***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1463    پلاٹینم (platinum) کی انگوٹھی کا حکم
مقام : UK,
نام : شہزادی خانم
سوال:    

میں پلاٹینم کے بارے میں سوال کرنا چاہتی ہوں، جس طرح مرد کے لئے چاندی کی انگوٹھی اور عورت کیلئے تمام زیورات کی اجازت ہے کیا اسی طرح مرد وعورت پلاٹینم کی انگوٹھی پہن سکتے ہیں؟ اسلام اس کی کہاں تک اجازت دیتا ہے؟


............................................................................
جواب:    

پلاٹینم کی کوئی چیز مستقل طور پر پہننا مرد وعورت دونوں کے لئے مکروہ ہے ، اگر پلاٹینم پر چاندی اس طرح چڑھادی جائے کہ چاندی ہی نظر آئے تو خواتین کے لئے اس کا استعمال شرعًا درست ہے مرد حضرات کے لئے نہیں ۔ مرد حضرات کے لئے ایک مثقال سے کم مقدار والی چاندی کی انگوٹھی پہننا جائزہے، ایک مثقال 3.03775گرام کا ہوتا ہے، چاندی کی مذکورہ مقدار کے علاوہ کسی بھی دھات کی کوئی چیز مرد حضرات کے لئے جائز نہیں۔

 

        چنانچہ مسند امام احمد میں حدیث پاک ہے :عن عبد اللہ بن بریدۃ عن أبیہ قال رأی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ید رجل خاتما من ذہب فقال ما لک ولحلی أہل الجنۃ ۔ قال فجاء وقد لبس خاتما من صفر فقال  أجد منک ریح أہل الأصنام .قال فمم أتخذہ یا رسول اللہ قال  من فضۃ.

 

        ترجمہ : حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، اُنہوں نے فرمایا: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو فرمایا: تمہیں (دنیا میں ) اہل جنت کے زیور سے کیا تعلق؟ راوی کہتے ہیں : پھر وہ صاحب اس حال میں حاضر ہوئے کہ پیتل کی انگوٹھی پہنی تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے بتوں کو پوجنے والوں کی بو پاتاہوں ، اُنہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں کس چیز کی انگوٹھی بناؤں ؟ فرمایا: چاندی کی ۔ (مسند احمد ، حدیث بریدۃ الاسلمی ، حدیث نمبر:23736)

 

        ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی اللبس میں ہے: وفی الجوہرۃ والتختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجل والنساء۔ ۔ ۔  لا بأس بأن یتخذ خاتم حدید قد لوی علیہ فضۃ وألبس بفضۃ حتی لا یری تتارخانیۃ۔ نیز بدائع الصنائع کتاب الاستحسان میں ہے: ( وأما ) التختم بما سوی الذہب والفضۃ من الحدید والنحاس والصفر فمکروہ للرجال والنساء جمیعا لأنہ زی أہل النار لما روینا من الحدیث.

 

 واللہ اعلم بالصواب ۔ 
سیدضیاءالدین عفی عنہ ، 
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، 
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com 
حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com