتی ہے، مثلاً ماں انتہائی جسمانی کمزوری سے دوچار ہو ، حمل کا بوجھ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی یا حاملہ یا بچہ کی جان جانے کا خطرہ ہویادودھ کی کمی کی وجہ سے موجودہ بچہ کی جان کو خطرہ ہو اور شوہر معاشی اعتبار سے دودھ کے لئے کوئی اور انتظام نہ کرسکتا ہو۔ ان صورتوں میں ایک سو بیس دن کی مدت سے پہلے اسقاط حمل کی گنجائش اس وقت نکل سکتی ہے جب کہ کوئی ماہر ڈاکٹر یہ تجویز پیش کرے ۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری ج5ص356میں ہے : امرأۃ مرضعۃ ظہر بہا حبل وانقطع لبنہا وتخاف علی ولدہا الہلاک ولیس لأبی ہذا الولد سعۃ حتی یستأجر الظئر یباح لہا أن تعالج فی استنزال الدم ما دام نطفۃ أو مضغۃ أو علقۃ لم یخلق لہ عضو وخلقہ لا یستبین إلا بعد مائۃ وعشرین یوما أربعون نطفۃ وأربعون علقۃ وأربعون مضغۃ کذا فی خزانۃ المفتین. رد المحتار ج5ص305 میں ہے: یباح لہا أن تعالج فی استنزال الدم ما دام الحمل مضغۃ أو علقۃ ولم یخلق لہ عضو وقدروا تلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما وإنما أباحوا ذلک لأنہ لیس بآدمی . واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com