***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1440    بحالت روزہ ٹوتھ پاوڈر یا ٹوتھ پیسٹ کا استعمال
مقام : ,
نام : خالد حسین
سوال:    

رمضان شریف کے دنوں میں سحری کے لئے مناسب وقت بیدار ہوجانا بعض اوقات دشوار ہوتا ہے ۔ اسی لئے کبھی بیدار ہونے میں تاخیر ہوجاتی ہے اور اتنا وقت نہیں رہتا کہ ٹوتھ پیسٹ یا ٹوتھ پاوڈر کا استعمال کیا جاسکے ۔ ایسی صورت میں کیا بعد نمازِ فجر حسب سہولت ٹوتھ پاوڈر یا ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کیا جاسکتا ہے ؟


............................................................................
جواب:    

روزہ میں مسواک کے علاوہ بلا عذر شرعی ٹوتھ پیسٹ یا پاوڈر وغیرہ کا استعمال کرنا مکروہ ہے؛ کیو ںکہ اس میں ایک قسم کا ذائقہ بھی ہوتا ہے۔ اگر بحالت روزہ احتیاط کے ساتھ ان کو استعمال کیا جائے تب بھی کراہت سے خالی نہیں ہے اور اگر کچھ ذرات حلق میں چلے جائیں تو روزہ فاسد ہوجاتا ہے ۔ لہذا ٹوتھ پیسٹ ‘ٹوتھ پاوڈر یا منجن ہرگز استعمال نہ کریں ۔ فتاوی عالمگیری ج 1ص 199 میں ہے ۔ وکرہ ذوق شیء ۔ روزہ کی حالت میں ٹوتھ پاوڈر یا ٹوتھ پیسٹ کے بجائے مسواک کا استعمال کرنا مسنون و مستحب ہے بلکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت روزہ مسواک کے استعمال کو روزہ دار کی بہترین صفت قرار دیا ہے ۔ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال خیرخلال الصائم السواک۔ ترجمہ:حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روزہ دار کی بہترین صفت مسواک کرنا ہے ۔ (بدائع الصنائع ج 1 ص 269) فتاوی عالمگیری ج 1ص 199 میں ہے:ولا باس بالرطب والیابس فی الغداوۃ والعشی۔ترجمہ : روزہ دار کے لئے صبح و شام تریا خشک مسواک استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مسواک استعمال کرنے کے متعدد فضائل اور طبی نقطہ نظر سے کئی ایک فوائد ہیں ۔ مسواک کا ادنیٰ فائدہ یہ ہے کہ منہ کی بو دور ہوجاتی ہے اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے ۔ جیساکہ درمختار ج 1ص 85میں ہے :ادناہ اماطۃ الاذی واعلاہ تذکیر الشھادۃ عندالموت ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com