***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1407    سترہ کس مقام پر نصب کیا جائے؟
مقام : اندھرا پردیش ، انڈیا,
نام : ارشد
سوال:    

نمازی کے سامنے جو سترہ لگایا جاتا ہے اس کے بارے میں ،میں نے سنا ہے کہ نمازی کے بالکل سامنے نہیں رہنا چائیے ،کیا یہ صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے کو پھر سترہ کس مقام پر رکھنا چاہئے؟ مہربانی فرماکر بتلائے۔ جزاک اللہ خیرا۔


............................................................................
جواب:    

سترہ کے منجملہ آداب کے یہ ہے کہ سترہ نمازی کے بالکل سامنے نہ رہے بلکہ دائیں یا بائیں جانب ہو چنانچہ سنن ابو داود میں حدیث پاک ہے: : عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهَا قَالَ مَا رَاَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَي عُودٍ وَلاَ عَمُودٍ وَلاَ شَجَرَةٍ إِلاَّ جَعَلَهُ عَلَي حَاجِبِهِ الأَيْمَنِ أَوِ الأَيْسَرِ وَلاَ يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًا۔ ترجمہ:حضرت ضباعہ بنت مقداد رضی اللہ تعالی عنہا اپنے والد سیدنا مقداد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا : میں نے دیکھا جب بھی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وسلم کسی لکڑی، ستون یا درخت کے سامنے نماز ادا فرماتے تو اسے اپنی داہنی جانب یا بائیں جانب نصب کرتے اور اسے بالکل مقابل نہ رکھتے۔ (سنن ابوداود، کتاب الصلاۃ، باب إذا صلی إلی ساریۃ أو نحوہا أین یجعلہا منہ، حدیث نمبر693) البحر الرائق شرح کنز الدقائق ،کتاب الصلوۃ،باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا میں ہے: العاشر أن السنة أن يجعلها علي أحد حاجبيه لحديث أبي داود عن المقداد بن الأسود ۔۔۔۔ أي لا يقابله مستويا مستقيما بل کان يميل عنه کذا في المغرب. (البحر الرائق شرح کنز الدقائق ،کتاب الصلوۃ،باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج2،ص31) واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com