***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1432    کیا طلاق کے لئے لفظ ’’طلاق‘‘ کا استعمال ضروری ہے؟
مقام : ,
نام : عبدالکریم
سوال:    

کیا طلاق دینے کے لئے لفظ ’’طلاق‘‘ کا استعمال ضروری ہے؟


............................................................................
جواب:    

بیوی کو نکاح سے جدا کرنے کے لئے لفظ طلاق استعمال کیا جائے تو اس کو طلاق صریح کہتے ہیں لفظ طلاق کہنے سے نیت کے بغیر بھی طلاق رجعی واقع ہوجاتی ہے‘ طلاق کے علاوہ عدیگر الفاظ استعمال کئے جائیں تو بعض صورتوں میں نیت کے ساتھ طلاق واقع ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں شوہر اور بیوی کے احوال کے اعتبارسے حکم مرتب ہوتاہے ،کسی صورت کے متعلق دریافت کیا جائے تو تفصیل بیان کی جائے گی ۔فتاویٰ عالمگیری کتاب الطلاق الفصل الاول فی الطلاق الصریح میں ہے: کانت طالق و مطلقۃ و طلقتک تقع واحدۃ رجعیۃ و ان نوی الاکثر او الابانۃ او لم ینو شیئاً کذا فی الکنز۔ فتاوی عالمگیری کتاب الطلاق الفصل الخامس فی الکنایات میں ہے الطلاق الا بالنیۃ او بدلالۃ حال کذا فی الجوھرۃ النیرۃ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com